بیت المقدس کے بارے امریکی اعلان کھلی و ننگی جارحیت، خود سری، اور بین الاقوامی اقدار کی نفی ہے، قائد ملت پاکستان معاملے پر پارلیمنٹ کاہنگامی مشترکہ اجلاس بلاکر عوامی امنگوں کے مطابق قومی پالیسی کا اعلان کیا جائے اوآئی سی اجلاس بلایا جانا خوش آئند،معاملے پر امہ متفقہ اورحتمی فیصلہ کرے ،قائد ملت جعفریہ پاکستان اسلام آباد07 دسمبر 2017 ء( دفتر قائد )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے مقبوضہ بیت المقدس کوصیہونی دارالحکومت ماننے کے امریکی اعلان کو مسترد کرتے ہوئے اسے کھلی و ننگی جارحیت، خود سری اورتمام بین الاقوامی اقدار کی نفی قرار دیدیا، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کراس گھمبیر مسئلہ پرعوامی امنگوں کے مطابق قومی پالیسی کا اعلان کیا جائے جائے،او آئی سی کا اجلاس بلانا خوش آئند، عرب لیگ سمیت دیگر متعلقہ اسلامک فورمز بھی حرکت میں آئیںامریکی اعلان کھلی زیادتی کے ساتھ مسلم امہ باالخصوص عرب عوام کی امنگوں کی نفی ہے، معاملے پر امہ اتفاق رائے سے حتمی فیصلہ کرے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں امریکہ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کے اعلان پر اپنے سخت مذمتی بیان میں کیا۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ دنیا ہمیشہ باہمی اشتراک ، بھائی چارے اور احترام کے ساتھ ہی پرامن بن سکتی ہے لیکن سب سے زیادہ حقوق کا ڈھونڈرا پیٹنے والا ملک جس طرح مظلوم فلسطینیوں کے حقوق کو مزید غصب کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ایک ظالم و نام نہاد قابض ملک کو مزید شہ دے رہاہے ۔ امریکہ کے چہرے سے پردہ اٹھا کر ان کا بھیانک چہرہ دنیا پر ظاہر کردیاہے۔ انہوںنے کہاکہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے سے صرف ایک حق غصب نہیں ہوا بلکہ یہ بین الاقوامی اقدار، انسانی اقدار، کلچر، عقیدے اور تشخص کی نفی ہے،یہ کھلی و ننگی جارحیت ہے جو نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ اس حوالے سے اب امت مسلمہ کو متفقہ لائحہ عمل تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے او آئی سی کا اجلاس بلانے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاکہ اب او آئی سی کو اس سلسلے میں حتمی فیصلہ کرنا ہوگا۔ انہوںنے مطالبہ کیا کہ عرب لیگ سمیت دیگر متعلقہ اسلامک فورمز بھی حرکت میں آئیں،امریکہ کا اعلان کھلی زیادتی کےساتھ مسلم امہ باالخصوص عرب عوام کی امنگوں کی نفی ہے جوناقابل قبول اور ناقابل برداشت ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here