• مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس
  • اپنے تنظیمی نظام اور سسٹم کو مضبوط سے مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ورکر کنونشن
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات علمی حلقوں میں خلا مشکل سے پُر ہوگا علامہ شبیر میثمی

تازه خبریں

غزہ ۔۔۔۔۔ داعش۔۔۔۔۔ یوم القدس

ماہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ شروع ہو چکا ہے جسے احادیث کی روشنی میں مغفرت کا عشرہ کہا جاتا ہے جس میں لوگ سابقہ دوعشروں کے اعمال کا نتیجہ لیتے ہوئے اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں کہ ان کی خطاؤں سے درگذر فرما کر ان کی آخرت بہتر و کامیاب فرمائے۔ آخری عشرے میں مغفرت کی خواہش کے ساتھ ساتھ عید الفطر کی تیاریاں بھی عروج پر پہنچ جاتی ہیں اور ہمارے معاشروں میں رائج انداز سے لگتا نہیں ہے کہ لوگ مغفرت مانگ رہے ہیں یا مغفرت کو اپنے آپ سے دور اور رمضان المبارک میں کی گئی ریاضت و زحمت کو ضائع کرنے جارہے ہیں۔ فلسطین میں ان دنوں مغفرت اور عید کی تیاریوں کے کچھ منفرد مناظر نظر آرہے ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق اب تک گذشتہ چودہ دنوں میں ۵۰۱ نہتے مسلمان اسرائیلی بربریت کا نشانہ بن کر اپنی جنت یقینی بناچکے ہیں اور ان شہداء کی تجہیز و تکفین اور احتجاج کے مراحل انجام دینے کے اجر میں ہزاروں لوگ اپنی آخرت کا سامان آخری عشرے میں پیدا کرچکے ہیں۔ عیدالفطر کی تیاریوں کا منظر کچھ اس طرح بیان کیا جارہا ہے کہ زندہ لوگ نئے لباس کی بجائے نئے کفن خرید رہے ہیں۔ عید کی خوشیوں بھری تقریبات منعقد کرنے کی بجائے شہداء کی یاد میں تقاریب کے انعقاد کا پروگرام بنا چکے ہیں۔ جب سے عیدوں کی تاریخ شروع ہوئی ہے تب سے عیدیں بڑوں کی بجائے بچوں سے وابستہ ہوگئی ہیں اور عید کی تمام خوشیاں بچوں سے وابستہ ہوتی ہیں جبکہ عید کی خوشیوں کا لطف بھی بڑوں سے زیادہ بچے لیتے ہیں۔اتفاق کی بات یہ ہے کہ فلسطین میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں زیادہ تر بچے زد میں آئے ہیں اس لئے اب بچ جانے والے بچے عید کے ماحول میں کس طرح خوش ہوں گے اس کا ہم صرف تصور ہی کرسکتے ہیں۔ زندہ رہ جانے والے بچوں نے عید کے موقع پر اپنے شہید بھائیوں کے لیے چراغوں ‘ خوشبوؤں‘ دیوں‘ پھولوں ‘ یادگاری تصاویر ‘ تحسینی تحریروں اور خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے تقاریب کے انعقاد کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ کہتے ہیں جنگ بندی کا امکان معدوم ہونے کے پیش نظر زندہ رہ جانے والے بچوں نے اپنے بڑوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ہمارے لئے بھی عید کے لباس اور لوازمات کی بجائے کفن اور تدفین کے لوازمات خرید کے رکھے جائیں تاکہ ہم اپنے شہید بھائیوں کے پاس خوش خوش جاسکیں۔ اس تمہیدی تحریر کا مقصد جہاں غزہ کا المیہ اور وہاں کی المناک صورت حال سے آگاہ کرنا ہے وہاں اسرائیلی مظالم اور کھلی بدمعاشی کا نقشہ پیش کرنا ہے ۔ واقفان حال اس بات کا کھوج لگا رہے ہیں کہ اسرائیل نے غزہ پر اتنی شدید بمباری کے لیے یہ ایام ہی کیوں منتخب کئے آخر اس کے پیچھے کیا منظر اور کیا مقصد ہے؟ ایک طرف جب پہلے شام اور عراق میں قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے اور داعش نام کا سفاک گروہ اپنی سفاکیت جاری رکھے ہوئے ہے ان ہی دنوں دوسری طرف اسرائیل نے فلسطین پر اچانک اور بلاوجہ بمباری شروع کردی ہے۔ ہماری معلومات اور خیالات کے مطابق تازہ اسرائیلی بربریت کے پس منظر میں ایک سے زیادہ وجوہات ہیں ۔ سب سے پہلی اور بڑی وجہ داعش کی مہم ہے جس کے پس منظر میں اتفاق سے بیک وقت اسرائیل اور سعودی عرب کا عملی اتفاق ہے بالکل ایسے ہی جیسے پانچ بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ ہونے والے ایرانی معاہدے کے موقع پر ’’سارے خدائی اک پاسے میرا ڈھولن ماہی اک پاسے ‘‘ کے مصداق اسرائیل اور سعودی عرب یا جان و دو قالب نظر آئے اور دونوں نے ڈٹ کر اس معاہدے کے خلاف قیام کیا حالانکہ دنیا کے تمام تر ممالک اس معاہدے کے حق اور تائید میں تھے۔ دوسری وجہ شام اور عراق میں پیدا ہونے والے خلفشار ہیں جس میں یقینی طور پر اسرائیل کے بڑے دشمن یعنی لبنان (حزب اللہ) ‘ شام (بشارالاسد ) ‘ عراق اور ایران مصروف عمل ہیں اور اپنی دفاعی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اسرائیل نے ان کی مصروفیت کے وقت سے فائدہ اٹھا کر حماس کی طاقت کم کرنے اور فلسطینیوں کو دبانے کی کوشش کی ہے ۔ وقت کی ہم آہنگی ذہنی ہم آہنگی کے بعد ہی پیدا ہوئی ہے۔ داعش کی پشت پر اسرائیلی اور سعودی ہاتھ کی خبریں تسلسل کے ساتھ آرہی ہیں اسرائیل اور داعش نے طے شدہ باہمی منصوبے کے تحت عراق اور فلسطین میں حملے شروع کئے ہیں تاکہ حماس اور حزب اللہ کو جنگ میں شامل کرنے کے جواز تراشے جاسکیں اور اگر ایسا ممکن ہوجائے تو عرب ممالک کو اس جنگ کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے اور یوں شام و عراق اور لبنان و فلسطین کی سیاسی‘ جغرافیائی اور حکومتی حیثیت میں تبدیلی لائی جائے۔ کیونکہ اسرائیل ‘ عرب ممالک اور داعش جانتے ہیں کہ لبنان اور فلسطین کا مسئلہ حزب اللہ کی کمزوری ہے اور وہ اس کے دفاع کے لیے یقیناًمیدان عمل آئے گی اگر ایسا ہوتا ہے تو حز ب اللہ کی توجہ عراق اور شام کی طرف کم پڑ جائے گی اور اس طرح داعش اور شامی دہشت گرد گروہ اپنے اپنے ممالک میں تیزی اور آزادی کے ساتھ کاروائیاں کرکے اپنا قبضہ مضبوط اور طویل کریں گے۔ تیسری وجہ مصر ‘ سعودی عرب‘ اردن ‘ بحرین ‘ لیبیا اور دیگر عرب ممالک کی اسرائیل نوازی اور بے حسی ہے جو ان دنوں میں مزید قوی ہوگئی ہے کیونکہ امریکہ کی مداخلت اور تسلط میں استحکام آچکا ہے اور وہ عرب ممالک کے تمام حکومتی ‘ سیاسی اور علاقائی معاملات میں براہ راست کردار ادا کررہا ہے۔ اسرائیل کے بارے میں امریکہ کی اولاد ہونے کا تصور تو کئی دہائیوں سے قائم ہے اور اس تصور میں روز بروز تقویت آتی جارہی ہے موجودہ دنوں میں امریکی سرپرستی کی نوعیت تبدیل ہوئی ہے اور امریکہ نے عرب ممالک کو اسرائیل کی غلامی کا مزید عادی بنا دیا ہے۔ حالانکہ اسرائیل کا ملت اسلامیہ کے لیے ناسورہونا اظہر من الشمس ہے عرب ممالک کی حکومتوں کا معاملہ جدا ہے لیکن عرب عوام کی اکثریت اب بھی اسرائیل کو اپنا قاتل ‘ اسلام کا دشمن اور ایک غاصب ریاست سمجھتی ہے۔ جیسا کہ بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح نے اسرائیل کے بارے میں دوٹوک نظریہ اختیار فرمایا اور اسرائیل کو ایک غاصب راست قرار دیتے ہوئے تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور فلسطینی عوام کے حق آزادی کو تسلیم کیا اسی نظریہ کو بعد میں پاکستان کی سرکاری اور خارجہ پالیسی کا مستقل حصہ بنایاگیا جو آج تک جاری ہے۔ چوتھی اہم وجہ لبنان کے اہلسنت عالم دین نے بہت خوبصورت الفاظ میں بیان کی ہے وہ اسرائیلی بمباری پر سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کی خاموشی اور داعش کی حمایت کے حوالے سے کہتے ہیں کہ اگر اب تو عرب ممالک اسرائیل اور داعش کے تمام تر جرائم اور مسلمانوں کے قتل عام پر خاموش ہیں لیکن اگر کل اسرائیل کے بارے میں اگر انہیں یہ علم ہوجائے کہ اسرائیل نے شیعہ مسلک اختیار کرلیا ہے تو سعودی عرب سمیت تمام عرب ممالک یک جان و یک زبان ہوکر اسرائیل پر حملہ کردیں گے۔ یعنی چوتھی اہم وجہ مسلکی تعصب اور مسلکی تفریق ہے جس کی بنیاد پر عدل و انصاف کا قتل کیا جارہا ہے۔ صیہونی اور یہودی اسرائیل عرب ممالک کے لیے قابل قبول اور فلسطینی عوام (حالانکہ فلسطین کے عوام کی قلعی اکثریت اہل سنت مکتب فکر سے تعلق رکھتی ہے )کے کھلے قتل کے باوجود تسلیم ہے لیکن ایک مسلم مکتب فکر سے وابستگی کو اس قدر شدت اور گھناؤنے پن سے دیکھا جارہا ہے کہ کفر کی ساری حدیں عبور کی جاچکی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان دنوں اسرائیل اور داعش کی کاروائیاں ایک ہی ایجنڈے اور منصوبے کا حصہ ہیں تاکہ امت مسلمہ کو مجموعی طور پر کمزور کرکے ان کے اندر پیدا ہونے والی بیداری کو روکا جائے ۔ ماضی قریب میں اسرائیل نے حزب اللہ کے ہاتھوں جو عبرتناک شکست کھائی ہے ان دنوں اسرائیل اور داعش مل کر اس شکست کا بدلہ چکانا چاہتے ہیں۔اور حماس کو نشانہ بنا کر فلسطین کو روندنا چاہتے ہیں تاکہ عرب ممالک کو خوفزدہ کیا جائے اور عالم اسلام میں اسرائیل اور داعش کے خلاف پیدا ہوچکی نفرت کو خوف میں بدلا جائے لیکن ماضی کی طرح اب بھی اسرائیل کی بربریت کے باوجود فلسطینی مسلمانوں کا خون اپنی تاثیر چھوڑے گا اور معصوم بچوں کے جنازے اسرائیل اور داعش کے علاوہ ان کے سرپرستوں کے جنازے میں آخری کیل ثابت ہوں گے۔ یوم القدس کا آغاز جن حالات کو دیکھ کر کیاگیا وہ حالات اب بھی موجود ہیں بلکہ ان میں شدت آتی جارہی ہے ۔ قبلہ اول بیت المقدس اب تک اسرائیلی پنجوں میں قید ہے ۔ فلسطینی عوام کو ان کا حق آزادی ابھی تک نہیں ملا۔ امریکہ کی کھلی سرپرستی اسرائیل کو حاصل ہے۔ عرب ممالک کی بے حسی میں تیزی سے اضافہ ہوچکا ہے۔ حماس اور حزب اللہ کو کچلنے کے منصوبے اب بھی نئے نئے انداز سے عمل میں لائے جارہے ہیں۔ غزہ کے محاصروں اور بمباری کا سلسلہ رکا نہیں تھما نہیں۔ حالیہ منظر نامہ اس بات کا متقاضی نہیں کہ یوم القدس منانے کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے بلکہ موجودہ حالت اس بات کا شدت سے تقاضہ کرتے ہیں کہ اس سال یوم القدس کے پروگرام نہایت تزک و احتشام ‘ اسلامی جذبے ‘ وحدت و اخوت اور ملی بیداری کے ساتھ منعقد کئے جائیں اور اسرائیل و داعش سمیت اس کے تمام داخلی و خارجی سرپرستوں کو باور کرایا جائے کہ قبلہ اول اور فلسطین کی آزادی کے مسئلے پر امت مسلمہ جسد واحدہ ہے اس کی وحدت کو نہیں توڑا جاسکتا اور امت مسلمہ مکمل اٰخوت کے ساتھ اس وقت تک یوم القدس مناتی رہے گی جب تک اسرائیل صفحہ ہستی سے مٹ نہیں جاتا۔ جب تک قبلہ اول مسلمانوں کے زیر کنٹرول نہیں آجاتا۔ جب تک فلسطینی عوام اپنا الگ آزاد ملک قائم نہیں کرلیتے۔ اور جب تک مسلمانوں کی سوئی ہوئی حمیت و غیرت کو بیدار نہیں کیا جاتا۔اس کے ساتھ اسلامی ممالک کے عوام کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ یوم القدس منانے کے علاوہ اپنے حکمرانوں کے گریبانوں میں ہاتھ ڈالیں جو نام نہاد مصلحتوں اور خودساختہ مفادات کی وجہ سے قبلہ اول اور فلسطینی عوام پر اسرائیلی قبضے جیسے بڑے گناہ اور جرم کے خلاف کھل کر صدائے احتجاج بلند نہیں کرتے