• گلگت و بلتستان کی عوام اس وقت شدیدمعاشی مشکلات سے دوچارہے
  • حکومـــت بجــٹ میں عوامی مسائــل پر توجہ دے علامہ شبیر حسن میثمی
  • جی 20 کانفرنس منعقد کرنے سے کشمیر کےمظلوم عوام کی آواز کو دبایانہیں جا سکتا
  • پاراچنار میں اساتذہ کی شہادت افسوسناک ہے ادارے حقائق منظر عام پر لائیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • رکن اسمبلی اسلامی تحریک پاکستان ایوب وزیری کی چین میں منعقدہ سیمینار میں شرکت
  • مرکزی سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل پاکستان کا ملتان و ڈیرہ غازی خان کا دورہ
  • گلگت بلتستان کے طلباء کے لیے عید ملن پارٹی کا اہتمام
  • فیصل آباد علامہ شبیر حسن میثمی کا فیصل آباد کا دورہ
  • شہدائے جے ایس او کی قربانی اور ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا مرکزی صدر جے ایس او پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی سے عیسائی پیشوا کی ملاقات

تازه خبریں

ایران مغرب کے مابین حالیہ ایٹمی مذاکرات اور یمن کی تازہ ترین صورتحال پرقائد انقلاب اسلامی کا تاریخی خطاب

جعفریہ پریس- قائد انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے یوم ولادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی مناسبت سے خواتین، شعرا اور ذاکرین اہل بیت علیہم السلام سے ملاقات میں بنت رسول کے یوم ولادت کی مبارکباد پیش کی اور ایٹمی مذاکرات اور یمن کے واقعات کے سلسلے میں انتہائی کلیدی نکات بیان کئے۔
قائد انقلاب اسلامی نے اپنی گفتگو کا آغاز اس تمہید سے کیا کہ بعض افراد یہ سوال کر رہے ہیں کہ قائد انقلاب اسلامی نے حالیہ ایٹمی مذاکرات کے سلسلے میں کسی موقف کا اظہار کیوں نہیں کیا۔ آپ نے فرمایا: قائد انقلاب کی جانب سے موقف کا اظہار نہ کئے جانے کی وجہ یہ ہے کہ کسی موقف کے اظہار کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ملک کے حکام اور ایٹمی امور کے ذمہ دار افراد یہ کہہ رہے ہیں کہ ابھی کام انجام نہیں پایا ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان کوئی بھی موضوع لازم الاجراء ہونے کی حد تک نہیں پہنچا ہے۔ ایسی صورت حال میں کسی موقف کے اظہار کی ضرورت نہیں ہےاور اگر مجھ سے یہ پوچھا جائے کہ آپ حالیہ ایٹمی مذاکرات سے اتفاق رکھتے ہیں یہ اختلاف؟ تو میں یہی کہوں گا کہ نہ موافق ہوں اور نہ مخالف، کیونکہ ابھی کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔ مشکلات کا آغاز وہاں سے ہوگا جہاں تفصیلات اور جزوی امور کے بارے میں بحث شروع ہوگی کیونکہ مد مقابل فریق ضدی، عہد شکن، بد دیانت اور پیٹھ میں خنجر گھونپنے والا ہے اور عین ممکن ہے کہ تفصیلات کے بارے میں بحث کا آغاز ہونے کے بعد ملک، قوم اور مذاکرات کاروں کو گھیرنے کی کوشش کی جائے۔ اب تک جو کچھ ہوا ہے اس سے نہ تو معاہدے کی، نہ ہی معاہدے پر منتج ہونے والی مذاکرات کی اور نہ ہی معاہدے کے مندرجات کی کسی بھی چیز کی ضمانت نہیں ملتی لہذا مبارکباد پیش کرنے کا کوئی مفہوم نہیں ہے۔
