• تعلیم یافتہ نسل ، ملک و قوم کی ترقی کی ضمانت ہے، علامہ ڈاکٹر شبیرحسن میثمی
  • کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت

تازه خبریں

فلسطین کی مقاومت میں علمائے مقاومت کے کردار کے عنوان سے تہران میں منعقدہ عالمی کانفرنس میں دنیا کے ۵۳ ممالک سے تقریبا 200 علمائے کرام شرکت کریں گے

جعفریہ پریس –  عالمی تقریب مذاھب اسلامی اسمبلی کے جنرل سیکرٹری نے تکفیریت اور صہیونیت کو عالم اسلام کے لئے اساسی مشکل قرار دیا ہے۔ فلسطین کی مقاومت میں علمائے مقاومت کے کردار کے عنوان سے منعقد کی جانے والی عالمی کانفرنس کی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی تقریب مذاھب اسلامی اسمبلی کی کوششوں سے یہ کانفرنس 9 اور 10 ستمبر کو اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں منعقد کی جا رہی ہے گی۔ جس میں دنیا کے ۵۳ ممالک سے تقریبا 200 علمائے کرام شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ 143 علما اور 75 دانشور حضرات بھی اس کانفرنس میں مدعو کئے گئے ہیں تاکہ اس کانفرنس کے اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے۔ آیت اللہ ارآکی نے کہا کہ اس کانفرنس کا اصل مقصد فلسطینی مقاومت کی حمایت کرنا ہے۔ ہم سب نے پچھلے دو تین مہینوں میں اس بات کا مشاہدہ کیا ہے کہ کس طرح غاصب صہیونی حکومت نے اپنے وحشیانہ حملوں کے زریعے غزہ میں 2 ہزار سے زیادہ نہتے مسلمانوں کو شہید کر دیا جس میں 500 سے زیادہ معصوم بچے اور خواتین اور بوڑھوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ غاصب صہیونی حکومت نے غزہ میں ہزاروں گھر تباہ کر دیئے اور 11 ہزار سے زائد افراد کو زخمی بھی کیا ہے۔
انہوں نے عالم اسلام کی جانب سے غزہ میں مزاحمت کی حمایت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس وقت کی اہم ضرورت ہے کہ عالم اسلام کے علماء اور بزرگان ایک جگہ جمع ہوں اور فلسطین اور غزہ سے متعلق اپنے نظریات اور غزہ کے فلسطینی مجاہدوں کی بھرپور حمایت کا اعلان کریں اور اس سسسلے میں دنیا بھر کے مسلمانوں کو فلسطین کی اسلامی مزاحمت سے آشنا کریں۔ آیت اللہ اراکی نے کہا کہ آج دنیا پر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ غاصب صہیونی حکومت تمام انسانیت کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بالخصوص عالم اسلام کو چاہئے کہ وہ مزاحمت کی حمایت کے لئے اقدامات کریں اور ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر مزاحمت کو ایک نئے مرحلے میں داخل کریں۔ عالم السام کو چاہئے کہ وہ غزہ میں جاری فلسطینی اور اسلامی مزاحمت کی حمایت سے قدم پیچھے نہ ہٹائے اور انہیں غزہ پٹی میں محصور ہونے سے روکے۔
آیت اللہ اراکی نے خطے میں داعش نامی تکفیری گروہ کے وجود میں آنے کو صہیونی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ داعش کے نام سے جو تکفیری گروہ اس وقت ہمسایہ ممالک میں نظر آ رہا ہے یہ در اصل صہیونی پالیسیوں کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ داعش اور صہیونیت ایک ہی قینچی کے دو حصے ہیں۔