آیت اللہ صافی گلپائیگانی

شیخ الفقہا و المجتہدین آیت اللہ العظمی صافی گلپائگانی رضوان اللہ تعالی علیہ کو جو چیزیں دوسروں سے ممتاز بناتی ہیں:

 آپ عشق ولایت اہلبیت اطہار علیھم السلام میں ڈوبے رہتے اہلبیت اطہار علیھم السلام کے سلسلہ سے کسی بھی طرح کی تفریط و توہین کے خلاف ہمیشہ سب سے پہلے کھل کر سامنے آتے ۔عشق اہلبیت اطہار علیھم السلام ہی کی بنیاد پر دنیا بھر میں موجود عاشقان اہلبیت اطہار علیھم السلام سے بے پناہ محبت کرتے۔ ہمیشہ عوام کے مسائل اٹھاتے عوام کی مشکلات سربراہان مملکت تک پہنچاتے اور جہاں بات عوام اور حکومت کی ہوتی اور دونوں آمنے سامنے ہوتے تو ساتھ عوام کا دیتے ۔

 دفاع ولایت اہلبیت اطہار علیھم السلام میں ہمیشہ پیش قدم رہتے برصغیر کے علماء کی اسی لئے زیادہ قدر کرتے کہ انہوں نے جی جان سے دفاع اہلبیت ع کیا اور وہ شخصیتوں کے پیچھے نہ لگ کر حقیقتوں کے پیچھے لگے۔ آپ ولایت کی رائج سیاسی تفسیر سے زیادہ اسکی حقیقی تشریح پر یقین رکھتے “دین میں سیاست” کو مانتے تھے “سیاست میں دین” کو ناقابل برداشت جانتے تھے ۔

 امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کو اسلامی نظام کا حقیقی وارث سمجھتے اور بشریت کی نجات کے لئے آپکے وجود نازنین کو آخری امید کے طور پر دیکھتے ہوئے کوشاں رہتے حضرت حجت ع کے سلسلہ سے لوگوں میں بیداری پیدا کریں اس سلسلہ سے آپ نے متعدد کتابیں لکھیں جن میں “منتخب الاثر” جیسی معرکہ الآراء کتاب بھی شامل ہے ۔

 حضرت صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا اور سید الشہدا ع سے خاص عقیدت رکھتے اور ان پر پڑنے والی مصیبتوں کے تذکرے پر زارو زار گریہ فرما تے اگر کوئی بچہ بھی مصائب حضرت فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا و سید الشہدا ع بیان کرتا تو اسی طرح روتے جیسے کوئی بڑا اور معروف خطیب بھرے مجمع میں پر درد مصائب پڑھ رہا ہو ۔

سادات کرام سے انسیت رکھتے اگر کوئی ان سے کم سن سید بھی آ جاتا تو احتراما کھڑے ہو جاتے سادات کرام کو لیکر ہمیشہ پر امید رہتے کہ جب تک نسل زہرا سلام اللہ علیہا باقی ہے دنیا جہالت کے اندھیروں میں نہیں ڈوب سکتی۔
مذکورہ بالا اس طرح کی اور بھی بہت سی چیزیں ہیں جنہوں نے آپ کو اپنے ہم عصر دیگر فقہا و مجتہدین سے ممتاز بنایا کر پیش کیا جو آہستہ آہستہ سامنے آتی رہیں گی اور اس بات کو واضح کرتی رہیں گی کہ آخر آپ کی شخصیت دوسروں سے منفرد کیوں تھی ۔