تازه خبریں

قائدملت جعفریہ پاکستان کی طرف سے 15 فروری بروزاتوارکواعلان کردہ یوم احتجاج پرلبیک کہتے ہوئے قم کےعلماء وطلباء نے بھی یوم احتجاج منایا

جعفریہ پریس ۔ سانحہ شکارپورکے بعدحیات آبادپشاورکی اثناعشری جامع مسجدمیں 20 سے زائد بے گناہ نمازیوں کی شہادت اور60 کے قریب مومنین کے زخمی ہونے پر قائدملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجدعلی نقوی کی طرف سے 15 فروری بروزاتوارکواعلان کردہ یوم احتجاج پرلبیک کہتے ہوئے ملک بھر کی طرح قم کے علماء وطلباء نے بھی یوم احتجاج منایا۔
جعفریہ پریس کے نمائندہ کی رپورٹ کے مطابق دفترقائد ملت جعفریہ قم المقدسہ کے زیر اہتمام مسجد مدرسہ مبارکہ حجتیہ میں سانحہ پشاورکے خلاف احتجاجی جلسے کا انعقاد کیا گیا، احتجاجی جلسے میں دفترقائد کی مجلس نظارت ،مجلس عاملہ، کابینہ کے اراکین وکارکنان اورعلماء وطلباء سمیت زائرین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
اس احتجاجی جلسے کا آغازباقاعدہ تلاوت کلام پاک سے کیا گیا، تلاوت کلام پاک کا شرف عالیجناب مولانا سید جنت حسین نقوی نے حاصل کیا اورنظامت کے فرائض عالیجناب مولانا سیف اللہ خان نے انجام دئے،اس موقع پر برادرعلی عوسجہ زیدی نے شہدا کے حضورمنظوم نذرانہ عقیدت پیش کیا – دفتر قائد کے معزز رکن حجت الاسلام مولانا محمد باقربہشتی اور حوزہ علمیہ کے استاداوردفترقائدکی مجلس نظارت کے معززرکن حجت الاسلام والمسلمین علامہ سید سجاد حسین کاظمی نے خصوصی خطاب کیا –
اس موقع پرقائدملت جعفریہ پاکستان کے قم میں نمائندہ حجت الاسلام والمسلمین علامہ مظرحسین حسینی نے اس دلخراش سانحے پر حضرت امام زمان عج، ولی امرمسلمین حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای، مراجع مکرم اسلام، نمائندہ ولی فقیہ و قائدملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سیدساجدعلی نقوی اورعاشقان اہلبیت علیہم السلام بالخصوص متاثرین اورخانوادہ شہداء کی خدمت میں تعزیت پیش کی اورتمام علماء کرام اوریادگار قائد شہید حجت الاسلام سید علی حسینی کا شکریہ ادا کیا کہ قائدملت جعفریہ کی آواز پرلبیک کہتے ہوئے اس احتجاجی جلسے میں شرکت کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ یہ حالیہ سانحات بہت ہی دلخراش ہیں جن میں مائیں بہیں اپنے پیاروں سے جدا ہوئے لیکن تاریخ تشیع خون سے رگین ہے، صدراسلام سے لے کرتاحال تشیع کومٹانے کے لئے حکومتوں کے سرمائے خرچ کئے گئے مگرتشیع ہمیشہ سربلندتھی،ہے اوررہے گی۔ علامہ مظہرحسینی نے کہا کہ ان حملات سے دشمن مختلف اہداف رکھتا ہے جن میں ایک ہدف داخلی اختلاف وانتشار ہے ۔ ہم علماء وطلباء کی ذمہ داری بنتی ہے ان حالات میں زبان وقلم کے ذریعے اپنی صفوں میں اتحاد و وحدت کے لئے کوشش کریں اورایک آوازایک صدا ہوکراپنی قومی قیادت کے قوت بازوبنیں۔