• مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس
  • اپنے تنظیمی نظام اور سسٹم کو مضبوط سے مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ورکر کنونشن
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات علمی حلقوں میں خلا مشکل سے پُر ہوگا علامہ شبیر میثمی

تازه خبریں

قیادت ہو تو ایسی ہو

قیادت جذباتیت کی بجائے تدبر سے اپنی قوم کو مشکلات سے نکالنے کا نام ہے بعض اوقات قوم سمجھ رہی ہوتی ہے کہ کچھ نہیں ہو رہا مگر عقلمند ، دور اندیش قیادت نام نمود اور جھوٹی شہرت کی بجائے قوم کے مسائل کو حل کرتی ہے اس کی بہترین مثال راولپنڈی کا جلوس ہے اس جلوس عزاء نے تکفیریت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونس دیا ہے مومنین نے جس طرح بڑھ چڑھ کر شرکت کی مومنین کے ان پاکیزہ جذبات کو سلام موسم کی شدت جان کا خطرہ کئی جگہوں پر تلاشی کا عمل خواتین بچوں ،بوڑھوں ،جوانوں کی عظیم شرکت یہ جلوس کربلا کی حقیقی ترجمان بن چکا تھا جس طرح وہاں ہر عمر اور ہر صنف کی نمائیندگی موجود اس جلوس میں بھی ہر صنف کی نمائندگی موجود تھی خواتیں سیرت زینبیہ پر عمل کر رہی تھیں جوان سیر ت علی اکبر پر چل رہے تھے بچے سیرت عون و محمد کے پیرو تھے میں بہت سے شیر خوار دیکھے جو اس کربلا میں سیرت علی اصغر کی پیروی کر رہے تھے یہاں موجود بزرگ اطاعت حسین کر رہے تھے اس جلوس کو چیز ممتاز کر دیتی ہے وہ اس جلوس میں علماء کی بہت بڑی تعداد کی شرکت ہے جس طرف نظر دوڑائیں ہر طرف صاحبان جبہ و دستار نظر آتے تھے جنہوں دیکھ کر مومنین کے جذبے بلند ہو رہے تھے  سلام ہو آپ مومنین کے پاکیزہ جذبات پر سلام ہوآپ کی خاندان رسول سے محبت پر سلام ہو آپ کے عشق سلار شھیداں پر سلام  ہو آپ کی اپنے مذھب سے محبت پر یہ جلوس راولپنڈی کی تاریخ کا سب سے بڑا جلوس عزا تھا
یہاں پر میں قائد ملت جعفریہ کے عظیم کردار کی بات کرنا چاہوں گا محترم قارئیں قائد کی حکمت عملی یہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ہم جیت چکے تھے یہ قائد محبوب کی حکمت عملی کا نتیجہ تھا کہ ۲۹ جماعتوں تکفیری گروہ کے ساتھ مل کر کانفرنس کا اعلان کیا مگر جب چہلم کا دن آیا تو سوائے تکفیری گروہ کے اور کوئی باقی نہ تھا جنگ لڑ کر بھی جیتی جا سکتی ہے مگر اصل قیادت وہ ہوتی ہے جو دشمن کو اس کے گھر سے ہی نہ نکلنے دے یہی کام قائد محبوب نے کیا جب مومنین راجہ بازار پہنچے تو وہاں سوائے پولیس اور خاموشی کے کچھ نہ تھا ایسی خاموشی تھی جو اس پہلے اس جگہ کبھی دیکھنے میں نہیں آئی ہم لبیک یاحسین اور ھیھات منا ذلة کے نعرے لگاتے ہوئے وہاں سے گذر گئے اس  حکمت عملی نے تکفیری گروہ کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے ہیں اتحاد امت کی تلوار کو استعمال کرتے ہوئے اتحاد بین المسلمین کے الھی حکم کی اطاعت کرتےہوئے قائد محبوب نے اس تفرقہ پرست گروہ کو شکست دی ہے اب تھورا سا اس تکفیری گروہ کے آفیشل پیجز پر چلنےوالا میسج ملاحظہ کر لیں اس سے آپ کو ان کی شکست کا اور قائد محترم کی حکمت عملی کا خود اندازہ ہوجائے گا
اصل میں دھوکہ مولانا فضل الرحمن  نے دیا ہمیں۔ ساجد نقوی ۔۔۔۔ اور شیعت کی قیادت نے ان سے جلوس کے سلسلے میں مدد مانگی جس کے بعد فضل الرحمن    نے مولانا لدھیانوی سے بات کی اور باقی ۲۹ تنظیموں کی قیادت اور دیگر مولویوں سے۔ اس کے بعد اہل دیوبند کی تمام جماعتیں پیچھے ہٹ گئی سپاہ صحابہؓ کی حمایت سے ۔۔۔ مگر سپاہ صحابہؓ کے کارکن اور قیادت کفن پہن کر اور قران پر کئے گئے وعدے کو عملی کرنے کے لئے سڑکوں پر نکل آئی۔ مگر افسوس ایسے قائدین پر جو اپنے اپ کو انبیا کے وارث اور علما دیوبند کے روحانی فرزند کہتے ہیں مگر اتنی بزدلی اور حکومت کی کاسہ لیسی دکھائی۔۔
