جنوبی ایشیا کا امن مسئلہ کشمیر سے وابستہ ہے،علامہ عارف واحدی
جنوبی ایشیا کا امن مسئلہ کشمیر سے وابستہ ہے،علامہ عارف واحدی

جنوبی ایشیا کا امن مسئلہ کشمیر سے وابستہ ہے،علامہ عارف واحدی
بھارتی آرمی چیف کا بیان انڈین ڈیموکریسی کے منہ پر طمانچہ،شیعہ علماءکونسل

اسلام آباد17 دسمبر 2018ء (  جعفریہ پریس    )شیعہ علماءکونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی کہتے ہیں جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام مسئلہ کشمیر سے جڑا ہے، مظلوم کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت دیا جائے، مسئلہ کشمیر کے مستقل حل کےلئے امت مسلمہ کو یکساں موقف اختیار کرنا ہوگا، بھارتی آرمی چیف کا بیان انڈین جمہوریت اور سیکولرریاست کے منہ پر طمانچہ ہے،بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کی انتہاءکردی، آئے روز نہتے کشمیریوں کی شہادت انتہائی المناک، مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کےلئے حکومت پاکستان سفارتی محاذ پر بھرپو ر کردار ادا کرے، جنوبی ایشیا کا امن مسئلہ کشمیر سے وابستہ ہے۔

    ان خیالات کااظہار انہوںنے بھارتی آرمی چیف کے حالیہ بیان کی مذمت اور مقبوضہ کشمیر میں حالیہ چند دنوں میں ایک درجن سے زائد نہتے کشمیریوں کی شہادت پر دلی افسوس اور کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کیا۔ علامہ عارف حسین واحدی نے کہاکہ اس وقت پوری دنیا باالخصوص اسلامی دنیا مختلف چیلنجز کا سامناکررہی ہے سب سے اہم مسئلہ اسلامی ممالک میں امن کا فقدان ہے جہاں مختلف حیلوں، بہانوںاور سازشوں کے ذریعے مختلف مسائل پیدا کرنے کی کوشش کرکے عوام کو باہم لڑانے کی کوششیں کی جاتی ہیں جبکہ اور بھی کئی طریقے استعمال کرکے اسلامی ممالک کی معیشت کو متاثر کرنے کی سازشیں کی جاتی ہیں، امہ کو اس سلسلے میں بیدار مغزی کا ثبوت دیتے ہوئے اتحاد امہ کےلئے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہاکہ مسئلہ کشمیر و فلسطین اسلامی دنیا کے سب سے بڑے اور سلگتے مسائل ہیں جن کے حل کےلئے او آئی سی، عرب لیگ سمیت دیگر تنظیموں کو فعال کرنے کےلئے مسلم حکمرانوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
    علامہ عارف حسین واحدی کا مزید کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا اس وقت تک خطہ میں امن کا قیام شرمندئہ تعبیر نہیں ہوسکتا، انہوںنے کہاکہ ہمارا واضح اور دوٹوک موقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کو عوامی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے اور انہیں ان کا حق خود ارادیت دیا جائے۔ 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here