• علامہ شبیر حسن میثمی کی اسپیکر قومی اسمبلی
    راجہ پرویز اشرف سے اسپیکر چیمبر میں ملاقات
  •  متنازعہ فوجداری ترمیمی بل کو یکسر مستردکرتے ہیں ، شیعہ علماءکونسل پاکستان
  • متنازعہ ترمیمی بل: علماء و ذاکرین مشاورتی اجلاس کل کراچی میں منعقد ہوگا
  • مقدس کتاب قرآن مجید کی بے حرمتی ی شدید مذمت کرتے ہیں سید راشد حسین نقوی
  • بزرگ علمائے تشیع نے متنازعہ ترمیمی ایکٹ کو مسترد کردیا اعلامیہ جاری
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان ضلع ملتان کا ورکر کنونشن منعقد ہوا جس میں مولانا اعجاز حسین بھشتی ضلی صدر ملتان منتخب ہوئے
  • شیعہ علماء کونسل کی زیر نگرانی متنازعہ بل کے سلسلے میں مختلف جماعتوں کا اجلاس
  • علامہ اسد اقبال زیدی کا ضلع دادو کادورہ اسلامی تحریک کے کارکنان سے ملاقات
  • توہین کے متنازعہ بل کو مسترد کرتے ہیں علامہ رمضان توقیر
  • قومی اسمبلی میں متنازعہ قانون سازی کو مسترد کرتے ہیں جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان

تازه خبریں

حکومت دہشت گردی پر قابو پانے میں ناکام ہو کر عزاداری پر پابندیاں لگانا شروع کر دیں، پابندی کسی صور ت بھی قابل قبول نہیں ، ساجد علی ثمر

جعفریہ پریس – حکومت اس وقت انتہائی بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکی ہے۔ دہشت گرد عناصر حکومت کو چکما دے کر جب چاہے کاروائی کر گزرتے ہیں اور حکومت تماشا دیکھتی رہ جاتی ہے۔ ایسے میں جہاں ضرورت اس امر کی تھی کہ حکومت اپنے اداروں کو فعال کرتی اور دہشت گردی کو قابو کرتی،الٹا حکومت نے دہشت گردوں کو قابو کرنے کی بجائے عزاداری پر پابندیاں لگانا شروع کر دیں۔ اور مختلف جگہوں پر مجالس اور جلوس ہائے عزاداری کودہشت گردی کی آڑ میں روکنے کی سعی شروع کر دی ہے۔ ان خیالات کا اظہار جے ایس او پاکستان کے مرکزی صدر ساجد علی ثمر نے اپنے ایک بیان میں کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم پہلے بھی واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ یہ جمہوری حکومت نہیں بلکہ طالبانی حکومت ہے ۔اسی وجہ سے دہشت گردی کی آڑ لے کر عزاداران امام حسین کو عزاداری سے منع کیا جا رہا ہے۔ ہم ریاست کے شہری ہیں اور ریاستی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے ہمیں مکمل طور پر مذہبی آزادی حاصل ہے۔حکومت کو بھی واضح طور پر بتا دینا چاہتے ہیں کہ حکومت اگر دہشت گردی کو کنڑول نہیں کر سکتی تو عزاداری پر پابندی لگانے کا بھی کوئی جواز نہیں بنتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ سے عزاداری تلواروں اوربندوقوں کے سائے تلے کی ہے۔ شیعہ قوم حالات سے خوفزدہ ہونے والی نہیں ہے۔ہم نے تو کربلا سے سیکھا ہی یہ ہے کہ دشمن چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو اس کے سامنے جھکنے کی بجائے اس کو للکار دو اور اگر تم حق پر ہو تو مت ڈرو کہ موت تم پر آ جائے یاتم موت پر آ جاؤ۔