اگر جلوس کو نہ روکنا تھا اور یا نہ روک سکتے تھے تو پھر شیعت کو اتنی سنجیدہ دھمکی اور چیلنج کیوں دی؟؟ اس سے تو سنیت کی ناک کٹ گئی اور منہ دکھانے کے قابل نہ رہے ہم۔ شیعت کے گھر میں ماتم کی بجائے آج جشن کا سماں ہوگا۔۔ افسوس ہمارے ایسے بزدل قیادت پر۔
ساجد نقوی، حامد موسوی اور راجہ ناصر خود قیادت کر رہے تھے جلوس کی جبکہ ہماری قیادت کہاں تھی؟؟؟؟؟ اگر ان ۲۹ تنظیموں کی قیادت فضل الرحمن    کے حکم اور سرکار کی رشوت پر سودابازی کر کے بھاگ گی تو کم از کم قائد محترم مولانا محمد احمد لدھیانوی، داکٹر خادم حسین ڈھلوں، مولانا معاویہ اعظم طارق، غازی اورنگزیب فاروقی اور دیگر تمام قیادت موجود ہوتی تو کارکنوں میں وہ جوش و جذبہ ہوتا کہ شیعت کو جلوس نکالنا ناممکن ہو جاتا۔۔۔ مگر افسوس!!!!!!!!!
۱۹۹۸ میں فقط ۳۱۳ کارکنوں نے اسی اسلام اباد میں پولیس اور تمام انتظامیہ کو شکست دی تھی اور تمام رکاوٹوں کو توڑ کر اسمبلی اور سپریم کورٹ کے سامنے پہنچ گئے تھے کیونکہ اس وقت جلوس کی قیادت خلیفہ عبدالقیوم صاحب خود فرمارہے تھے جبکہ دیگر تمام قیادت پابند سلاسل تھی۔۔۔ جب قیادت صف اول میں موجود ہوتی ہے تو کارکن کو کوئی طاقت بھی نہیں روک سکتی مگر انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ یا تو قیادت اس معاملہ میں سنجیدہ نہیں تھی اور یا رانا ثنا اللہ اور شریفوں کے ساتھ ذاتی تعلق کی وجہ سے مجبور ہو کر نرمی دکھائی۔۔ مگر افسوس یہ ہے کہ اج پنڈی میں سنیت کی غیرت کا جنازی نکل گیا۔۔۔۔۔ افسوس افسوس ۔۔۔۔۔
میں نے ان کی پوسٹ سے فقط لعن طعن کو نکالا ہے باقی ساری پوسٹ من و عن وہی ہے اہلسنت اور اہل تشیع اسلام کے دو بازو ہیں یہ کل بھی ایک تھے آج بھی ایک ہیں اور کل بھی ایک ہی رہیں گے مگر تکفیری گروہ کو اب کہیں جگہ نہیں ملے گی پم پاکستان کا امن واپس لائیں گے انشاءاللہ
اگر دوست و دشمن کی پہچان میں مشکل پیش آ رہی ہو تو اپنے دشمن کی طرف دیکھو جس شخصیت پر دشمن کے تیر و نیزے برس رہے ہوں وہ شخصیت سب سے زیادہ مخلص اور متحرک ہو گی کیونکہ دشمن اس کے خلاف زیادہ بولتاہے جو اس کا سب سے زیادہ نقصان کر رہا ہوتا ہے وہ سب سے زیادہ اسی کے خلاف بولتا ہے
کیا روحانی لمحات تھے جب قائد محبوب , جعفریہ یوتھ کے نوجوانوں کے جھرمٹ میں تشریف لائے پورا جلوس فرزند زہراء کے استقبال کے لیے آنکھیں بچھا رہا تھا ہر طرف لبیک یاحسین کی صدائیں تھیں ضعیف العمری کے باوجود کئی کلو میٹرکا فاصلہ پیدل طے کیا امام بارگاہ حفاظت علی شاہ سے جلوس کی قیادت فرمائی کرنل مقبول میں ہونےوالی مجلس میں شریک ہوئے پھر جلوس سے ہوتےہوئے قصر ابوطالب پہنچے جہاں جلوس عزاء کی قیادت کی اس پورے عرصہ میں جعفریہ یوتھ کے جوان پروانوں کی طرح آپ کے ساتھ رہے راوالپنڈی میں جلوس عزا کا انعقاد ملت جعفریہ کی عظیم کامیابی اس کے نتیجے میں تمام شیعہ سنی مسلمان ایک دوسرے کے مزید قریب ہوئے ہیں یہی قائد محترم کی پالیسی کی کامیابی کی علامت ہے خدا ہمیں ہر مشکل میں کامیاب کرے ہم اس عھد کا اعادہ کرتے ہیں خدا کی قسم یہ مجلس یہ ماتم یہ جلوس عزا قیامت تک جاری رہیں گے انشاء اللہ