• عزاداری کیخلاف کسی قسم کی رکاوٹ یا محدودیت قبول نہیں کریں گے ،مرکزی نائب صدر شیعہ علماءکونسل
  • پاکستانی زائرین کیلئے عراق بارڈر کھولنا احسن اقدام ہےشیعہ علماء کونسل پاکستان
  • بلند پہاڑی( کے ٹو ) کے کوہ پیما واجد اللہ نگری کا قائد ملت جعفریہ پاکستان کا شکریہ
  • جی ایم شاہ کے فرزند کی دستار بندی قائد ملت جعفریہ پاکستان کے فرزندان نے قل خوانی میں شرکت کی
  • قائد ملت جعفریہ پاکستان کی ہدایت پر علامہ ناظر عباس تقوی سیلاب متاثرین کے درمیان
  • قائد ملت جعفریہ پاکستان کی ہدایت پر نوجوان بھی سیلاب متاثرین کی مدد میں پیش پیش
  • قائد ملت جعفریہ پاکستان کی ہدایت و سرپرستی میں زہرا اکیڈمی کا ملک بھر میں فلڈ آپریشن جاری
  • قائد ملت جعفریہ پاکستان کے رفیق و سابق محافظ سید جی ایم شاہ انتقال کرگئے
  • ملک بھر میں سیلاب متاثرین کی امداد کا سلسلہ جاری کارکنان امدادی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیں
  • قائد ملت جعفریہ پاکستان کی اپیل پر ملک بھر میں سیلاب متاثرین کی امداد جاری

تازه خبریں

دیرالزور میں شامی فوج کی پیشقدمی جاری

ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق شام کے فوجی دستوں نے اپنے اتحادیوں اور روسی فوج کی فضائیہ کی مدد سے دیرالزور میں السخنہ محور پر الشولا قصبے پر کنٹرول حاصل کرتے ہوئے اس کے اطرف کے بعض ٹیلوں اور علاقوں کو دہشتگردوں کے قبضے سے آزاد کرا لیا اس دوران کئی دہشتگرد ہلاک ہوئے۔
شامی فوج نے جب الجراح سمیت مشرقی حمص کے علاقے کے پانچ دیہاتوں کو آزاد کراتے ہوئے داعش دہشتگردوں کے اڈوں سے بھاری مقدار میں ہتھیار، جنگی ساز و سامان اور مارٹر گولے بھی ضبط کر لئے۔
شامی فوجی دستوں نے مشرقی حمص میں داعش دہشتگردوں کے اڈوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ابوقاطور، ابولیہ اور جب حبل نامی دیہاتوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔
اسی طرح رسم حمیدہ اورالھبرہ الغربیہ دیہاتوں نیز جب الجراح کے جنوب مشرق میں واقع کئی ٹیلوں اور پہاڑیوں کو دہشتگردوں کے قبضے سے آزاد کراتے ہوئے بڑی تعداد میں انھیں ہلاک اور زخمی کردیا۔
ایک اور رپورٹ کے مطابق شام کے بناء الدولہ نامی حکومت مخالف گروہ کے سربراہ لؤی حسین نے شامی فوج کے توسط سے دیرالزور کا محاصرہ ٹوٹنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بشار اسد کے اقتدار میں باقی رہنے پر اطمینان کا اظہار کیا۔
گذشتہ منگل کو شامی فوج اور استقامتی فورس، مغربی دیرالزور میں داخل ہو کر تین برس سے جاری اس شہر کے محاصرے کو توڑ دیا تھا۔
مشرقی شام میں واقع صوبہ دیرالزور کا صدر مقام شہر دیرالزور تین سال دو مہینے تک داعش دہشتگرد گروہ کے قبضے میں رہا۔