تازه خبریں

دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شامی عیسائی صدر بشارالاسد کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں: شامی عیسائی رہنما

شام کے ایک مشہور عیسائی رہنما اورشامی قو می کونسل کے سابق صدر’’جارج صابرہ ‘‘نےکہاہےکہ عیسائی فرقہ جوکہ ملک کی کل آبادی کا دس فیصد ہے تکفیری دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں صدربشارالاسد کے شانہ بہ شانہ کھڑا ہے۔
انہوں نےکہاکہ صدربشارالاسد اوران کے والد حافظ الاسد جوکہ شام کےسابق صدررہے ہیں کے دورحکومت میں عیسائیوں نے ملک میں وسیع آزادیوں کا لطف اٹھایا ہے۔
انہوں نےکہاکہ جب ملک کے موجودہ صدربشارالاسد نے حکومت کی بھاگ ڈور سنبھالی توانہوں نے ملک میں رہائش پذیر عیسائیوں کیلئے نئے قانون جن کے تحت عیسائی برادری رسومات اورروایات کے تحت اپنے مذہبی پروگراموں کا انعقاد کرسکتی ہے کا نفاذ عمل میں لایا ۔
انہوں نےکہاکہ اس وقت حالات کو دیکھ کر تکفیری دہشتگردوں کا قلع قمع کرنے کیلئے اپنے ملک کے منتخب اورجائز صدرکا ساتھ دینا ہماراقومی اورمذہبی فریقہ ہے۔
انہوں نےکہاکہ دہشتگردخاصکر بدنام زمانہ تکفیری دہشتگرد داعش نہ صرف شامی عوام و ارضی سالمیت کیلئے خطرہ ہے بلکہ وہ دیگرممالک کے ساتھ ساتھ پوری عالمی برادری کیلئے خطرہ ہے۔
موصوف رہنما نے قطر اورترکی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہاکہ شامی بحران کو طول دینے میں یہ دونوں ممالک ایک مہلک کردار اداکررہے ہیں ۔
انہوں نے مغربی ممالک ،امریکہ اوران کے عرب اتحادیوں کے ان الزامات کہ صدربشارالاسد ہی مشرق وسطیٰ کے خطے خاصکر شام وعراق میں داعش کے عروج کا سبب ہیں کو سختی سے مستردکرتے ہوئے کہاکہ امریکہ اوراسکے قریبی اتحادیوں نے ہی اپنے ناجائز مفادات کی تکمیل کیلئے اس وحشی گروہ کو تخلیق کیا ہے۔
شامی قومی کونسل کے سابق صدر نے کہاکہ جب داعش نے عراق کےشمالی شہر موصل پر قبضہ کیاتو اسی وقت یہ عیاں ہواکہ یہ ایک غیر ملکی سازش تھی۔
انہوں نے فرانس کے شامی عیسائیوں کو اپنے ملک میں پناہ دینے کے منصوبے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ فرانس نے عیسائیوں کو شام سے نکالنے کا جو بنیاد پرست منصوبہ بنایاتھا اسکا مقصد صرف شام کو تقسیم کرناتھا۔
جارج صابرہ نے مزیدکہاکہ شامی عیسائی رہنماؤں سمیت ملک کی عیسائی برادری صدربشارالاسد کے شانہ بہ شانہ کھڑی ہے اوروہ اپنی ارضی سالمیت اورخودمختاری کو بچانے کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرسکتے ہیں۔