• تعلیم یافتہ نسل ، ملک و قوم کی ترقی کی ضمانت ہے، علامہ ڈاکٹر شبیرحسن میثمی
  • کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت

تازه خبریں

قراقرم یونیورسٹی میں یوم حسینؑ منانے پر طلبہ کو یونیورسٹی سے نکالنا اسلام دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے،طلبہ کو فوری طور پر یونیورسٹی میں بحال کیا جائے ; ساجد علی ثمر

جعفریہ پریس – جے ایس او پاکستان کے مرکزی صدر ساجد علی ثمر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ قراقرم یونیورسٹی میںیوم حسین ؑ منانے پر اتنا بڑا ہنگامہ برپا کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یوم حسینؑ منانے سے روکنے والے انسان نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ امام حسینؑ صرف شیعوں کے امام نہیں ہیں بلکہ وہ تو انسانیت کے محسن ہیں ۔قراقرم یونیورسٹی کے طلبہ بھی انسانیت کے لیے ہی یہ سب کچھ کر رہے تھے۔لیکن یونیورسٹی کے طلبہ کے یوم حسین ؑ منانے پر یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر نجمہ نجم کی طرف سے ایکشن لیتے ہوئے 3 طلبہ پر ہمیشہ کے لیے تعلیم کے دروازے بند کر دیے اور2 طلبہ پر 3 سال کے لیے تعلیم کے دروازے بند کر دینا کہاں کی انسانیت ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ وائس چانسلر کو کوئی خاص ایجنڈا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ یہ سب کر رہی ہیں۔حالانکہ یہ یوم حسین ؑ پچھلے آٹھ برس سے اس یونیورسٹی میں منایا جا رہا ہے اور ہر سال امن و امان سے منایا جا تا ہے۔اس سال وائس چانسلر نے اس کو اتنا بڑا ایشو بنا دیا کہ ۵ طلبہ پر تعلیم کے دروازے ہی بند کر دیے۔جب کہ یوم حسینؑ منانے سے پہلے وقار رضوی کی قیادت میں4 رکنی کمیٹی بنی تھی جس نے متفقہ طور پر یہ یوم حسینؑ منانے کا فیصلہ کیا تھا۔
ہمیں یہ بھی اطلاعات ہیں کہ وائس چانسلر قراقرم یونیورسٹی نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو ایک خط لکھا ہے جس میں ہائر ایجوکیشن کمیشن سے یہ درخواست کی گئی ہے کہ پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں میں یوم حسینؑ منانے پر پابندی عائد ہونی چاہیے۔ہمارا یہ سوال ہے کہ کیا امام حسینؑ نے کربلا میں آ کر کیا انسانیت کی خدمت نہیں کی ؟؟اگر ایسا ہے اور امام حسین ؑ انسانیت کے محسن ہیں تو وہ کون سی انسانیت ہے کہ جس پر وائس چانسلر صاحبہ کار فرما ہیں۔
مرکزی صدر جے ایس او کا کہنا تھا کہ ایک منظم سازش کے تحت یونیورسٹی کے چند شیعہ طلبہ پر دفعہ 147،143 اور 2/506 لگائی گئی۔ ہم اس کی بھر پور مخالفت کرتے ہیں ۔یہ ذاتی خواہشات کی تکمیل اور ایک خاص گروہ کو خوش کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔کچھ عرصہ پہلے چیف سیکرٹری گلگت یونس ڈھاگہ سے جب ایک وفد شیخ سعادت کی سربراہی میں ملا کہ جس وفد میں تمام ملی تنظیمی شامل تھیں اور ان سے اس مسئلہ کو حل کروانے کی درخواست کی تو انہوں نے جواب میں کہا کہ یہ یونیورسٹی کا اندرونی معاملہ ہے میں اس میں دخل اندازی نہیں کر سکتا۔اب وہی چیف سیکرٹری صاحب ہی مختلف بیانات دے کر ایک مخصوص گروہ کی حمایت کر رہے ہیں اور مقدمات کی حمایت کی جارہی ہے۔
مرکزی صدر جے ایس او پاکستان کا کہنا تھا کہ ہم وفاقی حکومت اور ہائر ایجوکیشن کمیشن سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ بذات خود اس معاملے کا نوٹس لیں اور ایک وائس چانسلر کو اپنی ذاتی خواہشات کے بدلے میں طلبہ کا مستقبل تباہ کرنیکی اجازت نہ دی جائے ۔