قائد انقلاب اسلامی نے اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے چند نکات کی جانب اشارہ کیا۔ آپ نے فرمایا: امریکا سے مذاکرات کے سلسلے میں میں کبھی بھی پرامید نہیں رہا اور اس کی وجہ کوئی توہم نہیں بلکہ اس بارے میں اب تک حاصل ہونے والے تجربات ہیں۔جب مستقبل میں مسائل و واقعات کی تفصیلات اسی طرح ان دنوں انجام پانے والے ایٹمی مذاکرات کے تحریری نوٹس منظر عام پر آئے تو سب کو معلوم ہو جائے گا کہ ہمیں یہ تجربہ کہاں سے حاصل ہوا ہے؟ :
آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا: میں امریکا سے مذاکرات کے سلسلے میں پرامید نہیں تھا لیکن پھر بھی میں نے اس مسئلے میں مذاکرات کی بھرپور حمایت کی اور آگے بھی ملت ایران کے وقار کا تحفظ کرنے والے معاہدے کی سو فیصدی حمایت کروں گا، چنانچہ اگر کوئی کہتا ہے کہ قائد انقلاب اسلامی معاہدہ کئے جانے کے مخالف ہیں تو یہ بات خلاف حقیقت ہے۔
آپ نے زور دیکر کہا کہ وہ ایران اور ایرانی عوام کے مفادات کو پورا کرنے والے معاہدے کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: البتہ میں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ برے معاہدے سے بہتر ہے کہ معاہدہ نہ کیا جائے کیونکہ ملت ایران کے مفادات کو پامال اور قوم کے وقار کو مجروح کرنے والے معاہدے کو مسترد کر دینا اس معاہدے سے برتر ہے جو ملت ایران کی تحقیر کا باعث بنے۔ اس سلسلے میں ایک اہم ابہام کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ بعض اوقات یہ کہا جاتا ہے کہ مذاکرات کی تمام تفصیلات پر قائد انقلاب کی پوری نظر ہے، جبکہ یہ بات من و عن درست نہیں ہے۔ قائد انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ میں مذاکرات کے سلسلے میں لا تعلق نہیں ہوں مگر اب تک میں نے مذاکرات کے جزوی امور میں مداخلت نہیں کی ہے اور آئندہ بھی فروعات میں مداخلت نہیں کروں گا۔ میں نے بنیادی مسائل، اصلی خطوط، پیرائے اور ریڈ لائنوں سے بنیادی طور پر صدر محترم کو اور انتہائی محدود موارد میں وزیر خارجہ کو آگاہ کر دیا ہے تاہم فروعات اور جزوی امور انہیں کے اختیار میں ہیں۔ مذاکرات انجام دینے والوں پر مجھے اعتماد ہے اور تاحال ان کی نسبت مجھے کوئی شک و تردد نہیں رہا اور ان شاء اللہ آئندہ بھی ایسا ہی رہے گا تاہم ایٹمی مذاکرات کے سلسلے میں مجھے گہری تشویش ہےاور تشویش کی اصلی وجہ مد مقابل فریق ہے جو فریب دہی، دروغ گوئی، عہد شکنی اور صحیح راستے کے برخلاف حرکت کرنے کا عادی ہے۔ آپ نے فرمایا: اس روکا ایک نمونہ حالیہ مذاکرات کے تعلق سے دیکھنے میں آیا جب وائٹ ہاؤس نے مذاکرات کے اختتام کے تقریبا دو گھنٹے بعد مذاکرات کی تشریح پر مبنی چند صفحات کا اعلامیہ جاری کیا جس میں اکثر باتیں خلاف واقع تھیں۔
آپ نے فرمایا: دو گھنٹے کے اندر اس طرح کے اعلامئے کی نگارش ممکن نہیں ہے، بنابریں اسی دوران جب وہ ہم سے مذاکرات کر رہے تھے، اس مخدوش، غلط اور مذاکرات کے اصلی مضمون کے برخلاف اعلامیئے کی تدوین میں بھی مصروف تھے۔ اسی طرح ایک اور نمونہ یہ ہے کہ ہر دور کے مذاکرات کے بعد وہ پہلے اعلانیہ بیان دیتے ہیں اور پھر نجی طور پر بات کرتے ہیں، یہ بیان ملک کے اندر اپنی ساکھ بچانے اور مخالفین کا منہ بند کرنے کے لئے ہوتی ہیں جبکہ ان مسائل کا ہم سے کوئی ربط ہی نہیں ہے۔ وہ لوگ اسی معروف ضرب المثل کے مطابق کہ ‘کافر ہمہ را بہ کیش خود پندارد’ یہ فرماتے ہیں کہ اگر ایران میں قائد انقلاب بھی مذاکرات کی مخالفت کریں تو ان کی یہ بات زمینی سچائی کے مطابق نہیں ہوگی بلکہ وہ داخلی طور پر اپنی عزت بچانے کے لئے یہ مخالفت کریں گے، حالانکہ ان (امریکیوں) کو ایران کے اندر کے حالات کا کوئی ادراک ہی نہیں ہے۔
آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے کہا کہ قائد انقلاب کی عوام سے ہر گفتگو باہمی اعتماد کی بنیاد پر ہوتی ہے اور جس طرح عوام کو اس بندہ حقیر پر اعتماد ہے اسی طرح مجھے بھی عوام پر پورا بھروسہ ہے اور میرا عقیدہ ہے کہ دست خدا ہمیشہ ان عوام کا مددگار رہا ہے۔  بائیس بہمن (مطابق 11 فروری اسلامی انقلاب کی سالگرہ) کی شدید سردی میں اور ماہ رمضان کی شدید گرمی میں یوم قدس کے موقع پرعوام کی بھرپور شراکت، اس بات کی علامت ہے کہ دست خدا ان عوام کے سروں پر ہے اور اسی لئے ان عوام پر ہمیں پورا بھروسہ ہے اورعوام سے ہماری گفتگو اسی جذبے، صداقت اور بصیرت کے تناظر میں ہوتی ہے۔
قائد انقلاب اسلامی نے زور دیکر کہا کہ مجھے مذاکرات کے آئندہ ادوار میں مد مقابل فریق کے طرز سلوک کی بابت تشویش ہے۔ آپ نے ایٹمی مذاکرات کے سلسلے میں بعض موافقتوں اور مخالفتوں کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اس معاملے میں بالکل مبالغہ آرائی اور عجلت پسندی نہیں ہونی چاہئے بلکہ صبر کے ساتھ انتظار کرنا چاہئے کہ سرانجام کیا ہوتا ہے۔ حکام عوام کو اور خاص طور پر اہم شخصیات کو مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ کریں اور انہیں حقائق سے باخبر کریں کیونکہ اس میں کوئی رازداری کی بات نہیں ہے۔ عوام اور اہم شخصیات کو ایٹمی مذاکرات کی تفصیلات سے باخبر کرنا عوام سے حکام کی ہمدلی کا مصداق ہوگا۔  ہمدلی کوئی ایسی شئے نہیں کہ جس کا حکم جاری کیا جائے، بلکہ اسے وجود میں لانا اور پروان چڑھانا پڑتا ہے اور موجودہ حالات عوام سے ہمدلی پیدا کرنے کے لئے بہت مناسب حالات ہیں۔ حکام کو چاہئےجو سچے اور قومی مفادات سے گہرا لگاؤ رکھنے والے افراد ہیں، انہیں چاہئے کہ مذاکرات کے اہم ناقدین کو دعوت دیں اور ان سے گفتگو کریں، اگر ان کی باتوں میں کوئی اہم نکتہ نظر آئے تو اسے مذاکرات کو بہتر انداز میں آگے لے جانے کے لئے استعمال کریں اور اگر کوئی اہم نکتہ نہ ہو تو انہیں مطمئین کریں۔  یہ ہمدلی اور دلوں اور افعال میں یکسانیت و یگانگت پیدا کرنے کا عینی مصداق ہے۔  ممکن ہے کہ حکام یہ کہیں کہ حتمی معاہدے کے لئے صرف تین مہینے کی مہلت ہونے کی وجہ سے ناقدین کی باتیں سننے اور ان سے بحث کرنے کی فرصت نہیں ہے، مگر جواب میں یہ کہنا چاہئے کہ یہ تین مہینے کی مہلت ایسا موضوع نہیں ہے کہ جس میں کوئی تبدیلی نہ کی جا سکتی ہو، چنانچہ اگر اس مدت میں توسیع کی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، جیسا کہ مد مقابل فریق نے مذاکرات کے ایک مرحلے میں سات مہینے کے لئے اسے ملتوی کر دیا تھا۔
