• کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس

تازه خبریں

شہید قائد کی ساڑھے چارسالہ خدمات سے بڑھ کر ان کی شہادت کی تاثیرزیادہ ہے ،شہید کی شہادت سے قوم بیدارہوئی،علامہ سید سجادحسین کاظمی

جعفریہ پریس۔ دفترقائدملت جعفریہ قم المقدسہ کے زیراہتمام منعقدہ قائدشہیدعلامہ عارف حسین الحسینی کی ٢٦ ویں برسی کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے حجت الاسلام والمسلمین علامہ سیدسجادحسین کاظمی نے کہاکہ کسی شخصیت کی پہچان کے دوطریقے ہیں ،ایک گفتارکے ذریعے اوردوسراکردارکے ذریعے پہچاناجاتاہے کہ وہ شخصیت کن خصوصیات،اہداف ومقاصدکے حامل تھی۔ حوزہ علمیہ کے استادنے حضرت علی علیہ السلام کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ نہج البلاغہ کا جب انگلش میں ترجمہ ہواتوایک انگریزعلی ولی کی گفتارسے متاثرہوکرمجتہدوقت کی خدمت میں حاضرہوا اورکہنے لگا کہ اس کلام کاصاحب لائق سربسجودہے توعلی ولی کی ترجمانی کرنے والے مجتہدنے کہاکہ جس علی کو آپ لائق سربسجودسمجھ رہے ہیں وہ علی ایک ذات کاسجدہ کیاکرتاتھاجسے ہم مسلمان خدائے وحدہ لاشریک مانتے ہیں تو اس انگریز نے پلٹ کرکہا کہ وہ ہی ذات برحق اورلائق سجدہ جسے علی جیسی عظیم ذات نے سجدہ کیااورمسلمان ہوجاتاہے ،اسی طرح علی ولی نے اپنے کردارسے ثابت کیاکہ پیغمبراسلام کے حقیقی جانشین اور وارث ہیں۔
دفترقائدکی مجلس نظارت کے رکن نے کہاکہ آج قائد شہیدکی ٢٦ویں برسی منائی جارہی ہے اورہم اپنے عظیم قائد شہیدکی یادمیں جمع ہوئے ہیں ،شہیدقائدعلامہ عارف حسینی نے ثابت کیاتھاکہ حقیقی حسینی اوروارث امام حسین ہیں ، جبھی حضرت امام خمینی نے علماء پاکستان کے نام اپنے پیغام میں فرمایاکہ عارف حسینی سیدالشہداامام حسین کے حقیقی فرزندتھے، ہمیں بھی کردار حسینی اپناناچاہئے کیونکہ شہیدقائدگفتارو کردارمیں اہلبیت کی سیرت پر عمل پیرا تھے،انہوں نے کہاکہ کیا شہید قائدکے زمانے میں اختلاف و مسائل نہ تھے  ؟مگرکوئی تنظیمی اورسماجی فردثابت نہیں کرسکتاکہ کبھی انہوں نے کسی کی غیبت کی ہو،تہمت لگائی ہو اور کیچڑ اچھالاہو۔
علامہ سجادحسین کاظمی نے کہاکہ شہیدقائدنے ہمیشہ تحفظ حقوق تشیع کاملکی ایوانوں میں دفاع کیا،ان تمام حقوق میں عزادرای ان کی نگاہ میں خاص اہمیت کی حامل تھی کیوں کہ عزاداری کا معاشرے کی بیداری میں اہم کردارہے ،انقلاب اسلامی کی کامیابی میں عزاداری کا اہم عنصرہے جبھی حضرت امام خمینی نے بھی عاشورکوخاص اہمیت دی ،ہم اس محرم وصفراورعزاداری کی اہمیت کو نہیں سمجھتے مگر دشمن اس کی اہمیت سے آگاہ ہے جبھی سیاسی اورلسانی جلوسوں کے روکنے کی بات نہیں ہوتی مگرعزاداری کے جلوسوں میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں ،چونکہ یہ عزاداری اہمیت کے حامل ہے حقیقی قائدین نے اسی پرزوردیااورشہیدقائدعلامہ عارف حسین الحسینی بھی اس پرعقیدہ وایمان رکھتے تھے۔
