جعفریہ پریس – شیعہ علماء کونسل پاکستان بلتستان ڈویژن کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان تنظیمی ورکرز کنونشن بعنوان ترویج فکر ولایت و تحفظ پاکستان کنونشن مشہ بروم ہوٹل سکردو میں منعقد ہوا۔ کنونشن میں گلگت بلتستان بھر سے کثیر تعداد میں علمائے کرام ،زعمائے ملّت اور تنظیم کے کارکنوں کی بے مثال شرکت سے کنونشن کی رونق میں اضافہ ہوا۔ کنونشن میں علماء کرام اور خطباء نے تحفظ پاکستان اور نظریہ ولایت فقیہ پرکھل کر روشنی ڈالی۔ کنونشن کے مہمان خصوصی علامہ شیخ مرزا علی صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس علاقے کو ایک طویل عرصے سے حقوق نہیں دیئے گئے اور مختلف اوقات میں کسی نہ کسی بہانے سے عوام کو طفل تسلیاں دینے کی کوششیں ہوتی رہی۔انہوں نے مزید کہا کہ وفاق میں وزرا اس خطے سے متعلق کہتے ہیں کہ یہ آئینی سیٹ اپ میں شامل نہیں ہیں تو ہمارا سوال ہے جب آئینی سیٹ اپ میں شامل نہیں ہیں توتم لوگوں کواس خطے پر کس نے حکمرانی کا حق دیا ہے؟علامہ سید محمد عباس رضوی صدر شیعہ علماء کونسل گلگت بلتستان نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس خطے کے ساتھ بہت نا انصافیاں ہوئی ہیں اب ہم گلگت بلتستان کو ملک کا پانچواں صوبہ بنا کے ہی دم لیں گے۔اس خطے کی بابصیرت عوام انشاء اللہ آئینی حیثیت سے کم کسی چیز کو قبول نہیں کرینگے۔سابق وزیر وممبر اسمبلی دیدار علی صاحب نائب صدر شیعہ علماء کونسل گلگت بلتستان نے کہا کہ ہمارے آباء و اجداد نے اپنے زور بازو سے اس علاقے کو آزاد کرا کے بلا شرط و شروط پاکستان میں ضم کردیا لیکن آج اُس عظیم قربانی کا صلہ یہ ہے کہ 68 سال سے ہمیں حقوق سے محروم رکھا گیا۔ اس موقع پر علامہ شیخ فدا حسن عبادی صاحب نے قرارداد پیش کی ۔کنونشن سے علامہ شیخ انصار حسین امام جمعہ نلتر گلگت،علامہ سید محمد عراقی پیر طریقت مسلک نوربخشیہ شگر، علامہ شیخ محمد رضا بہشتی صدر شیعہ علما ء کونسل ضلع سکردو، سابق ممبر اسمبلی کیپٹن (ر) سکندر علی اور سید محمد امام جمعہ خانقاہ معلی سرمیک نے خطاب کیا۔ اس پروقار تقریب کی نظامت کے فرائض علامہ شیخ محمد یعقوب شاہد آخوندی جنرل سیکریڑی شیعہ علماء کونسل ضلع سکردو نے انجام فرمائی۔