سانحات کی حیثیت کا تعین اور ذمہ داران کی سزا و جز کا نظام وضع کرکے فکری انتشار کا خاتمہ کیا جائے، علامہ ساجد نقوی قائد ملت جعفریہ پاکستان 
سانحات کی حیثیت کا تعین اور ذمہ داران کی سزا و جز کا نظام وضع کرکے فکری انتشار کا خاتمہ کیا جائے، علامہ ساجد نقوی قائد ملت جعفریہ پاکستان 

سانحات کی حیثیت کا تعین اور ذمہ داران کی سزا و جز کا نظام وضع کرکے فکری انتشار کا خاتمہ کیا جائے، علامہ ساجد نقوی قائد ملت جعفریہ پاکستان 
قیام امن کےلئے قوانین پر عملدرآمد ضروری، پاکستانی شہری کو اسرائیلی ویزہ ڈرامہ، باریک بینی سے جائزہ لیاجائے، قائد ملت جعفریہ پاکستان 
اسلام آباد/راولپنڈی 29 جنوری 2019ئ(  جعفریہ پریس)قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیںجب بھی کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے تواس کے تدارک اور عوام کو انصاف کی فراہمی کی بجائے ملک میں افراتفری، کھلبلی، الزام تراشی اور استعفوںکے مطالبات کا ایسا شور اٹھتاہے جو معاشرے میں فکری انتشار کا باعث بنتاہے، سانحات کے تدارک کے ساتھ ایسے سانحات کے مرتکبین کے تعین کے حوالے سے پالیسی وضع کی جائے، تمام سیاسی جماعتوںاور سرکاری ذمہ داروں کو باہمی مشاورت کرنا ہوگی، قیام امن نئے قوانین سے نہیں بلکہ پہلے موجود قوانین پر عملدرآمد سے ہوگا ،ایک پاکستانی شہری کو اسرائیلی ویزہ دلوانا ڈرامہ، معاملے کو باریک بینی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
    ان خیالات کا اظہار انہوںنے مختلف شخصیات سے ملاقاتوں کے دوران کیا۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ ملک میں جب بھی کوئی سانحہ رونما ہوتاہے تو اس کے بعد کھلبلی اور افراتفری مچ جاتی ہے اور موجودہ حکمران سابقین اور پہلے والے موجودہ حکمرانوںپر شدیدتنقید اور ایک دوسرے پر سنگین الزام تراشیوں کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں اور پھر وزیراعظم سے وزیراعلی سمیت اعلیٰ عہدیداروں کے استعفوں تک بات جا پہنچتی ہے ، جو ایک جانب ملک میں فکری انتشارکا باعث بنتاہے تو دوسری جانب عوام میں اضطراب بھی پیدا کردیتاہے جس سے عوام خود کو مزید عدم تحفظ کا شکار سمجھنے لگ جاتے ہیں حالانکہ ہوناتو یہ چاہیے کہ سانحہ کی حیثیت کو دیکھتے ہوئے مرتکبین کا تعین کیا جائے اور یہ تعین بھی کیا جائے کون سے لوگ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برا نہ ہوئے یا کس سرکاری اہلکار نے اپنے فرائض انجام نہیں دیئے ۔ انہوںنے کہا کہ ملک کے معروضی حالات ددیکھتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ وقت میں تمام سیاسی جماعتوں اورسرکاری ذمہ داروں کو باہمی مشاورت سے طے کرنا ہوگا کہ جب ملک میں کوئی سانحہ رونما ہوجائے تو ملک میں افراتفری کا سدباب کیسے کیا جائے، کس نوعیت کا سانحہ ہوتو کون ذمہ دار ہوگا، کس حیثیت تک کے افسران کو معطل یاتبدیل کیا جاسکے گا، اس سلسلے باہمی مشاورت اور اتفاق رائے سے نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے میں ایک جانب عوام احساس تحفظ کا یقین دلایا جاسکے تو دوسری جانب سانحات کے محرکات تک پہنچ کر انکا تدارک کیا جاسکے۔
    قائدملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی کا مزید کہنا تھا کہ پیغام پاکستان سمیت دیگر متفقہ دستاویزت اہم لیکن ضروری نہیں ہر دستاویز کو قانونی شکل دی جائے یا اس کی بنیاد پر قیام امن کے نام پرقانون سازی کے بہانے تلاش کئے جائیں اس کی قطعاً ضرورت نہیں کیونکہ قوانین پہلے سے موجود ہیں،ہر معاملے پر سیر حاصل بحث کے بعد قوانین وضع کئے گئے ، ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان قوانین پر عملدرآمد یقینی بناتے ہوئے عوام کے جان و مال کا تحفظ کیا جائے،انہو ں نے پاکستانی شہری فیصل خالد کو اسرائیل بارے ویزا حاصل کرنے بارے خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے اسرائیل کے حق میں ڈرامہ قرار دیتے ہوئے معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لینے اور سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here