فرانس نے کہا ہے کہ گذشتہ سال پیرس میں دہشتگردوں کے حملوں کے بعد نافذ کی جانے والی ہنگامی صورتحال کی مدت میں توسیع کی جا سکتی ہے۔

اس ہنگامی صورتحال کے تحت پولیس کے تلاش اور نظر بندی کے اختیارات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

فرانسیسی وزیر اعظم مینوئل والس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یہ بات کہی ہے۔ وہ فرانس کے شہر پیرس میں ہونے والے حملوں کی پہلی برسی پر بات کر رہے تھے جس میں 130 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

وزیراعظم والس نے کہا کہ ’آنے والے انتخابات میں بہت جگہ عوامی اجلاس ہوں گے اور ہمیں اپنی جمہوریت کو بچانے کے لیے ان اقدام کی ضرورت ہوگی۔‘

خیال رہے کہ اس سے قبل فرانس میں جاری ہنگامی صورتحال میں جولائی میں چھ ماہ کی توسیع کی گئی تھی۔

ہنگامی صورتحال کے نفاذ کی وجہ دہشتگردوں کے حملے کے فوراً بعد جنوبی شہر نیس میں ایک ڈرائیور نے لوگوں کے اجتماع پر لاری چلا دی تھی جس میں 84 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

بی بی سی کے ’ہارڈ ٹاک‘ پروگرام میں انھوں نے کہا کہ ’نیس میں ہونے والے حملے جیسے حملوں کے خطرات ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ایسی صورتحال میں ’حالت ایمرجنسی کو ختم نہیں کیا جانا مشکل ہے۔‘

بہر حال حکومت کی جانب کی جانے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کے نفاذ سے سکیورٹی میں بہتری کے ‘محدود اثرات’ مرتب ہوئے ہیں۔

پیرس حملہ
گذشتہ سال 13 نومبر کو بعض مسلم شدت پسندوں نے منظم طور پر پیرس کے فٹ بال سٹیڈیم، بٹاکلان کانسرٹ تھیٹر اور ریسٹورنٹ سمیت چھ مختلف علاقوں میں حملے کیے جو کہ مبینہ خود کش دھماکے شامل ہیں۔ بٹاکلان میں 90 افراد مارے گئے تھے۔

سنیچر کو حملے کی برسی پر بٹاکلاں کو برطانوی فنکار سٹنگ کے پرفارمینس سے دوبارہ شروع کیا گيا۔

گلوکار نے سامعین سے کہا جن میں گذشتہ سال زندہ بچ جانے والے افراد بھی شامل تھے کہ وہ مرنے والوں کا احترام کریں اور زندگی کا جشن منائیں۔

اس حملے کی ذمہ داری نام نہاد جنگجو تنظیم دولت اسلامیہ نے کیا تھا اور بٹاکلاں کے دوبارہ آغاز پر لوگوں مرنے والوں کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here