علمائے شیعہ کے اجتماع کا اعلامیہ جاری

علمائے شیعہ کے اجتماع کا اعلامیہ جاری

وطن عزیز کے بیدار مغز علمائے کرام کا یہ نمائندہ اجتماع وطن عزیز پاکستان کے تحفظ اور اس میں بسنے والے مختلف مسالک و مذاہب کے پیروکاروں میں باہمی الفت و محبت ووحدت کو نہایت اہمیت دیتا ہے اور پوری طرح سے اس امر کا ادراک رکھتا ہے وطن عزیز کا تحفظ افتراق و انتشار سے بچنے ہی میں مضمر ہے نیز یہ کہ اس حقیقت کو نطر انداز کرنے والے عناصر کو اپنے محب وطن ہونے پر نطر ثانی کرنا چاہئے ۔
 
۲۔آج کا یہ نمائندہ اجتماع وطن عزیز پاکستان کی جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لئے افراد ملت میں باہمی اتفاق پر زور دیتا ہے
 
۳۔آج کا یہ عظیم الشان نمائندہ اجتماع عزاداری سید الشہداء کو اپنی شہ رگ حیات سمجھتے ہوئے ایام عزا کی مجالس کوترویج و تحفظ عزاداری جیسے عظیم مشن کی تکمیل میں بہترین معاون و مددگار تصور کرتا ہے ،مجلس عزا پر بلاجواز پابندی حتی کہ چار دویواری کے اندر بھی مجالس عزا پر پابندی جلوسوں میں رکاوٹ ،محدودیت،بونڈ فیلنگ اور این او سی کی شرط عائد کرنے جیسے اقدامات ناقابل قبول ہیں۔
 
۴۔یہ نمائندہ اجتماع عزاداری سید الشہداء ؑ کو بہترین پیغام وحدت امت سجھتا ہے اور اپیل کرتا ہے کہ تمام افراد متحد رہتے ہوئے اور اختلافات کو ہوا دینے سے گریز کرتے ہوئے ملت واحدہ کے اجتماعی مفادات کو پیش نظر رکھیں۔
 
۵۔یہ نمائندہ اجتماع بانیان مجالس سے بھی بجا طور پر یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ بھی ا ن عوامل کو ملحوظ خاطر رکھیں کہ جن سے عزاداری کو تحفظ اور فروغ میں مدد مل سکتی ہے۔
 
۶۔یہ نمائندہ اجتماع باور کراتا ہے کہ نصاب تعلیم اور نصابی کتب کے بارے میں وفاق المدارس الشیعہ کی طرف سے ارسال شدہ موقف حتمی ہے اسے ضرور مدنظر رکھا جائے۔
 
۷۔یہ نمائندہ اجتماع ان دنوں وطن عزیز میں متنازعہ مسائل کو بلاجواز قانونی تحفظ فراہم کرنے پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتا ہے اور باور کراتا ہے کہ اس غیر حقیقی و متعصبانہ عمل سے قوم و ملت میں عدم تحفظ کا احساس روز بروز بڑھتا چلا جارہا ہے جو وطن عزیز کے استحکام کے لئے کسی طور بھی سود مند نہیں۔
 
۸۔یہ نمائندہ اجتماع ارباب اختیار سرکاری اداروں،پارلیمنٹ اور سینٹ سمیت دیگر مقتدر قانون ساز اداروں کے ارباب بست و کشاد کی ذمہ داروں کی جانب متوجہ کرنا چاہتا ہے کہ انہیں قوانین وضع کرتے وقت قوم وملت کا نبض شناس ہونا چاہئے اور ایسا کوئی قانون وضع نہ ہونے دینا چاہئے کہ جس سے لوگوں کے جذبات مجروح اور افراد ِقوم میں عدم تحفظ کے شبہات پروان چڑھیں کیونکہ ان کا یہ غیر منصفانہ عمل وطن عزیز میں انارکی کو فروغ دینے کا سبب بن سکتا ہے۔
 
۹۔یہ نمائندہ اجتماع شدت سے محسوس کرتا ہے کہ پر امن اور قانون پسند شہریوں کو مختلف حیلے بہانوں سے فورتھ شیڈول میں ڈالنا ذیادتی ہے اس کا تدارک اور آئندہ کے لئے اس عمل سے گریز لازم ہے۔
 
۱۰۔یہ نمائندہ اجتماع بجا طور پر توقع رکھتا ہے کہ زیارات مقدسہ سے متعلق کوئی بھی پالیسی بناتے وقت زائرین کے مفادات اور سہولیات کا خیال رکھا جائے گا