بھارتی سپریم کورٹ کا طلاق ثلاثہ بارے فیصلہ خلاف فقہ ہوسکتاہے ، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی فیصلے کو خلاف شریعہ کہنا درست نہیںکئی مکاتب فکراکٹھے طلاق ثلاثہ کودرست نہیں سمجھتے، قائد ملت جعفریہ پاکستان
اسلام آباد /راولپنڈی 26 اگست 2017 ء( )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ بھارتی سپریم کورٹ کا ایک ہی وقت میں طلاق ثلاثہ بارے فیصلہ خلاف فقہ ہوسکتاہے کئی مکاتب فکر اکٹھے تین طلاق کو درست تصور نہیں کرتے۔
ان خیالات کااظہار انہوںنے بھارتی سپریم کورٹ کے طلاق ثلاثہ کے فیصلے اور اس پر کچھ حلقو ں کی طرف سے آنیوالے رد عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے نکات اور وجوہات کی بنیاد پر طلاق ثلاثہ بارے فیصلہ دیا اس فیصلے کو خلاف فقہ کہا جاسکتاہے چونکہ اسلام میں بہت سے مکاتب فکر ہیں جن کی طلاق کے حوالے سے اپنی اپنی توجیہات اور تشریحات ہیں ، اس لئے طلاق ثلاثہ بارے فیصلے کو خلاف شریعت کہنادرست نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ بہت سے ایسے مکاتب فکر ہیں جو طلاق ثلاثہ کو درست نہیں سمجھتے اوراکٹھے تین بار طلاق دینے کے عمل سے متفق نہیں ہیں البتہ وہ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو اپنی توجیہات سے ہم آہنگ سمجھتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ اگر قرآنی تعلیمات کا بغور جائزہ لیا جائے اور مطالعہ کیا جائے تو اس کی روشنی میں ایک ساتھ طلاق ثلاثہ (تین طلاقیں) درست نہیں ہیں۔
اسلام آباد /راولپنڈی 26 اگست 2017 ء( )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ بھارتی سپریم کورٹ کا ایک ہی وقت میں طلاق ثلاثہ بارے فیصلہ خلاف فقہ ہوسکتاہے کئی مکاتب فکر اکٹھے تین طلاق کو درست تصور نہیں کرتے۔
ان خیالات کااظہار انہوںنے بھارتی سپریم کورٹ کے طلاق ثلاثہ کے فیصلے اور اس پر کچھ حلقو ں کی طرف سے آنیوالے رد عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے نکات اور وجوہات کی بنیاد پر طلاق ثلاثہ بارے فیصلہ دیا اس فیصلے کو خلاف فقہ کہا جاسکتاہے چونکہ اسلام میں بہت سے مکاتب فکر ہیں جن کی طلاق کے حوالے سے اپنی اپنی توجیہات اور تشریحات ہیں ، اس لئے طلاق ثلاثہ بارے فیصلے کو خلاف شریعت کہنادرست نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ بہت سے ایسے مکاتب فکر ہیں جو طلاق ثلاثہ کو درست نہیں سمجھتے اوراکٹھے تین بار طلاق دینے کے عمل سے متفق نہیں ہیں البتہ وہ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو اپنی توجیہات سے ہم آہنگ سمجھتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ اگر قرآنی تعلیمات کا بغور جائزہ لیا جائے اور مطالعہ کیا جائے تو اس کی روشنی میں ایک ساتھ طلاق ثلاثہ (تین طلاقیں) درست نہیں ہیں۔