رکن مجلس نظارت دفترقائدقم نے کہاکہ ہم مردہ پرست نہیں ان کی زندگی میں بھی قدرکی تھی اورہمشیہ ان کی آوازپرلبیک کہا،علامہ عارف حسینی کی دورقیادت میں تکفیری دہشت گردی کی چنگاری اٹھی تو شہید قائد نے اس کامقابلہ اتحادبین المسلمین کے ذریعے کیااورکہاکہ دوردرازعلائقے میں اگرکسی ایک مومن کے گھرپرعلم لہرارہاہے تو اس کی حفاظت بھی میری ذمہ داری ہے جس کی حفاظت حکمت وتدبییرسے ہی ممکن ہے، مگرافسوس وہ اپنی دورقیادت میں اپنی قوم کے سامنے ثابت کرتے رہے کہ میں بھی شیعہ ہوں ۔
استادحوزہ علمیہ قم نے کہاکہ آج سوال کیاجاتاہے کہ شہیدکے بعد ان ٢٦ سالوں میں کیاہوا؟ کیاتمہیں معلوم ہے ان ٢٦ سالوں میں ملت تشیع کے خلاف کیاسازشیں ہوئیں اوران کاکس اندازسے مقابلہ کیاگیا جب تک ان ٢٦ سالوں میں دشمن کی سازشوں کاعلم نہ ہوہم ان ٢٦سالہ خدمات کودرک نہیں کرسکتے،انہوں نے سعودی کی طرف سے پیش کئے گئے ہلال شیعی کے خطرہ کااشارہ کرتے ہوئے کہاکہ اس ہلال شیعی میں لبنان سے علامہ سیدحسن نصراللہ،ایران سے حضرت آیت اللہ امام خامنہ ای ،عراق سے حضرت آیت اللہ سید علی سیستانی اورپاکستان سے قائدملت علامہ سید ساجدعلی کے نام پیش کئے گئے ہیں یعنی دنیامیں صہیونی اورسعودی لابی کو جن شخصیات سے خطرہ ہے وہ یہ ہی چارشخصیات ہیں۔
رکن مجلس نظارت دفترقم نے کہاکہ شہیدکے جانشین اوروارث علامہ سید ساجدعلی نقوی نے بھی کبھی کسی کی غیبت نہیں کی ،ہمیشہ مثبت کاموں میں تعاون کیا،منفیات میں خاموشی اختیارکی ،کبھی کسی کی مخالفت نہیں کی،ملکی تمام ترسازشوں کامقابلہ اتحاد و وحدت سے کیااوراسی اتحاد و وحدت کی پالیسی کے نتیجے میں تکفیریت سے ایوانوں کا صفایاکیا،پنڈی جلوس کی خطرناک سازش کامقابلہ اسی اتحادکے ذریعے کیا۔
علامہ سجاد کاظمی نے قائدملت کی امام خمینی کی آخری ملاقات کاذکرکرتے ہوئے کہا کہ جب قائد ملت ،امام خمینی کی عیادت کے لئے تہران تشریف فرما ہوئے اورامام سے ملاقات کی توامام خمینی نے قائدملت کو مخاطب قرار دے کر کہاکہ پاکستان میں اتحاد بین المسلمین پر کام کریں پھرتھوڑے ہی عرصے بعد امام خمینی کی وفات ہوجاتی ہے توقائدنے امام کے ان جملات کو اپنے لئے وصیت قرار دیتے ہوئے اتحاد پر دن رات محنت کی اور اس میں کامیابی حاصل کی ۔
استاد حوزہ علمیہ قم نے کہا کہ آج نجی محفلوں اورسوشل میڈیاپر کیا ہورہا؟ الزام تراشی،بتہان،تہمت، غیبت اورکردارکشی ! پھربھی دعویٰ ہم حسینی ہیں اورشہیدقائدکے فرزندہیں!الزام تراشی،بتہان،تہمت، غیبت اورکردارکشی سے حسینی کردارکاکوئی تعلق نہیں۔
علامہ سجادحسین کاظمی نے کہاکہ شہیدقائدکی ساڑھے چارسالہ خدمات سے بڑھ کر ان کی شہادت کی تاثیرزیادہ ہے ،شہیدکی شہادت سے قوم بیدارہوئی اورعوام نے قیادت کوشہادت کے بعدپہچانا۔