علامہ عارف حسین واحدی کا کہنا تھاکہ مرحوم سید وزارت حسین نقوی ملت جعفریہ کا وہ ایک عظیم سرمایہ تھے جو جدوجہد انہوں نے کی ہے وہ انتہائی لائق تحسین ہے شائد ہم الفاظ میں اور جملوں میں ان کی محنت کو ان کے اخلاص اور خلوص کوا نکی جدجہد کو سمیٹ سکتے ہیں بیان نہ کرسکیں ،میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے وزارت حسین نقوی کو انتہائی مخلص اور ملی حقوق کے حوالے سے دینی ومذہبی حوالہ سے انتہائی جذباتی پایا اور وہ ایک دانشور تھے صرف وہ تحریک کے بانی یا تحریک کا سرمایہ تھے اور وہ قائد محترم کے سینئر نائب صدر تھے میں نے انہیں مسلسل دیکھا ہے انکی فکرکو پڑھا ہے ان کے ساتھ رہے ہیں جس انداز میں انکی سوچ تھی ہمارے حوالے سے ملی حوالے سے پاکستان کے سیاسی امور میں وہ ہماری رہنمائی فرماتے تھے ۔ہم ان سے ہمیشہرہنمائی لیتے رہتے تھے ۔ان کا ایک افکارہے بھکر کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے اسوقت کے علماء کرام بھی موجود ہو نگے کہ جس انداز میں وہ ایک جذبہ کے ساتھ اور ایک قوت کے ساتھ ایک طاقت کیساتھ ایمانی جذبہ کیساتھ یہاں ایک بہت بڑی کنونشن بلائی آل پاکستان شیعہ کنونشن اورپھر وہاں سے اس ملی پیلٹ فارم کی بنیاد رکھی گئی ۔انہوں نے سرپرستی فرمائی اور مسلسل اس پلیٹ فارم اور بہت سے لوگ آئی اور اس قومی پلیٹ فارم کی حقوق کی جدوجہد کی لیکن میں مسلسل دیکھتا رہا کہ کبھی یہ مسئلہ کبھی وہ مسئلہ لیکن اپنی قیادت کے ساتھ وفاداری میں سمجھتا ہوں وہی ہے جو حکم ہے کہ امامت کیساتھ وفاداری اپنے علماء کے ساتھ وفاداری ،مفتی جعفر حسین کے ساتھ انہوں نے جو مسلسل جدوجہد کی پھر قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی کے وفاداروں اور بااعتماد ساتھیوں میں رہے ،اور موجودہ قائدملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کے بہت سے پروگرام آئے اور قوم و ملت پر بہت سی بہت سی مشکلات آئیں لیکن میں نے ہر جگہ دیکھا کہ وزارت حسین نقوی صاحب نے ثابت قدمی کے ساتھ ڈٹ کر اپنی قیادت کے ساتھ رہے اور جرات و بہادر اتنے تھے کہ جہاں چاہتے تھے جہاں ان کی رائے ہو تی تھی اپنے سی سی کے اجلاس میں یا مرکز کے اجلاس میں اپنے رائے پراڑ جاتے تھے اور دلائل کے ساتھ اپنی بات کو منوانے کی قوت اور طاقت رکھتے تھے ۔میںیہ کہوں گا کہ یقیناًہمارے اندر ایک خلاف پیدا ہو ا ہے ۔میں اپنے جوانوں اور بزرگوں کو یہ نصیحت کروں گاکہ نقوی کی صاحب کی دانش مندی اور حکمت عملی کو آگے لیکر چلیں ،اتحاد و حدت کے حوالے سے ملک میں دہشتگردی کی جو صورتحال رہی جو شدت پسندی کے حالات اور فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کی گئی اس موقع پر نقوی صاحب نے اپنا مثبت کردار اداکیا اور مشکل حالات میں جب ملی حقوق کی بات آئی اورجب کوئی ڈکٹیٹر کسی بھی وقت ملی حقو ق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کر تا تھا تو وزارت نقوی صاحب پیش پیش ہو تے تھے ۔ نقوی صاحب نے ایسی صوبتیں دیکھیں ایسی مشکلا ت دیکھیں کوئٹہ کے جو حالات بنے ہمارے قیمتی جوان شہیدہو ئے نقوی صاحب اس محاذ پر بھی موجود تھے جیل میں گئے مشکلات برداشت کی لیکن اس سید بزرگوار کا حوصلہ کم نہیں ہوا جو آج ہمارے لئے مشعل راہ ہے ۔ انکی فکریہ درست ہے کہ وہ اب نہیں رہے لیکن ان کی فکر مرتی نہیں ہے ان کی روح اس اجلاس میں موجود ہے اور وہ دیکھ رہی کہ آپ کس انداز میں خراج تحسین پیش کر رہے ہیں اور کس انداز میں ان کے افکار کو یہاں بیان کیا جارہا ہے ۔وہ سن رہے ہیں اور آپ سے توقع رکھتے ہیں کہ جن اصولوں پر زندگی میں وہ کام کرتے رہے آپ ان اصولوں کو لے کر آگے بڑھیں گے ۔انشااللہ کامیابی آپ کے قدم چومے گی ،انکی فکر آج بھی ہماری رہنما ہے آج بھی ہماری سرپرستی کر رہی ہے ،اور مثبت انداز میں ہم آگے بڑھیں گے ۔میں پنجاب کے صدر محترم ظاہر ہے یہ مرکزی سینئر نائب صدر تھے مرکز کی طرف سے پروگرام کا اعلان کیا گیا قائد محتر م نے میزبانی کے فرائض شیعہ علما کونسل پنجاب کو سونپے اور یقیناًلائق تحسین ہیں جناب علامہ سبطین حیدر سبزواری کی کاوشوں سے مسلسل دورہ اور آپ کیساتھ رابطے تھے اور مسلسل وہ آکر کوششیں کر تے رہے اور آج الحمدللہ کثیر تعداد میںآپ لوگ یہاں موجود ہیں اللہ تعالی آپ کا حامی و ناصر ہو ،تاریخ میں ہمارے سامنے بہت سی جدوجہد ہیں میں اس موقع پر چند گذاشات کرنا چاہوں گا ،تاریخ تشیعہ میں ہر دور میں کچھ ایسے لوگ رہے ہیں جن کے نقوش تھے تاریخ میں جو آج بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہیں ۔آپ پیغمبر اسلام کے دور سے لیں ہر دور میں جب بھی قربانی کا وقوت آیا جب بھی ملت پر مشکل کا وقت آیا جب بھی اسلام پر مشکلات آئیں ہیں جب ام مسلمہ مشکل میں پڑی جو لوگ ڈٹ جانیوالے تھے وہ لوگ جو زندگی میں ایک مرتبہ آئے ہیں جن کا خدا اللہ تعالیٰ ہے اور مالک ہے میں علی کاماننا والا ہوں میری زندگی میں جو قیمتی اثاثہ ہے وہ میرا سر ہے اور سے قربان کرنے کیلئے تیار ہیں ۔علامہ عارف حسین واحدی کا کہنا تھا کہ یہ شہادتیں ہمیں حق پر چلنے سے نہیں روک سکتیں ،سر بلند ہو کر اتحاد ودحدت کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔الحمداللہ یہ اللہ کی نعت ہے یہ اللہ کا انعام ہے کہ اہر دور میں اللہ نے وہ قیادتیں دی ہیں کبھی مفتی جعفر کی شکل میں ،کبھی شہید عارف حسین الحسین کی شکل میں کبھی موجودہ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی شکل میں میں سمجھتا ہوں کہ لاشوں پر کھڑے ہو کر ہماری قیادت امن کی بات کرتی ہے ،اتحاد و حدت کی بات کرتی تھی ،استحکام پاکستان کی با ت کرتی تھی ،اور یہ کہتے تھے کہ میں جانتا ہوں کہ یہ دہشت گرد دشمن پاکستان ہیں لیکن میں محب وطن ہوں مجھے پتہ ہے کہ میں نے اپنے جوانوں کو مقابلے میں کلاشنکوف اٹھانے کی اجازت دوں تو اس ملک کی گلی کوچوں میں خون ہو گا ملک کی بنیادیں تذلذل ہو جائیگی لہذا میں یہ اجازت نہیں دے سکتا اُ س وقت کچھ جذباتی لوگ تھے جو کہتے تھے قائد محترم اجازت کیوں نہیں دیتے ۔