انسانیت ماضی کی نسبت آج سنگین ترین غلامی میں گرفتار ہے ،آیت اللہ سید ساجد نقوی

قومی سلامتی پالیسی سمیت مستقبل سے جڑے معاملے پر قومی اتفاق رائے لازم ، ساجد نقوی
دستور پاکستان جیسا قومی اتفاق رائے پیدا کرکے اس پالیسی کو قومی دستاویز قرار دیا جائے، قائد ملت جعفریہ پاکستان
ملکی سلامتی سے جڑے معاملے پر موجودہ طرز حکمرانی جیسے رویہ سے گریز کرنے سے دور رس نتائج حاصل ہونگے، رد عمل
اسلام آباد/ راولپنڈی 15 جنوری 2022ء( ) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں ہم روز اول سے آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی طے شدہ امور ہیں قومی سلامتی پالیسی جو خارجہ کے ساتھ داخلہ ، معیشت و دفاع کے ساتھ جڑی ہے اہمیت کی حامل ہے البتہ اس معاملے پر قومی اتفاق رائے پیداکرکے قومی دستاویزات کا درجہ دے کر آگے بڑھا جائے تاکہ اس کے دور رس نتائج بھی برآمد ہوسکیں ، ملکی سلامتی سے جڑے معاملے پر موجودہ طرز حکمرانی جیسا رویہ ترک کرکے آگے بڑھنا ہوگا۔
ان خیالات کا اظہار انہوںنے قومی سلامتی پالیسی کے اجراءپراپنے رد عمل میں کیا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ ہم روز اول سے آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی پر زور دیتے چلے آرہے ہیں، داخلہ و خارجی امور،معاشی ، دفاعی اور شہری و آئینی حقوق کے حوالے سے بھی روز اول سے ارباب اقتدار و سنجیدہ فکر شخصیات کو متوجہ کرتے آئے ہیں کہ ” من پسند پالیسی“ کی بجائے جامع و عملی اقدامات اٹھائے جائیں اور اس کا واحد حل متفقہ دستاویز 73کا آئین ہے جس پر عمل کرکے مسائل کا حل نکالا جاسکتاہے، ہم اپنے قیام کی ڈائمنڈ جوبلی کی طرف بڑھ رہے ہیں 74 سال گزر گئے مگر متفقہ آئین ہونے کے باوجود ابھی تک ملک کی واضح سمت کا تعین نہیں کرسکے، قومی سلامتی پالیسی کا وژن متعارف کرایا گیا ہے جو خوش آئند ہے البتہ یہ معاملہ صرف حکمرانوں کا نہیں ملک کے مستقبل کاہے اس لئے اس معاملے پر قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے اور اسے قومی دستاویز کا درجہ دیا جائے کیونکہ قومی سلامتی پالیسی وہی قابل عمل و قابل قبول ہوگی جس پر تمام شعبہ ہائے زندگی کا اتفاق رائے ہوگا ۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ تشکیل پاکستان اور دستور پاکستان 1973ءکے موقع پر جس طرح اتفاق رائے پیدا کیاگیااور متحد و متفق ہوکر اپنے ہدف کی جانب بڑھا گیا آج بھی اسی سپرٹ کی ضرورت ہے اسی صورت میں اس پالیسی کے اہداف حاصل ہونگے اور ملک جن معاشی، داخلی و خارجی مسائل کاسامنا کررہاہے ان سے نمٹا جاسکے گااور اگر قومی سلامتی پالیسی پر اتفاق رائے کی بجائے ویسا رویہ اختیار کیاگیا جیسا کہ مروج ہے تو پھر اس پر اتفاق رائے قائم کرنا یا آگے بڑھنا اور اسے قومی سلامتی پالیسی کا نام دینا مشکل ہوگا ۔