عزاداری میں رکاوٹ برداشت نہیں ، پہلے سے زیادہ شان و شوکت سے منائیں گے، علامہ سبطین سبزواری
محرم الحرام کی آمد سے قبل کارکنوں کی گرفتاریا ں ، علما پر پابندیوں پر ملت جعفریہ میں تشویش پائی جاتی ہے
فورتھ شیڈول کے ظالمانہ قانون کو واپس لیا جائے، لائن آف کنٹرول پربھارتی فائرنگ کو امریکی آشیر باد حاصل ہے، ملتان میں پریس کانفرنس سے خطاب
ملتان( ) شیعہ علماکونسل پنجاب کے صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے واضح کیا ہے کہ عزاداری سید الشہدا میں کسی قسم کی رکاوٹ کو برداشت نہیں کریں گے، عزاداری، اصلاح، امن اور حریت کا درس دیتی ہے۔اس کو پہلے سے زیادہ شان و شوکت سے منائیں گے۔ حکومت اور انتظامیہ رکاوٹو ں سے باز رہے۔ محرم الحرام کی آمد سے قبل کارکنوں کی گرفتاریوں اور علما پر پابندیوں پر ملت جعفریہ میں تشویش پائی جاتی ہے ، فورتھ شیڈول کے ظالمانہ قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔یہ مطالبہ انہوں نے ملتان پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا۔جس میں صوبائی سینیر نائب صدر مولانا موسیٰ رضا جسکانی، ڈپٹی جنرل سیکرٹری بشارت عباس قریشی، ڈویژنل صدرسیدمحمد شاہ ایڈووکیٹ،جنرل سیکرٹری اظہر بلوچ، ضلعی صدرمولانا کاشف ظہور نقوی ،جنرل سیکرٹری غلام قاسم اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم پرامن اور ذمہ دار شہری ہیں،ہم احتجاج اور مذمت کرتے ہیں کہ محرم الحرام کی آمد سے پہلے ہی پرامن علما پر مختلف شہروں میں مجالس پڑھنے والوں پر پابندیاں لگائی جارہی ہیں۔ حتیٰ کہ وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اس دنیا میں نہیں رہے، فوت ہوچکے ہیں۔ اسی طرح مفسر قرآن علامہ الشیخ محسن علی نجفی اور علامہ شیخ محمد شفا ءنجفی کے نام پابندی والے علما میں شامل کرنے کا شرمنا ک اقدام محض بیلنس پالیسی کے تحت افسوسناک اور ظالمانہ اقدام ہے، ان کے نام پابندی کی فہرست سے نکالے جائیں۔علامہ سبطین سبزواری نے کہا کہ عزاداری صدیوں سے جاری ہے، دہشت گردی حکومت اور ریاستی اداروںکی ناکامی ہے۔ دہشت گردی کی وجہ سے عزاداری رک سکتی ہے اور نہ ہی ہم قربانیوں سے گھبرانے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملت جعفریہ کے پرامن اور ذمہ دارشہریوں کو فورتھ شیڈول کے ذریعے تنگ کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ سپریم کورٹ کی طرف سے بے بنیاد مقدمات میں بری قراردیے جانے والے کارکنوں کو بلاوجہ سے فورتھ شیڈول میں ڈال کر تنگ کیا جارہا ہے، تھانے بلوا کر بلاوجہ مطالبات اور وقت ضائع کیا جاتا ہے۔ایسے اقدامات توہین عدالت ہے، سپریم کورٹ از خود نوٹس لے ۔کارکنوں کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے فی الفور رہائی اورتفتان بارڈر پر زائرین کو تنگ کرنے کا سلسلہ بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔علامہ سبطین سبزواری نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کی آڑ میںشعائر تشیع کومحدود کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں، ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔ ہم بھاگنے والے نہیں، شہادتوں کے راہی اور قربانیوں کے عادی ہیں۔شیعہ علما کونسل کے رہنما نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے لائن آف کنٹرول پر اپنی عوام کو بیوقوف بنانے اور اقوام متحدہ میں اٹھائی جانے والی خفت سے توجہ ہٹانے کے لئے فائرنگ کو امریکی آشیر باد حاصل ہے۔ اسلام اور پاکستان کے دشمن بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی سندھ طاس معاہدے کو ختم کرنے کی ہرزہ سرائی اور دھمکیوں کے خلاف قوم افواج پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتی اور قومی اتحاد و وحدت پر زوردیتی ہے۔بھارت سے جنگ ہوئی تو پوری قوم ایک ہے، فوج کا بھر پور ساتھ دیں گے۔میڈیا سیل : 0300-0321-9640079, 03214427634, 03147111412