تازه خبریں

روس کامسافر بردار فوجی طیارہ بحیرہ اسود میں گر کر تباہ

گذشتہ روز ایک فوجی طیارے کے بحیرۂ اسود میں گر کر تباہ ہو جانے کے بعد روس ایک دن کا سوگ منا رہا ہے۔ اس حادثے میں 92 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ روس کے ٹرانسپورٹ کے وزیر میکسم سوکولوف نے کہا ہے کہ حادثہ پائلٹ کی غلطی یا پھر تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا ہے۔ سرچ آپریشن بحری جہاز، ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر سمیت 3000 افراد شریک ہیں جن میں 109 غوطہ خوروں بھی شامل ہیں وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل اگور کونشنکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ اندھیرا ہونے کے باوجود جائے وقوعہ پر تلاش کا کام تسلسل سے جاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ طیارے کے ملبے کی تلاش کے لیے سرچ ٹیمیں طاقتور سپاٹ لائٹس کا استعمال کر رہی ہیں۔ وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ انھیں ساحل سے ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر جہاز کے ملبے کے کچھ ٹکڑے ملے ہیں جبکہ اب تک 11 لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔روسی صدر ولادی میر پوتن نے حکومتی کمیشن کو اس حادثے کی تحقیقات کا حکم بھی دیا ہے۔روسی وزارتِ دفاع کے مطابق TU-154طیارہ شام کے شہر لاذقیہ جا رہا تھا۔ یہ جہاز ماسکو سے اڑا تھا اور سوچی کے ایڈلر ہوائی اڈے پر ایندھن بھرنے کے لیے رکا تھا۔ طیارے پر عملے کے ارکان، فوجی اہلکار، ایک فوجی میوزک بینڈ اور صحافی سوار تھے