قائد ملت جعفریہ پاکستان کا علماء و ذاکریں کانفرنس سے صدارتی خطا

علماءو ذاکرین کانفرنس مکتب تشیع کے نمائندہ پرامن احتجاج کا نکتہ آغاز ہے۔ علامہ ساجد نقوی
مکتب تشیع کے شہری حقوق سلب کرنا آئین و قانون سے متصادم ہے۔ قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقوی
عزاداری پر قدغن قبول نہیں۔ قوم اربعین بھرپور طریقے سے منائے۔ قائدِ ملت جعفریہ علامہ ساجد نقوی

راولپنڈی/ اسلام آباد25ستمبر 2021 ( جعفریہ پریس پاکستان) قائدِ ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ بزرگ علماء کے زیر اہتمام منعقدہ ”علماءو ذاکرین کانفرنس مکتب تشیع کا نمائندہ اقدام ہے جسے مکتب تشیع کی جانب سے اپنے حقوق کے حصول کے لیے پرامن و پروقار احتجاج کا بہترین عملی نمونہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اپنے ایک بیان میں علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ مکتب تشیع ایک ذمہ دار اور باوقار مکتب ہے جس نے وطن عزیز پاکستان کے قیام سے لیکر اب تک ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے نہ صرف روش کردار ادا کیا ہے بلکہ ملکی بقاءکے لیے گرانقدر قربانیاں دیں ہیں جو اظہر من الشمس ہیں۔ اسی لیے مکتب تشیع نے ایک ذمہ دار ہونے کے ناطے اپنے شہری اور مذہبی آزادی کو سلب کرنے کی کوششوں کے خلاف بھی پرامن اور پروقار احتجاج کا راستہ اختیار کیا ہے۔ تاہم انہوں نے مکتب تشیع کے اس پرامن احتجاج کو حکومت کے لیے الارم سے تعبیر کرتے ہوئے اس اقدام کو نکتہ آغاز قرار دیا اور واضح کیا کہ سرکاری اہکاروں کے ذریعہ اہل تشیع کے خلاف روا رکھے جانے والے معاندانہ رویہ کو ترک کیا جانا چاہیے اور ملکی شہری ہونے کے ناطے اہل تشیع کو حاصل مذہبی آزادی پر قدغن عائد کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے جو آئین و قانون سے متصادم ہے۔ انہوں نے کہا کہ عزاداری سید الشہداءمکتب تشیع کا بنیادی آئینی اور قانونی حق ہے جس پر کسی بھی قسم کی قدغن قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے اپنے پیغام میں اربعین نواسہ رسول جگر گوشہ بتول کو بھرپور طریقے سے منانے کی ہدایت کرتے ہوئے چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر ایک نئی مثال قائم کرنے کی اپیل بھی کی۔ جبکہ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت و انتظامیہ عزاداری کے راستے میں رخنہ اندازی سے گریز کرتے ہوئے اب تک ہونے والے عزاداری مخالف تمام تر اقدامات واپس لے گی۔