قائد انقلاب اسلامی نے ایک بار پھر یہ بات زور دیکر کہی کہ امریکیوں سے مذاکرات صرف ایٹمی مسئلے میں ہو رہے ہیں، کسی اور مسئلے میں کوئی گفتگو نہیں ہو رہی ہے۔ آپ نے فرمایا:  البتہ ایٹمی مسئلے میں مذاکرات ایک تجربہ ہے۔ اگر مد مقابل فریق اپنی کج فکری سے باز آ جائے تو ممکن ہے کہ اس تجربے کو دیگر مسائل میں دہرایا جائے، لیکن اگر اس کی کج فکری جاری رہی تو امریکا پر بے اعتمادی کے سلسلے میں ہمارا سابقہ تجربہ اور بھی مستحکم ہو جائے گا۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے مد مقابل فریق کو عالمی برادری قرار دینے پر مبنی بعض بیانوں پر اعتراض کرتے ہوئے فرمایا کہ ملت ایران کا مد مقابل فریق جو عہد شکنی کرتا ہے وہ امریکا اور تین یورپی ممالک ہیں، عالمی برادری نہیں، عالمی برادری تو وہی ڈیڑھ سو ممالک ہیں جن کے سربراہان اور اعلی نمائندوں نے چند سال قبل تہران میں ناوابستہ تحریک کے اجلاس میں شرکت کی، چنانچہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ ہمارا مد مقابل فریق عالمی برادری ہے اور اسے ہم پر اعتماد ہونا چاہئے، لا یعنی بات ہے۔
قائد انقلاب اسلامی نے اس کے بعد ان چیزوں کا ذکر کیا جن کا مطالبہ آپ نے ایٹمی مسئلے سے متعلق عہدیداروں کے ساتھ نجی نشستوں میں کیا۔ آپ نے فرمایا کہ میری تاکید یہ ہے کہ حکام ایٹمی شعبے میں حاصل ہونے والی اب تک کی کامیابیوں کو انتہائی اہم سمجھیں اور انہیں کم ارزش اور معمولی نہ گردانیں۔ آپ نے زور دیکر کہا کہ ایٹمی صنعت ملک کی ایک ضرورت ہے اور بعض روشن خیال نما افراد جو یہ کہتے ہیں کہ ہمیں ایٹمی صنعت کی کیا ضرورت ہے؟ تو یہ بات ایک فریب ہے۔
قائد انقلاب اسلامی نے انرجی، نیوکلیئر میڈیسن، سمندر کے پانی کو میٹھا بنانے اور زراعت جیسے مختلف شعبوں میں ایٹمی صنعت کی ضرورت و افادیت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ملک کی ایٹمی صنعت کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس حد درجہ اہم صنعت تک رسائی، ایرانی نوجوانوں کی صلاحیتوں اور استعداد کے جلوہ گر ہونے کا ثمرہ ہے، بنابریں ایٹمی صنعت میں پیشرفت کا عمل جاری رہنا چاہئے۔
قائد انقلاب اسلامی نے مجرمانہ اقدامات کے مرتکب ہونے والے ملکوں جیسے نیوکلیئر بم کا استعمال کرنے والے امریکا اور خطرناک ایٹمی تجربات کرنے والے فرانس کے دعوؤں اور الزام تراشی کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ وہ ہم پر ایٹمی اسلحہ بنانے کی کوشش کرنے کا الزام لگاتے ہیں، حالانکہ اسلامی جمہوریہ ایران شرعی فتوے کی بنیاد پر اور اسی طرح عقلی اصولوں کی پیروی کرنے کی وجہ سے کبھی بھی ایٹمی ہتھیار کے حصول کے لئے کوشاں نہیں رہا اور نہ ہی کبھی یہ کوشش کرے گا، بلکہ ایران اسے ایک طرح کا درد سر سمجھتا ہے۔
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ مد مقابل فریق پر ہرگز اعتماد نہ کریں۔ آپ نے فرمایا کہ حال ہی میں ہمارے ایک عہدیدار نے کہا کہ ہمیں مد مقابل فریق پر اعتماد نہیں ہے، اس طرح کا موقف بالکل درست ہے۔ قائد انقلاب اسلامی نے زور دیکر کہا کہ مد مفابل فریق کی مسکراہٹ کے فریب میں نہیں آنا چاہئے اور نہ ہی اس کے دلکش وعدوں پر اعتماد کرنا چاہئے۔ قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ حالیہ بیان جاری ہونے کے بعد امریکی صدر کی گفتگو اور موقف اس کا واضح نمونہ ہے۔
