حکمرانوں نے سقوط ڈھاکہ سے کچھ نہیں سیکھا ۔فیڈریشن کی حفاظت کے لیے ضروری ہے تمام اکائیوں کو برابری کے حقوق دیے جائیں۔ مستحکم پاکستان کے لیے گلگت بلتستان کو آئینی دائرے میں شامل کیا جائے۔( علامہ سید محمد عباس رضوی ممبر گلگت بلتستان کونسل )(سکردو) اسلامی تحریک پاکستان گلگت بلتستان کے صدر اور ممبر گلگت بلتستان کونسل علامہ سید محمد عباس رضوی نے 16دسمبر کے تلخ تاریخی دن کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ حکمرانوں نے سقوط ڈھاکہ سے کچھ بھی نہیں سیکھا۔ اگر سقوط ڈھاکہ کے اصل حقائق بجائے حمود الرحمن کمیشن رپورٹ سامنے لاتے اور ارباب اقتدار درست سمت ان مسائل کا ادراک رکھتے تو آج ملک کے یہ حالات نہیں ہوتے۔ وفاق کو زیادہ ذمہ داری ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہاں کوئی خیرات کے بل بوتے پر چلنا نہیں چاہتا۔ گلگت بلتستان پاکستان کا اہم اور توانا حصہ ہے ۔ اس کی مضبوطی پاکستان کی ضرورت ہے ۔ لیکن فیڈریشن کے نام نہاد حکمران ملک کو صحیح سمت نہیں چلا رہے۔ سی پیک منصوبے کو چاروں صوبوں سے گزارا گیا۔ ہم اس اقدام کو صحیح سمجھتے ہیں لیکن گلگت بلتستان کے قلب کو چیر کر سی پیک گزرے گا اور اس میں گلگت بلتستان کا کوئی حصہ نہ ہو یہ ناقابل برداشت ہے۔ اور اس کو خیانت اور عین تعصب سمجھتے ہیں۔ اس خطے نے وطن عزیز کے قربانیاں دی ہے ۔ سینکڑوں شہدا اور ان کے قبور پر نصب سبز ہلالی پرچم ان قربانیوں کی دلیل ہے ۔ اس خطے کے نامور لوگوں نے نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام روشن کیا اور وقار میں اضافے کا سبب بنا۔ لیکن ان تمام حقائق کو نظر انداز کرنا عین خیانت ہے ۔ وزیر اعظم پاکستان ، صدر پاکستان سے مطالبہ ہے کہ جلد از جلد اس خطے کو آئینی دائرے میں شامل کرے ۔ یہ مطالبہ تمام مطالبات کانچوڑ ہے اور ہم آکر دم تک اس مطالبے پر ڈٹے رہیں گے۔ اور اپنی جد و جہد کو جاری رکھیں گے۔