تازه خبریں

سی پیک منصوبہ خطے کی ترقی میں اہم سنگ میل ثابت ہو گا،علامہ عارف واحدی

سی پیک منصوبہ خطے کی ترقی میں اہم سنگ میل ثابت ہو گا،علامہ عارف واحدی
انڈیا سی پیک منصوبہ کی کامیابی پر دلبرداشتہ ہو کر کنٹرول لائن پر فائرنگ کرکے حالات کشیدہ کررہاہے
سی پیک شاہراہ ترقی جس نہ صرف پاکستان اور چین بلکہ خطے کے تمام ممالک پر مثبت اثرات مرتب ہونگے
راولپنڈی /اسلام آباد14 نومبر 2016( ) شیعہ علما ء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی کا کہنا ہے کہ سی پیک منصوبہ پاک چین دوستی کی عظیم مثال کے ساتھ خطے کی ترقی میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا,یہ ترقی انڈیا کو ہضم نہیں ہو پارہی اور انڈیا سی پیک منصوبہ کی کامیابی پر دلبرداشتہ ہو کر کنٹرول لائن پر فائرنگ کرکے حالات کشیدہ کرکرہاہے۔ ہمیں اس پراجیکٹ کو صرف ایک شاہراہ تک یا ریلوے ٹریک تک محدود نہیں رکھنا چاہیئے, سی پیک شاہراہ ترقی جس نہ صرف پاکستان اور چین بلکہ خطے کے تمام ممالک پر مثبت اثرات مرتب ہونگے البتہ صنعتی زونز سمیت اس حوالے سے بعض سیاسی جماعتوں کے جو خدشات ہیں انہی بھی باہمی مشاورت سے حل کرنے کی ضرورت ہے,پاکستان کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ ملک کو دشمن قوتوں سے ہوشیار رکھا جائے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سی پیک کے افتتاح, گوادر کے باقاعدہ آپریشنل ہونے اور اس راستے پہلے باضابطہ تجارتی قافلے کی روانگی پر اپنے خیر مقدمی بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ بقول قائد محترم علامہ سید ساجد علی نقوی کہ اس منصوبے کے پاکستان سمیت پورے خطے پر بہترین اثرات مرتب ہونگے اگر اس صحیح طریق سے عمل درآمد کیا گیا۔ علامہ عارف واحدی نے کہاکہ اس منصوبے کے شروع ہونے سے پاکستان معاشی طور پر مستحکم ہوگا لیکن جو لوگ پاکستان میں امن و استحکام کے دشمن ہیں وہ اپنی سازشیں مزید تیز کردیں گے اس لئے ذمہ داران کو چاہیئے اس حوالے سے موثر حکمت عملی وضع کی جائے علامہ عارف واحدی کا مزید کہنا تھا کہ کچھ سیاسی جماعتوں نے صنعتی زون سمیت دیگر حوالوں سے تحفظات کا اظہار کیا ہے اس پر بھی غور کی ضرورت ہے اور ملکی ترقی کے حامل منصوبے کو ہر قسم کے تنازعہ سے بچانے کیلئے تمام سنجیدہ اقدامات اٹھائے جائیں اور وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس حوالے سے باہمی مشاورت اور وسعت قلبی کا مظاہرہ کرے تاکہ اس حوالے سے جن خدشات اور تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے انہیں ختم کیا جاسکے۔ علامہ عارف واحدی کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کو صرف شاہراہ یا ریلوے ٹریک تک محدود نہ کیا جائے نہ سمجھا جائے کیونکہ اس منصوبے سے جہاں ہزاروں کی تعداد میں روزگار کے مواقع میسر آئینگے وہیں پاکستان میں تجارتی سطح پر بھی انقلابی تبدیلیاں رونما ہونگی جس کے مثبت اثرات ہماری معیشت سمیت خطے دیگر ممالک پر پڑیں گے اب یہ حکمرانوں کی پالیسیوں پر منحصر ہے کہ اس منصوبے کو کس حد تک وہ ترقی کی شاہراہ میں صحیح معنوں میں تبدیل کرتے ہیں۔