اگرچہ اسلامی معاشروں میں عید کا رائج فلسفہ یہی ہے کہ رمضان المبارک کے متبرک ایام اور روزوں کے اختتام پر اعمال کی قبولیت اور تزکیہ نفس میں کامیابی پر عید کا دن منایا جاتا ہے اور خوشی کا اظہار عید نماز کی ادائیگی اور دیگر مختلف انداز سے کیا جاتا ہے۔ عید کے موقع پر خداتعالی کی عبودیت اور اس کی نعمات کا شکر ادا کیا جاتا ہے۔ خدا کی اطاعت اور عبادات کے بعد سرخروئی کا اظہار کیا جاتا ہے اور ایسے امور سے مکمل پرہیز کیا جاتا ہے جنہیں شریعت نے حرام قرار دیا ہے۔عید کا دن ہمیں اپنے ارد گرد موجود معاشرتی مسائل کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے کہ جس طرح ہم رمضان المبارک میں عبادت اور تزکیہ نفس کے ذریعے اپنی ذاتی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں اور پھر اس کوشش کی کامیابی کا اظہار عید کی صورت میں کرتے ہیں اسی طرح اجتماعی اصلاح کی کوششوں اور معاشرے کو تمام مسائل سے نجات دلانے کا عہد بھی عید کے دن کیا جانا چاہیے۔
ہم صحیح معنوں میں تب ہی عید منانے کے حقدار اور سزاوارہوں گے جب ہمارے معاشروں میں معاشرتی جرائم‘ گناہوں‘ برائیوں اور مشکلات کا خاتمہ ہوجائے گا‘ مظلومین‘ محرومین اورپسے ہوئے طبقات کو ان کے حقوق مل جائیں گے اور معاشرے میں عادلانہ نظام‘ اسلامی روایات اور امن و امان قائم ہوجائے گا۔
احترام آدمیت اور انسانی ہمدردی کا تقاضا ہے کہ خوشی و مسرت کے جائز ذرائع سے استفادہ کیا جائے اور ایسا انداز اختیار نہ کیا جائے جس سے غریب‘ پسماندہ‘غم زدہ اور پریشان حال بھائیوں کو تکلیف‘ محرومی اور دکھ کا احساس ہو۔ عید کے موقع پر ہمیں برائیوں اور منکرات سے بچنا بھی بہت ضروری ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ملک میں عادلانہ نظام کے قیام‘ انسانی حقوق کی بحالی اور احترام آدمیت کے لئے جدوجہد کریں۔ بطور مسلم ہماری ذمہ داری ہے کہ اس عید پر عہد کریں کہ ہم پاکستان کو ایسا مثالی عادلانہ نظام فراہم کریں گے جس طرح امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب ؑ نے اپنے سنہری اور تاریخی دور حکومت میں دیا تھا۔ مالک اشترؓ کے نام ہدایات کی روشنی میں ایسا نظام مہیا کیا کہ جس سے ہر شخص کو اس کا حق ملے اور احترام آدمیت کا تصور قائم ہو
گذشتہ سال میں ہمارے کتنے پیارے ہم سے جدا ہوئے۔ کتنے بے گناہوں کے خون سے پاکستان کی سرزمین رنگین ہوئی۔ یقیناًوہ شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے لیکن ان کی بے گناہی اور ان کا پاک خون حکمرانوں پر قرض ہے جن کی غفلت سے اتنی قیمتی جانیں خون میں نہلا دی گئیں۔ ہمیں عید کی خوشیوں میں شہداء اور ان کے خانوادوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے ۔ اس کے ساتھ ملک کے دیگر محروم طبقات اور غرباء کو بھی اپنی خوشیوں میں شامل رکھنا چاہیے اور ان کے مسائل کے حل کے لئے اپنی توانائیاں صرف کرنا چاہیں۔ ضرورت مندوں اور معاشرے کے پسے ہوئے لوگوں کو نظر انداز کرنے سے عید مکمل نہیں ہوسکتی۔
عید کا دن ہمیں اتحاد جیسے قرآنی اور نبوی فریضے کی طرف بھی رہنمائی کرتا ہے جس د ن تمام امت مسلمہ بلا تفریق مسلک و فرقہ عید کی خوشیاں مناتی ہے اور مسلمان ایک دوسرے کے گلے مل کر مبارک باد دیتے ہیں۔ خوشی کا یہ موقع وحدت کا ایک عظیم مظاہرہ بھی ہے۔ در اصل عید کے موقع پر مبارک باد کے مستحق ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اتحاد جیسے عظیم فریضے کے لئے کام کیا اور قربانیاں دیں۔ ہمیں اس اتحاد کو آئندہ عید تک اسی جوش و جذبے اور خلوص و ولولے کے ساتھ جاری رکھنا ہوگا تاکہ ہم اسلامی طبقات میں اتحاد پیدا کرکے معاشرے کو مسائل و جرائم سے پاک کرسکیں۔