جعفریہ پریس – حکومت اس وقت انتہائی بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکی ہے۔ دہشت گرد عناصر حکومت کو چکما دے کر جب چاہے کاروائی کر گزرتے ہیں اور حکومت تماشا دیکھتی رہ جاتی ہے۔ ایسے میں جہاں ضرورت اس امر کی تھی کہ حکومت اپنے اداروں کو فعال کرتی اور دہشت گردی کو قابو کرتی،الٹا حکومت نے دہشت گردوں کو قابو کرنے کی بجائے عزاداری پر پابندیاں لگانا شروع کر دیں۔ اور مختلف جگہوں پر مجالس اور جلوس ہائے عزاداری کودہشت گردی کی آڑ میں روکنے کی سعی شروع کر دی ہے۔ ان خیالات کا اظہار جے ایس او پاکستان کے مرکزی صدر ساجد علی ثمر نے اپنے ایک بیان میں کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم پہلے بھی واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ یہ جمہوری حکومت نہیں بلکہ طالبانی حکومت ہے ۔اسی وجہ سے دہشت گردی کی آڑ لے کر عزاداران امام حسین کو عزاداری سے منع کیا جا رہا ہے۔ ہم ریاست کے شہری ہیں اور ریاستی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے ہمیں مکمل طور پر مذہبی آزادی حاصل ہے۔حکومت کو بھی واضح طور پر بتا دینا چاہتے ہیں کہ حکومت اگر دہشت گردی کو کنڑول نہیں کر سکتی تو عزاداری پر پابندی لگانے کا بھی کوئی جواز نہیں بنتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ سے عزاداری تلواروں اوربندوقوں کے سائے تلے کی ہے۔ شیعہ قوم حالات سے خوفزدہ ہونے والی نہیں ہے۔ہم نے تو کربلا سے سیکھا ہی یہ ہے کہ دشمن چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو اس کے سامنے جھکنے کی بجائے اس کو للکار دو اور اگر تم حق پر ہو تو مت ڈرو کہ موت تم پر آ جائے یاتم موت پر آ جاؤ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here