تازه خبریں

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا عزاداروں کے نام پیغام

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے عشرہ محرم الحرام کے آغاز پر عزاداروں کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ جب وطن عزیزپاکستان معرض وجود میں آیا تو یہاں ہر مکتب اور مسلک کے پیروکار آزادی کی فضا میں اپنے اپنے طریقہ کار اور تعلیمات و عقائد کے مطابق محرم الحرام مناتے تھے اس طرح عزاداری سیدالشہدا ؑ کے فروغ کے ساتھ ساتھ اہل بیت ؑ رسول ؐ کے ساتھ محبت اور وابستگی میں اضافہ ہورہا تھااور اتحاد بین المسلمین کا حسین انداز سے عملی اظہار ہورہا تھا یہ تمام صورت حال متعصب اور تنگ نظر انتہا پسند عناصر کے لیے ناقابل برداشت بن گئی اور انہوں نے اس ولائے اہل بیت اور حب حسین ؑ پر مشتمل اس حسین کلچر کو ختم کرنے کے منصوبے بناکر ان پر عمل کرنے کا آغاز کیا جس کے تحت بعض شرپسندگروہوں کے ذریعہ فرقہ واریت‘ فرقہ وارانہ تشدد‘ ٹارگٹ کلنگ‘ خود کش بم دھماکے اور قتل و غارتگری کا بازار گرم کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ عزاداری نہ صرف مذہبی و آئینی حق ہے بلکہ شہری آزادیوں کا مسئلہ ہے مگر خودساختہ بہانوں کے ذریعہ عزاداری کو محدود کرنے کے لئے ماورائے آئین و قانون اقدامات کرکے مذہبی حقوق اور شہری آزادیوں کو سلب کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ مجالس کے اجازت نامے کی غیر قانونی اور بلاجواز شرائط ‘ دورانیہ محدود کرنے‘ بانیان مجالس ‘ مقررین اور عزاداروں کو نظر بند کرنا‘ ان پر پابندیاں عائد کرنا اور لاؤڈسپیکر کے استعمال پر بلاجواز پابندیاں‘ کنٹینرز کے ذریعہ حفاظت کے نام پر محدود کرنے اور سنگینوں کے سائے تلے خوف و ہراس کا تاثر پھیلانے جیسے اقدامات ریاست کو زیب نہیں دیتے کیونکہ ریاست نے تمام شہریوں کے مذہبی و شہری حقوق کے تحفظ کی ضمانت فراہم کررکھی ہے۔
علامہ ساجد نقوی نے کہ ان حالات اور کٹھن دور میں عزاداروں،ماتمیوں اور نوحہ خوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ عزاداری کو اتحاد کے ساتھ احسن طریقے اور بہتر انداز سے محبت ووحدت کی فضاء میں منعقد کریں‘ عزاداری سیدالشہداء ؑ آزادی سے منانے کے لیے متحد ہوکر بھرپور اور طاقتور آواز بلند کریں‘ اپنی صفوں میں اتحاد قائم کرکے بنیادی حقوق سلب کرنے کی تمام سازشوں کو ناکام بنائیں‘سیدالشہدا ء ؑ حضرت امام حسین علیہ السلام کی سیرت، اقوال، فرامین اور خصائل سے سبق سیکھیں اور اپنی زندگیوں کو امام حسین ؑ کے فرامین اور سیرت کے تحت بسر کریں۔