قائد انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ حکام سے ان کا ایک اہم مطالبہ یہ ہے کہ پابندیاں یکجا منسوخ کرائی جائیں۔  یہ مسئلہ بہت اہم ہے، پابندیاں معاہدے کے دن ہی مکمل طور پر منسوخ ہو جانی چاہئیں۔
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ اگر پابندیوں کی منسوخی کسی نئے میکینزم سے مربوط کی جانی ہے تو مذاکرات کی بنیاد بے معنی ہوگی کیونکہ مذاکرات کا مقصد ہی پابندیوں کا خاتمہ کرنا ہے۔
قائد انقلاب اسلامی نے ایٹمی مسئلے سے متعلق حکام سے اپنے ایک اور اہم مطالبے کا ذکر کرتے ہوئے نگرانی اور چیکنگ کے مسئلے کو اٹھایا۔ آپ نے فرمایا کہ ہرگز یہ اجازت نہیں دی جانی چاہئے کہ نگرانی کے نام پر ملک کی دفاعی اور سیکورٹی حدود کے قریب کوئی آئے اور ملک کے دفاعی شعبے کے حکام کو بھی کسی بھی حالت میں یہ اجازت نہیں ہے کہ نگرانی اور تحقیق کے نام پر اغیار کو ان حدود کے قریب آنے کا موقع دیں یا ملک کی دفاعی شعبے کی پیشرفت کے عمل کو روکیں۔
قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا: دفاعی شعبے کی توانائی اور فوجی میدان میں ملت ایران کا محکم گھونسا اسی طرح طاقتور بنا رہے اور روز بروز اس کی قوت میں اضافہ ہو۔ اسی طرح مذاکرات کے دوران کسی بھی حالت میں مختلف خطوں میں مزاحمت کرنے والے برادران کی حمایت میں ذرہ برابر خلل اندازی کا موقع نہیں دیا جانا چاہئے۔
قائد انقلاب اسلامی نے ایران کے ایٹمی پروگرام کی نگرانی کے عمل کے سلسلے میں فرمایا: کوئی بھی غیر معمولی نگرانی کا میکینزم جو نظارت کے اعتبار سے ایران کو ایک الگ ملک بنا دے، قابل قبول نہیں ہے بلکہ نگرانی اسی دائرے میں ہونی چاہئے جس دائرے میں دنیا میں عام طور پر انجام دی جاتی ہے، اس سے زیادہ نہیں۔
وطن عزیز کی ایٹمی ٹکنالوجی کا ڈیولپمنٹ جاری رہنے سے متعلق آخری ہدایت دیتے ہوئے قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ مختلف پہلوؤں سے سائنسی اور تکنیکی ترقی کا عمل جاری رہنا چاہئے، البتہ ممکن ہے کہ مذاکراتی ٹیم بعض محدودیتیں قبول کئے جانے کو لازمی سمجھے تو اس پر مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے تاہم ٹکنالوجی کی ترقی کا عمل حتمی طور پر جاری رہے اور پوری قوت کے ساتھ آگے بڑھے۔
قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا: ان مطالبات کی تکمیل مذاکرات کاروں کے ذمے ہے، انہیں چاہئے کہ باخبر اور امین افراد اسی طرح ناقدین کے نظریات اور مشوروں کی مدد سے مذاکرات کا صحیح طریقہ تلاش کریں اور اس کے مطابق عمل کریں۔
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے اس کے بعد اپنی تقریر میں یمن کے انتہائی اہم واقعات کا ذکر کرتے ہوئے زور دیکر کہا کہ یمن کے خلاف جارحیت کرکے سعودیوں نے بہت بڑی غلطی کا ارتکاب کیا ہے اورعلاقے میں بہت بری بدعت کی بنیاد رکھ دی ہے۔
