• اسلامی تحریک پاکستان صوبہ سندھ کا اجلاس کراچی میں منعقد ہوا
  • عزاداری مذہبی و شہری آزادیوں کا مسئلہ، قدغن قبول نہیں، علامہ شبیر میثمی
  • قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقو ی کی ا پیل پر بھارت میں توہین آمیز ریمارکس پر ملک گیر احتجاج
  • قائد ملت جعفریہ پاکستان کی مختلف شخصیات سے ان کے لواحقین کے انتقال پر تعزیت
  • اسلامی تحریک پاکستان کا گلگت بلتستان حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ
  • علماء شیعہ پاکستان کے وفدکی وفاقی وزیر تعلیم سے ملاقات نصاب تعلیم پر گفتگو مسائل حل کئے جائیں
  • بلدیاتی انتخابات سندھ: اسلامی تحریک پاکستان کے امیدوار بلامقابلہ کامیاب
  • یاسین ملک کو دی جانے والی سزا ظلم پر مبنی ہے علامہ شبیر حسن میثمی شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • ملی یکجہتی کونسل اجلاس علامہ شبیر میثمی نے اہم نکات کی جانب متوجہ کیا
  • کراچی میں دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان صوبہ سندھ

تازه خبریں

حضرت امام جعفر صادق ؑعلوم دینی اور علوم عصری کے منبع،بانی،مروج اور مرکز تھے قائد ملت جعفریہ پاکستان

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے یوم شہادت پرقائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقوی کا پیغام

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے یوم شہادت پر علامہ ساجد نقوی کا پیغام
راولپنڈی /اسلام آباد۔ 26 مئی 2022 ء (  جعفریہ پریس پاکستان  ) قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا ہے کہ حضرت امام جعفر صادق ؑ علوم دینی اور علوم عصری کے بیک وقت حامل، مروج، بانی اور منبع ومرکز تھے آپ ؑ کے وضع کئے ہوئے قواعد اور اصول آج بھی تمام مسالک اور مکاتب فکر کے لیے رہنماءکی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ آپ کے علوم سے کسی خاص مکتب ، مسلک ، گروہ یا طبقے نے نہیں بلکہ ہر علم دوست اور شعور کے حامل انسان نے استفادہ کیا۔ امام ششم حضرت امام جعفر صادق ؑکے یوم شہادت 15 شوال کے موقع پر اپنے پیغام میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ آپ ؑ نے اپنے والد گرامی قدر حضرت امام محمد باقر ؑ سے براہ راست حصول علم اور کسب فیض کیا اور اپنے جد امجد امیرالمومنین حضرت علی ؑ اور پیغمبر گرامی قدرکے عطا کردہ علوم سے آگاہی و آشنائی حاصل کی یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنے دور میں علم کا دعوی کرنے والا ہر شخص کو لاجواب کیا اور اسلام کے حوالے سے پھیلائی گئی تمام غلط فہمیوں کو اپنے علم کی بنیاد پر دور کیا۔
علامہ ساجد نقوی نے کہاکہ حضرت امام جعفر صادق ؑ کے علم و فضل اور کمال و مرتبے کی اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ آپ نے علوم قرآنی، حدیث رسول ، فرامین آئمہ ؑ اور سیرت سے استفادہ کرکے مسلمانوں کو ابدی اور دائمی رہنمائی اورنجات حاصل کرنے کے لیے ایک ایسی فقہ ترتیب فرمائی جس میں صرف مسلمان نہیں بلکہ پوری انسا نیت کی فلاح و بہبود مضمر ہے اس کے علاوہ آپ نے عصری علوم کا جو بے بہا خزانہ صاحبان فکر و نظر کے استفادہ کے لیے چھوڑا وہ آج بھی بلا تفریق مذہب ہر انسان کو رہنمائی فراہم کر رہا ہے آپ ؑ کے شاگردوں میں حضرت امام ابو حنیفہ ، جابر بن حیان جیسے لوگ شامل تھے جنہوں نے اپنے اپنے ادوار میں اپنے شعبے کے حوالے سے عوام کی رہنمائی کی۔ دور حاضر کی سائنسی تحقیقات اور عصری علوم کا ارتقاءامام جعفر صادق ؑ کا مرہون منت ہے جبکہ عام ٹیکنالوجی سے لے کر ایٹمی ٹیکنالوجی تک تمام کی بنیاد حضرت امام جعفر صادق کے دئیے ہوئے علمی ترکے سے ملتی ہے۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ فقہ جعفریہ کے پیروکار اس لحاظ سے خوش بخت و خوش نصیب ہیں کہ انہیں ایسے امام ؑ سے تمسک حاصل ہوا ہے کہ جو نہ صرف انہیں روحانی، دینی، اسلامی ، فقہی، اور شرعی رہنمائی عطا کرتا ہے بلکہ انہیں عصری علوم ،کیمیا ، فزکس، ریاضی ، فلسفہ ، موجدات، تخلیقات ، لسانیات، اور ان جیسے متعدد علوم اور میدانوں میں ہدایت فرماتا ہے اور انہیں ان علوم سے استفادہ کے بنیاد فراہم کرتا ہے ۔ اگر دور حاضر کے مسلمان بالخصوص علم و اسلام سے عقیدت اور ترقی و ٹیکنالوجی سے محبت رکھنے والے انسان حضرت امام جعفر صادق ؑ کے علوم، کردار، سیرت اور اصولوں کا مطالعہ کریں ، ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں اور ان سے مخلصانہ استفادہ کریں تو ایک بار پھر دنیا میں علم کا غلبہ ہوگا اور جہالت کا خاتمہ ہوگا جس سے انسانیت کو درپیش تمام مسائل حل ہوں گے۔