تازه خبریں

سانحہ 1988ء گلگت بلتستان

سانحہ 1988ء گلگت بلتستان

گلگت بلتستان  دنیا کے مشہور و معروف بلند و بالا پہاڑوں  کوہ ہمالیہ ،کوہ ہندوکش اورکوہ قراقرم کے بیچ میں محصور ایک خوبصورت اور حساس خطہ ہے ۔  گلگت بلتستان کے غرب شمال میں افغانستان،  شرق شمال میں چین  اور تاجکستان  ، شرق جنوب میں   ہندوستان  واقع ہے ۔ دنیا کا دوسرا بلند ترین پہاڑ (کے – ٹو )، نانگا پربت اور راکا پوشی بھی اسی علاقے میں موجود ہیں ۔
ایک زمانہ ایسا تھا جب گلگت  بلتستان میں  بے مثال امن و اخوت، بھائی چارہ، محبت اور اتحاد پایا جاتا تھا ۔ یہاں شیعہ سنی اختلافات کا کوئی  تصور ہی نہیں تھا۔  شیعہ سنی سب مل جل کر بھائیوں کی طرح  رہتے تھے۔   ایک دوسرے سے   رشتہ داریاں تھیں ۔ خوشی وغم اور  دکھ درد میں سب شریک ہوتے  تھے
22مئی 1988ء کا دن گلگت بلتستان کے لئے  وہ افسوسناک دن ہے جس روز وہاں کے ہنستے بستے عوام کی  محبت و اخوت، اتحاد و بھائی چارگی  کو نفرت  اور دشمنی میں تبدیل کیا گیا ۔ جی ہاں یہ 1988ء کی لشکر کشی تھی جس نے گلگت بلتستان میں نفرت کے بیج بوئے اورکئی آباد علاقوں کو ویران کر دیا ۔
سانحہ 1988ء ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت رونما ہوا ۔ اس سانحے کا منصوبہ صدارتی ایوانوں میں اس وقت کے ڈکٹیٹر جنرل ضیاءالحق کی سرکردگی میں پاس کیا گیا  ۔ یہ طے ہوا کہ شمالی علاقہ جات (گلگت بلتستان) پاکستان کا وہ حصہ ہے جو کہ 48 ہزار مربع میل پر مشتمل ہے   جس میں 80 فیصد آبادی شیعیان حیدر کرار  کی ہے۔اس خطے سے مومنوں   کا خاتمہ کر کے ان  کی جگہ  افغان مہاجرین کو بسانے کے مذموم مقصد کے تحت سرحد ،کوہستان اور ملک کے دیگر علاقوں سےوہابی ذہنیت رکھنے والے لوگوں پر مشتمل پچاس ہزارکا  ایک لشکر تیار کیا گیا ۔ اس گروہ کو حکومت کی جانب سے بھی بھرپور تعاون حاصل تھا۔جدید  ترین ہتھیار اور جنگی ساز و سامان سے لیس یہ لشکر 600 کیلو میٹر کا راستہ  اور کئی چیک پوسٹیں بغیر کسی رکاوٹ کے طے کرتے ہوئے  کئی ضلعوں سے گزر کر گلگت  بلتستان کی حدود میں داخل ہوا ۔
ایک ہفتے تک  اس لشکر میں موجود درندہ صفت  انسان نما جانور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں بے گناہ اور معصوم انسانوں کو قتل و غارت کرتے رہے  ۔ کئی مساجد اور امام بارگاہوں کو  نذر آتش کیا گیا ۔مساجد اور امام بارگاہوں میں موجود قرآن مجید اور دیگر اسلامی کتب کو بھی جلایا گیا ۔فصلوں کو آگ لگائی گئی  اور جانوروں کو بے دردی سے ہلاک کیا گیا ۔ ایک  اندازے کے مطابق اس سانحے میں شیعوں کی 100 مساجد 50 امام بارگاہیں اور ہزاروں قرآن مجید کو نذر آتش کیا گیا اور 13 دیہاتوں کو ویران اور تقریبا 100 مومنین کو شہید کیا گیا ۔حکومت اس ظلم و بربریت پرخاموش تماشائی بنی رہی ۔
راقم الحروف کے خالوشہید حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ جہانگیر حسین مناوری اور شہید حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ ناصر عباس نورانی اولین شہداء روحانیت گلگت بلتستان بھی  اس سانحے کے شہداء میں سے ہیں ۔ جو آپس میں ہم زلف  بھی تھے ۔ ان دو بزرگواروں کے علاوہ  راقم الحروف کے والد گرامی شہید علی غلام قاسمی اور والدہ محترمہ کے ماموں ڈپٹی ڈائریکٹر مظفر علی خان بھی  اسی سانحے میں  شہادت کے عظیم منصب پر فائز ہوئے۔
نہایت ہی افسوس کا مقام یہ ہے کہ سوچی سمجھی سازش کے تحت اتنے بڑے حادثے اور اتنے  بڑے جانی  و مالی نقصان کے باوجود  ابھی تک ان جرائم میں ملوث افراد کے خلاف حکومت کی جانب سے کوئی  قدم نہیں اٹھایا گیا ۔ جس کے باعث یہی دہشتگرد بعد میں بھی امن و امان کی اس وادی میں خون خرابہ کرنے میں مصروف ہیں ۔ اگر بروقت ان کاروائیوں کے خلاف حکومت ایکشن لے لیتی تو  آج تک اتنےبے گناہ انسانوں کا  خون  نہ بہتا۔ اس کے بعد جتنے بھی حادثے رونما ہوئے ان سب کی بنیادی وجہ مذکورہ  سانحے کے دہشتگردوں کو کیفر کردار تک نہ پہنچانا ہے۔