تازه خبریں

جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کا تجدید عہد وفا کنونش تاریخی ہوگا ۔ (صدر جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن بلتستان)

جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کا تجدید عہد وفا کنونش تاریخی ہوگا ۔
ملت کے جوانوں کو چاہیے کہ قیادت کے دست وبازو کو مضبوط کریں۔
(صدر جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن بلتستان)
سکردو(پ۔ر) جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان بلتستان کے صدر محمد شبیر حافظی نے جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے رواں ماہ کے آخر میں منعقدہ تجدید عہد وفا کنونشن کے حوالے سے کہا کہ پورے ملک سے ملت کے جوانوں کا یہ عظیم اجتماع تاریخی ہوگا ۔ جعفریہ اسٹوڈنٹس بلتستان کے جوانوں سے خطاب میں انہوں نے کہا یہ فطری امر ہے کہ کوئی بھی قوم بغیر رہنما و قائد کے نہیں چل سکتی سرزمین پاکستان میں ملت میں روز اول ہی سے قیادت موجود ہیں ۱۹۶۳ میں قوم کے ارباب حل و عقد نے جمع ہو کر نظریہ قیادت کی باقاعدہ اور باضابطہ رسمی بنیاد رکھی۔ اور برصغیر کے عظیم مسلم اسکالرخطیب اعظم علامہ سید محمد دہلوی اعلی اللہ مقامہ کو اس مشن کا میر کارواں اور رہبر منتخب کیا گیا ۔ان کی وفات کے بعد علامہ مفتی جعفرحسین اعلی اللہ مقامہ قائد ملت جعفریہ منتخب ہوئے اور پروگرام میں وسعت آئی ۔ قبلہ مفتی صاحب کی وفات کے بعد شہید راہ حق علامہ عارف حسینی کو اس سسٹم نے قیادت کے لیے منتخب کیا ۔انہوں مفتی صاحب کے زمانے کے دستوری ڈھانچے کو مزید مضبوط کیا اور تنظیمی سسٹم کو فعال بنایا ۔ علامہ عارف حسینی کی شہادت کے بعد ملت کے اس نمائندہ سسٹم نے موجودہ قائد حضرت علامہ سید ساجد علی نقوی دام عزہ کی دوش پر قیادت کی ذمہ داری ڈالی ۔ اس مرد بحران نے اس سسٹم کو اور اس ملک میں قوم و ملت کی عظمت کو بام عروج پر پہنچا دیا ۔ ملت کو سیاسی طور پر جینے کا سلیقہ دیا اور اجتماعی اور سیاسی میدان میں ملت کو ناقابل تسخیر بنایا۔ وطن عزیز سے فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کو جو اس عظیم مشن کی راہ میں رکاوٹ کے لیے پیدا کیا تھا اس مرد جری نے اپنی متانت اور اعلی بصیرت سے پاؤں تلے روند ڈالا ۔ وطن عزیز کے تمام اسلامی حلقوں اور مذہبی اکایوں کو جمع کر کے امت واحدہ کی شکل میں اجتماعی اور اسلامی شعائر اور اقدار کی تحفظ کرنے کے لیے میدان عمل میں لے کر آیا ۔ اور مسلم دنیا میں ایک کامیاب اور مثالی عملی وحدت کا نمونہ پیش کیا ۔ملت کے اجتماعی حقو ق کا بہتر تحفظ کیا گیا ۔ صدر جعفریہ اسٹوڈنٹس بلتستان نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ علامہ سید ساجد علی نقوی صرف ایک شخصیت نہیں بلکہ علم و آگاہی اور فہم و فراست کا اعلی مجسم نمونہ ہے اور وہ ایک طاقتور نظام کا توانا حصہ ہے آج بعض نوجوان پوچھتے ہیں کہ قیادت نے کیا کیا ؟ قیادت نے رفاہی خدمات کے علاوہ ان خطرناک سازشوں کو بھی ناکام بنایا کہ جن کے سازش ہونے پر قوم کے بڑئے بڑئے صاحبان عقل و خرد زہنی اضطراب کا شکار تھے۔ قیادت نے صرف ملت کی ترجمانی نہیں بلکہ بعض اوقات اس ملک کے حکمرانوں کی بھی رہنمائی کی ۔ اور عالمی سازشوں کا قربانی کے ذریعے مقابلہ کیا اور وطن عزیز کومختلف سازشوں سے بچایا ۔ ہمیں ایسے قیادت اور رہبری پر فخر حاصل ہے جو سیرت انبیاء علیہ الاسلام پر چلتے ہوئے اس ملک کی اور اسلامیان پاکستان کی خدمت کر رہا ہے۔علامہ سید ساجد علی نقوی ایک مدبر عالم اور مذہبی رہنما اور قائد ہونے کے ساتھ اس ملک میں سب سے بڑا جمہوریت پسند اور جمہوری سوچ کے مالک ہیں ۔ اور تجربہ کار تنظیمی شخصیت بھی انہیں نہ صرف پاکستان کے مسلمان مسالک کے جید علماء اعلام عزت و قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں بلکہ پاکستان سے باہر عراق اور عرب ممالک لبنان ، مصرو دیگر عالمی اسلامی حلقے بھی ان کی عزت و تکریم کرتے ہیں ۔ آج کے ملت کے جوانوں کو چاہیے کہ جذبات اور وقتی حالات کو ظاہر داری سے دیکھنے کی بجائے باریک بینی سے اپنے آپ کو علم و آگاہی کے زیور سے آراستہ کرئے اور قیادت کے عظیم اور بصیرت افروز پیغام کو گھر گھر پہنچانے کے لیے میدان میں آئیں۔تاکہ قیادت کی دست و بازو مضبوط ہوں ۔