لیکن آج زمانہ نے ثابت کیا کہ آج پورے ملک میں ضرب عضب آپریشن ہو رہا ہے آج ہمارے ملک میں دہشتگردوں کیخلاف بھر پور قوت سے کارروائیاں شروع ہیں اور پیغام دے رہے ہیں کہ جو دہشتگرد کے سہولت کار ہیں جو دہشتگرددوں کے اڈے ہیں انکے گھونسلے کو ختم کر دیاجائیگا ،لیکن اللہ تعالی کا شکر ہے کہ آج یہ نعرہ ہے کہ وہ دہشت گرد اور شیعان حیدر کرار امن پسند لوگ ہیں ۔یہ قائدکی بصیرت اور قائد کی دانشمندی ہے ہم قائد ملت کی حکمت عملی کو سلام پیش کرتے ہیں کہ آج ہم سب محفوظ ہیں ،بہت سی مشکلات ہیں کبھی عزاداری پر حکمران مسائل بناتے ہیں اور یہ مشکلات ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کی کلی مشکلات تھیں جب ہم ان کے مقابلے میں آئے اور جنگ ہوتی تو پاکستان مین یہ جنگ نہ ہمارے مفاد میں ہوتی نہ اس ملک کے مفاد میں تھی یہ جنگ اللہ کا شکرہیکہ ہم سرفراز ہیں۔سینہ پر ہات مار کر کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی خود کش جیکٹ پکڑی گئی اور نہ کبھی بغیر لائسنس اسلحہ پکڑا گیا نہ ہم نے کبھی اور کہیں پر دہشتگردی کی کارروائی میں حصہ لیا اور نہ ہی کبھی ہم نے کوئی دہشت گرد گروپ بنائے میں سمجھتا ہوں کہ ا حکمران بھی اور ہمارے سیکورٹی اداے بھی اس نتیجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ اسل مجرم کون ہیں اور اصل پاکستان کے دشمن کون ہیں اور محب الوطن کون ہیں لیکن میں یہاں پرپھر بھی یہی کہونگا کہ جب تمہیں پتہ چل گیاہے کہ اس ملک میں خود کش جیکٹوں کا رواج کس نے دیا ،جب تمہیں پتہ چل گیا ہے کہ اسلام آناد میں بمبار کس نے اکٹھے کئے ہیں ، پورے ملک کو بارود کا ڈھیرکس نے بنایاہے ،بے گناہوں کا کس طرح قتل عام کیا گیا میں آپ کر بتانا چاہتاہوں کہ چند دن میں گیا تھا حکومت نے کچھ کمیٹیاں بنائی تھیں او ر اس میں بھی موجود تھا اس میں ایک چیز لکھی ہوئی تھی کہ جو مذہبی جلوس ہوتے ہیں ایک مذہب کے نہیں بلکہ تمام مذاہب کے ان کو چار دیواری میں محدود ہو نے چاہیے ۔چونکہ دہشت گرد ان جلوسوں سے غلط فائد ہ اٹھاتے ہیں یہ جلوس بند ہو گئے تو دہشتگردی کنٹرول ہو جائیگی میں آپ کا نمائندہ اس میٹنگ میں موجود تھا میں نے کہا کہ یہ ایک بہت اچھی تجویز ہے میں نے کہا آئیں سب سے پہلے جی ایچ کیوکو بندکردیں کیونکہ دہشت گرد تو اس سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں ،کمرہ ائیر بیس کو بند کردیں ،صدر ہاوس کو بند کردیں ،پاکستان پر بسیں جو چل رہی ہیں اس ے بند کرد و جو ٹرینیں چل رہی ہیں اسے بند کر دو پورے پاکستان کو بند کردو ایک پوائنٹ پر آئیں ان دہشتگردوں کو بند کرو جو پورے ملک کا امن تباہ کرنے کے در پہ ہیں ۔