ترک صدر کا دورۂ پاکستان خوش آئند، دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری آئیگی ،قائدملت جعفریہ پاکستان
دونوں ممالک مسلم ممالک کے تنازعات کے حل کیلئے باہمی مفاہمتی عمل میں کردارادا کریں، او آئی سی کو صحیح معنوں میں فعال کرنے کیلئے بھی اثرو رسوخ استعمال کریں،علامہ سید ساجد علی نقوی
اسلام آباد16 نومبر 2016 ء ( )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ ترک صدر کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں، طیب اردوگان کے دورۂ پاکستان سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری آئیگی،ایک جانب مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں سے روہنگیا مسلمانوں تک ظلم و ستم کاشکارجبکہ دوسری طرف مسلم ممالک آپس میں دست وگریباں ، پاک ترک قیادت اسلامی دنیا کو درپیش مسائل کے حل اور خصوصاً اسلامی ممالک میں باہمی مفاہمت کو فروغ دینے اور او آئی سی کو صحیح معنوں میں فعال کرنے کے حوالے سے کردار ادا کرے ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ترک صدر طیب اردگان کے دورۂ پاکستان کے موقع پر اپنے خیر مقدمی بیان میں کیا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اور ترکی نہ صرف براد ر اسلامی ممالک بلکہ دونوں ممالک کی عوام کے آپس میں گہرے مراسم اور احترام کے رشتے استوار ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ترک صدر کے دورۂ پاکستان اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری آئے گی ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاک ترک قیادت کو اسلامی دنیا کو درپیش مسائل کے حل کیلئے کردار ادا کرنا چاہیے، مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں سے روہنگیا مسلمانوں تک ظلم و ستم کاشکار ہیں ، کہیں فلسطینی عوام سے جینے کا حق چھینا جارہاہے تو کہیں اسلامی ممالک میں ہی لوگ اپنے وطن میں مہاجرین کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، شام، عراق، بحرین، یمن ، افغانستان جہا ں بدامنی کا شکار ہیں وہیں خود پاکستان اور ترکی بھی دہشت گرد حملوں کی زد میں ہیں۔ اس ساری صورتحال میں مسائل کے حل کی خاطر او آئی سی کا کردا ر کہیں نظر نہیں آتا، کچھ اسلامی ممالک آپس میں لفظی جنگ میں مصروف ہیں ایسے حالات میں پاکستان اور ترکی اتحاد امت کیلئے بہترین کردار ادا کرسکتے ہیں ۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان اور ترکی کو چاہیے کہ وہ اسلامی ممالک میں باہمی مفاہمت کو فروغ دینے کیلئے اپنا بھرپورکردار ادا کریں ۔انہوں نے کہاکہ اگر دونوں ممالک او آئی سی پر اپنا اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے دباؤ بڑھائیں تواو آئی سی کو صحیح معنوں میں دوبارہ فعال کیا جاسکتاہے ۔
دونوں ممالک مسلم ممالک کے تنازعات کے حل کیلئے باہمی مفاہمتی عمل میں کردارادا کریں، او آئی سی کو صحیح معنوں میں فعال کرنے کیلئے بھی اثرو رسوخ استعمال کریں،علامہ سید ساجد علی نقوی
اسلام آباد16 نومبر 2016 ء ( )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ ترک صدر کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں، طیب اردوگان کے دورۂ پاکستان سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری آئیگی،ایک جانب مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں سے روہنگیا مسلمانوں تک ظلم و ستم کاشکارجبکہ دوسری طرف مسلم ممالک آپس میں دست وگریباں ، پاک ترک قیادت اسلامی دنیا کو درپیش مسائل کے حل اور خصوصاً اسلامی ممالک میں باہمی مفاہمت کو فروغ دینے اور او آئی سی کو صحیح معنوں میں فعال کرنے کے حوالے سے کردار ادا کرے ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ترک صدر طیب اردگان کے دورۂ پاکستان کے موقع پر اپنے خیر مقدمی بیان میں کیا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اور ترکی نہ صرف براد ر اسلامی ممالک بلکہ دونوں ممالک کی عوام کے آپس میں گہرے مراسم اور احترام کے رشتے استوار ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ترک صدر کے دورۂ پاکستان اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری آئے گی ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاک ترک قیادت کو اسلامی دنیا کو درپیش مسائل کے حل کیلئے کردار ادا کرنا چاہیے، مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں سے روہنگیا مسلمانوں تک ظلم و ستم کاشکار ہیں ، کہیں فلسطینی عوام سے جینے کا حق چھینا جارہاہے تو کہیں اسلامی ممالک میں ہی لوگ اپنے وطن میں مہاجرین کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، شام، عراق، بحرین، یمن ، افغانستان جہا ں بدامنی کا شکار ہیں وہیں خود پاکستان اور ترکی بھی دہشت گرد حملوں کی زد میں ہیں۔ اس ساری صورتحال میں مسائل کے حل کی خاطر او آئی سی کا کردا ر کہیں نظر نہیں آتا، کچھ اسلامی ممالک آپس میں لفظی جنگ میں مصروف ہیں ایسے حالات میں پاکستان اور ترکی اتحاد امت کیلئے بہترین کردار ادا کرسکتے ہیں ۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان اور ترکی کو چاہیے کہ وہ اسلامی ممالک میں باہمی مفاہمت کو فروغ دینے کیلئے اپنا بھرپورکردار ادا کریں ۔انہوں نے کہاکہ اگر دونوں ممالک او آئی سی پر اپنا اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے دباؤ بڑھائیں تواو آئی سی کو صحیح معنوں میں دوبارہ فعال کیا جاسکتاہے ۔