تازه خبریں

جے آئی ٹی پر مختلف آرا جمہوری معاشرے کی عکاس ہونی چاہیں، سیاسی اختلاف کو تصادم بننے سے بچانا ہوگا

جے آئی ٹی پر مختلف آرا جمہوری معاشرے کی عکاس ہونی چاہیں، سیاسی اختلاف کو تصادم بننے سے بچانا ہوگا، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی

عالمی طاقتوں کی سازشوں کو نہیں بھولنا چاہیے، ملک کے اصل مسائل دہشتگردی،ناانصافی، غربت، بے روزگاری ہیں،قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی اسلامی تحریک عام انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی، ہم خیال جماعتوں کے اتحاد پر بھی غور، سی ای سی اجلاس کے فیصلے
اسلام آباد 16جولائی2017ء( )قائد ملت جعفریہ پاکستان اور اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں ملک پہلے ہی مختلف مسائل کا شکار ہے، مزید کسی بحران کا متحمل نہیں ہوسکتا، جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد مختلف آرا سامنے آئیں جوجمہوری معاشرے کی عکاس ہیں ، سیاسی اختلاف کو سیاسی تصادم سے بننے سے بچانا ہوگا، پاکستان کے اصل مسائل دہشتگردی،ناانصافی،غربت ، بے روزگاری ہے ، ملکی استحکام کیلئے سیاسی و ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر غور کرنے کی ضرورت ہے، اسلامی تحریک پاکستان عام انتخابات میں حصہ لے گی، ہم خیال جماعتوں کے ساتھ اتحاد پر بھی غور کیا جارہاہے
اسلامی تحریک پاکستان کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا ملک کی موجودہ سیاسی و امن وامان کی صورتحال کے حوالے سے اہم اجلاس قائد ملت جعفریہ پاکستان و اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبران نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا کہنا تھا کہ اسلامی تحریک پاکستان کے ذمہ دارروں آئندہ قومی انتخابات سے قبل سیاسی طور پر حلقوں میں جانا چاہیے وہاں رابطہ عوام مہم کے ذریعے عوام میں شعور کو بیدار کرنا چاہیے اور سیاسی منظر نامے کے تناظر میں سیاسی بحث و مباحثہ اور الیکچر کے ذریعے سیاسی استعداد کو بڑھائے جائے تاکہ آئندہ انتخاب سے قبل عوام کو انتخابات میں بھرپور مہم چلا کر درست سمت میں رہنمائی فراہم کی جا سکے۔سیاسی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا پاکستان مختلف مسائل کا شکا ر ہے مزید کسی بحران ،ایڈونچر کا متحمل نہیں ہوسکتا، جے آئی ٹی کے بعد مختلف آرا سامنے آئی ہیں جوجمہوری معاشرے کی عکاس ہونی چاہیے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اتفاق یا اختلاف اپنی جگہ لیکن سیاسی اختلاف کو سیاسی تصادم بننے سے بچانا ہوگا یہی ملکی استحکام و جمہوری نظام کی مضبوطی کیلئے ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان ترقی کی جانب گامزن ہے ، سی پیک سمیت اہم منصوبے زیر تکمیل ہیں جس سے معاشی اعشاریے بہتر ہونگے خطے کی بدلتی صورتحال ، عالمی منظر نامہ پر وقوع ہونیوالے عوامل پربھی غور کرنے کی ضرورت ہے ہمیں کوشش کرنا ہوگی کہ تمام مسائل بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل ہوں ۔ پانامہ لیکس اور دیگر کیسز کے حوالے سے اعلیٰ عدالتوں کی جانب سے وسیع تر تناظر میں مثالی فیصلوں کی امید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے مثالی فیصلے قوم کے لئے قابل قبول ہوں گے جبکہ اسلامی تحریک پاکستان نے پانامہ لیکس کے حوالے سے آمدہ جے آئی ٹی کی رپورٹ پر مختلف سیاسی جماعتوں کے متضادبیانات کوتمام جماعتوں کا جمہوری حق قرار دیتے ہوئے موقف اپنایاکہ رپورٹ پر عدالت عظمیٰ کی جانب سے بھی وسیع تر تناظر میں کیے گئے فیصلے ہی ہمارے لیے قابل قبول ہوں گے۔ علامہ سید ساجد علی نقوی کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت ملکی آبادی جوکہ 20کروڑسے تجاوز کرچکی ہے رپورٹس کے مطابق 6کروڑ سے زائد افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ ملکی آبادی کے بڑے حصے کو پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں، توانائی بحران اور دہشت گردی کے باعث معیشت تباہی کے دہانے تک پہنچ گئی، ملک یہ انتہائی اہم مسائل ہیں ان کی طرف اصل توجہ کی ضرورت ہے ۔ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اجلاس کے دوران عام انتخابات میں بھرپور انداز میں حصہ لینے پر اتفاق کیاگیا، ہم خیال جماعتوں کے ساتھ اتحاد پر بھی غور کیاگیا ۔