قائد کا پاکستان 7 دہائیوں بعد بھی معاشی و داخلی استحکام، بنیادی حقوق کا منتظر،قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد نقوی
بابائے قوم نے آزادی سے روشناس کرایا مگر عوام آج بھی آزاد مملکت کے ثمرات سے دور، قائد ملت جعفریہ پاکستان
79 سال بعد بھی نظام پر انگشت نمائی تشویشناک امر، اب ملک کو ٹھوس عملی اقدامات کی ضرورت ہے، علامہ ساجد علی نقوی
راولپنڈی / اسلام آباد، 11 ستمبر 2026ء (جعفریہ پریس پاکستان) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح جیسی غیر معمولی، نظریاتی اور دوراندیش شخصیات و قیادت صدیوں میں قوموں کو میسر آتی ہیں۔ ان کی انتھک محنت، لگن اور ان کے ساتھ پُرجوش عوامی جدوجہد کے نتیجے میں آزاد و خودمختار مملکت مسلمانانِ برصغیر کو نصیب ہوئی، مگر 7 دہائیاں گزرنے کے باوجود آج بھی پاکستان معاشی و داخلی استحکام اور عوام بنیادی حقوق کے منتظر ہیں۔ 79 سال بعد بھی نظام پر انگشت نمائی تشویشناک امر ہے، اب اس ملک کو ٹھوس اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بانی پاکستان حضرت محمد علی جناح کے 78ویں یوم وفات پر اپنے پیغام میں کیا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ 11 ستمبر فقط بابائے قوم کا یوم وفات نہیں بلکہ یومِ خود احتسابی بھی ہے کہ اس عظیم ہستی سمیت بزرگوں کی جانب سے جو امانت ایک آزاد مملکت کی حیثیت سے ہمیں ملی، اس کے ساتھ ہم نے کتنا انصاف کیا؟
انہوں نے کہا کہ ریاست پاکستان فقط سرحدوں کی تقسیم نہیں بلکہ ایک مضبوط دو قومی نظریے کی بنیاد پر وجود میں آئی۔ لاکھوں لوگوں نے بڑی قربانیوں کے ساتھ ہجرت کی۔ دفاعی لحاظ سے ملک کو مضبوط ضرور کیا گیا، مگر افسوس کہ ناپائیدار پالیسیوں کے سبب ملک بیرونی قرضوں کے جال میں پھنس گیا، جس کے باعث آج 79 سال بعد خود مروجہ نظام پر انگشت نمائی تشویشناک امر بن چکی ہے۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ انگریز دور کے ظالمانہ قوانین کے ساتھ ساتھ بنیادی حقوق سے متصادم پالیسیاں ختم کرکے قانون کی حکمرانی اور میرٹ کا نظام رائج کیا جائے۔ نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام پر حقیقی قومی اتفاقِ رائے قائم کیا جائے تاکہ ملکِ خداداد ترقی پذیر ممالک، بلکہ قرض دار ممالک کی فہرست سے نکل کر ترقی کے راستے پر گامزن ہوسکے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے یوم وفات کے موقع پر ہمیں محض ماضی کو یاد کرنے کے بجائے اپنے طرزِ حکمرانی، معاشی پالیسیوں، قانون کی حکمرانی اور عوام کے بنیادی حقوق کے حوالے سے سنجیدہ خود احتسابی کرنا ہوگی۔ پاکستان کو مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ بنانے کے لیے محض بیانات نہیں بلکہ مؤثر، مستقل اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