قائد انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ ان دنوں یمن میں سعودی حکومت کے اقدامات غزہ میں صیہونیوں کے جرائم سے مماثلت رکھتے ہیں۔ آپ نے اس مسئلے کے دو انتہائی اہم پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے ملت یمن کے خلاف فوجی کارروائی کو مجرمانہ، نسل کشی اور بین الاقوامی سطح پر قانونی چارہ جوئی کے قابل فعل قرار دیا اور فرمایا کہ کسی ملک کے بچوں کو مارنا، گھروں کو مسمار کرنا بنیادی انفراسٹرکچر اور قومی سرمائے کو نابود کرنا بہت بڑا جرم ہے۔  یقینی طور پر سعودیوں کو اس مسئلے میں نقصان اٹھانا پڑے گا اور وہ کسی بھی حالت میں فتحیاب نہیں ہوں گے اوراس پیشین گوئی کی وجہ بالکل واضح ہے، کیونکہ صیہونیوں کی عسکری توانائی سعودیوں سے کئی گنا زیادہ ہے اور غزہ کا علاقہ بہت چھوٹا سا علاقہ تھا لیکن پھر بھی صیہونی کامیاب نہیں ہو سکے، جبکہ یمن کروڑوں کی آبادی والا ایک وسیع و عریض ملک ہے۔
اس مسئلے میں سعودیوں پر یقینی ضرب پڑے گی اور ان کی درگت بن جائےگی۔
قائد انقلاب اسلامی نے خارجہ سیاست کے میدان میں سعودیوں کے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا: گوناگوں سیاسی مسائل کے بارے میں سعودیوں سے ہمارے اختلافات ہیں لیکن ہم نے ہمیشہ یہ کہا کہ وہ خارجہ سیاست کے میدان میں متانت اور وقار کا ثبوت دیتے ہیں، لیکن چند ناتجربہ کار جوانوں نے اس ملک کے امور اپنے ہاتھ میں لے لئے ہیں اور متانت اور ظاہر داری کے پہلو پر وحشی پنے کے پہلو کا غلبہ ہو رہا ہے اور یہ عمل یقینا انہیں نقصان پہنچائے گا۔
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے سعودی حکومت کو مخاطب کرکے فرمایا : علاقے میں یہ اقدام قابل قبول نہیں ہے اور میں خبردار کرتا ہوں کہ وہ یمن میں مجرمانہ کارروائیاں کرنے سے باز آ جائیں۔
قائد انقلاب اسلامی نے امریکا کی جانب سے سعودی حکومت کی حمایت اور دفاع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ امریکا کی سرشت ہے کہ تمام واقعات میں مظلوم کی حمایت کرنے کے بجائے ظالم کی طرفداری کرتا ہے، لیکن اس مسئلے میں امریکیوں کو بھی مار پڑے گی اور وہ بھی ہزیمت اٹھائیں گے۔
قائد انقلاب اسلامی نے ایران کے خلاف یمن میں مداخلت کے بے بنیاد الزام کا ذکر بھی کیا، آپ نے فرمایا: مجرمانہ کارروائیاں کرنے والے ان کے طیاروں نے یمن کی فضا کو غیر محفوظ بنا دیا ہے اور اس کے بعد بھی یمن میں مداخلت کے لئے احمقانہ بہانے تراشتے ہیں جو اللہ تعالی اور قوموں کی نظر میں اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق بالکل ناقابل قبول ہیں، اور وہ اپنے ان اقدامات کو مداخلت ماننے پر تیار نہیں بلکہ الٹے ایران پر الزام تراشی کرتے ہیں۔
قائد انقلاب اسلامی نے ملت یمن کو قدیم تاریخ رکھنے والی قوم قرار دیا جو اپنی حکومت کا تعین خود کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آپ نے زور دیکر کہا کہ سعودی حکومت کو چاہئے کہ فورا ان المناک جرائم کا سلسلہ بند کرے۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ ملت یمن کے دشمنوں کی پہلے سے منصوبہ بند سازش یہ تھی کہ اقتدار کا خلا پیدا ہو اور یمن میں بھی لیبیا جیسے انتہائی خراب اور کربناک حالات پیدا ہو جائیں۔ آپ نے فرمایا کہ خوشی کا مقام ہے کہ دشمن اپنا یہ ہدف پورا کرنے میں ناکام ہو گیا کیونکہ مومن، ہمدرد اور پختہ عقیدہ رکھنے والے نوجوان جن میں شیعہ، سنی، زیدی اور حنفی سب شامل ہیں، حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی روش پر عمل کرتے ہوئے ڈٹ گئے اور آئندہ بھی استقامت کا یہ سلسلہ جاری رہے گا اور انہیں فتح بھی ملے گی۔