یاد رکھنا کہ قائدملت جعفریہ کا یہ جملہ ہے کہ جب تک زندگی ہے عزاداری پر آنچ نہیں آنے دیں گے ،کیا پاکستان کی حکومت اور پاکستان کے ادارے نہیں جانتے کہ اس ملک میں شدت پسندی ،دہشتگردی،فرقہ واریت پھئلانے کا جو ناسور ہے اور جو بنیاد ہے وہ کون ہے جھنگ میں کو بیج بویا گیا جو تکفیری ٹولہ ہے اس نے ملک میں بد امنی شدت پسندی ار دہشتگردی کا سلسلہ شروع کیاہوا ہے آج تک وہ دنداتے پھر رہے ہیں انکے بڑوں پرہاتھ نہیں ڈالا جاتا اور جب ہم کورٹ میں جاتے ہیں تو ہم پر یہ الزام لگایا جاتا ہے تم ان کا مقابلہ کیوں کرتے ہوں تم ان کو کیوں روکتے ہو میں آپ کو بتاتا ہوں کہ انسان حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھے تو کامیابی قدم چومتی ہے ۔مجھے خود مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ مولانا محمد رمضان توقیر اور مولانا شبیر حسن میثمی بھی موجود تھے ملی یجہتی کونسل کے بڑے بڑے علماء کرام بھی موجود تھے نے کہاکہ جو آپ کیخلاف کافر کافر کے نعرے لگاتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ علامہ ساجد نقوی کو ملنے ان کے گھر جائیں اور وہ تکفیر سے پیچھے ہٹنا چاہتے ہیں میں نے کہ وہ آن چاہتے ہیں علامہ ساجد نقوی کے گھر تو انہوں نے کہا کہ چل کر نہیں بلکہ سر کے بل آن چاہتے ہیں ۔ میرے عزیز بھائیو میرے پاس آئم نہیں اس لئے اس کو پتہ ہے کہ ہماری رکاوٹ صرف اور صرف ساجد نقوی اور اس کے پیرو کار ہیں ،اس لئے وہ آنا چاہتا تھا اس لئے قائد محترم نے کہا اس سے پہلے بھی ایک جنرل صاحب کی طرف سے مجھے پیغام ملاتو میں نے بتایا کہ جو میری ملت کی توہین کرئے اور میرے مذہب کی توہین کرئے اس سے ملاقات تو دور کی بات ہے اسے تو میں جوتی کی نوک پر رکھوں گا ۔قائد محترم نے اسے سبق چکھا یا جھنگ کے الیکشن میں تاحیات ناہل کرایا ۔ہائی کورٹ نے فیصلہ کیا کہ لدھیانوی صادق اور امین نہیں ہے لہذا الیکش سے تاحیات نااہل کدیا انکی بات کی کوئی حیثیت نہیں ہے نہ تو یہ صادق ہیں اور نہ ہی امین ایک چھوکرا منتخب ہوا ہے اس کیخلاف بھی رٹ پٹیش چلی گئی ہے انشااللہ یہ بھی ناہل ہو جائیگا اس لئے کہ یہ بھی صادق اور امین نہیں ہے ،علامہ عارف وحدی کا کہنا تھاکہ ہماری قیادت ہمیشپ اتحاد و وحدت کیلئے کام کیاہے ،ہمیشہ اتحاد کی بات کی ہے ۔عالمی دشمن اس ملک کو تقسیم کر نے اور فرقہ واریت پھیلانے کی کوششوں سے فرقہ پرستی اس ملک میں نہیں شیعہ سنی دونو بھائی ہیں قائدمحترم کی پالیسیوں سے اور ہر قسم کے پیلٹ فارم پراتحاد بین المسلمین کیلے کام کیا۔