• مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس
  • اپنے تنظیمی نظام اور سسٹم کو مضبوط سے مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ورکر کنونشن
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات علمی حلقوں میں خلا مشکل سے پُر ہوگا علامہ شبیر میثمی

تازه خبریں

لکی مروت پولیس جوانوں کی شہادت افسوسناک ہے انتظامیہ واقعہ کی تحقیق کرے علامہ شبیر میثمی

لکی مروت میں دہشت گردوں کی جانب سے پولیس موبائل پر حملہ کر کے پولیس جوانوں کو شہید کرنادہشت گردی کی بد ترین کاروائی ہے۔علامہ شبیر حسن میثمی
حکومت ملک میں امن وامان کی صورتحال بہتر کر نے کے دعوے کر رہی ہے ہو تو یہ کاروائیاں اُن کے دعوے پر سوالیہ نشان ہے۔علامہ شبیر حسن میثمی
حکومت کو چائیے کہ ایک بار پھر دہشت گردو کو لگام دینے کے لئے بھر پور آپریشن کیا جائے۔علامہ شبیر حسن میثمی
کراچی(اسٹاف رپورٹر) شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مر کزی سیکر ٹری جنرل علامہ شبیر حسن میثمی کا کہناہے کہ خیبر پختو نخواہ کے ضلع لکی مروت میں دہشت گردو کی جانب سے پولیس موبائل پر حملہ کر کے پولیس جوانوں کو شہید کرنادہشت گردی کی بد ترین کاروائی ہے جس کی ہم پُروزالفاظ میں شد ید مذمت کر تے ہیں حکومت ملک میں امن وامان کی صورتحال بہتر کر نے کے دعوے کر رہی ہے ہو تو یہ کاروائیاں اُن کے دعوے پر سوالیہ نشان ہے آج بے لگام قا تلوں نے اس ملک کی فضاء کو پھر ایک بارپُر تشدد بنایا اور پا کستان کی سالمیت پر حملہ کیا عوام کے جان مال کی ذمہ داری حکومت کی ہے لہذا آئین اور قانون پر عملدرآمد کیا جائے اس کاروائی سے ایسا لگتا ہے کہ ملک میں پھر ایک بار دہشت گرد آگ اور خون کے کھیل کا دوبارہ آغاز چاہتے ہیں حکومت کو چائیے کہ ایک بار پھر دہشت گردو کو لگام دینے کے لئے بھر پور آپریشن کیا جائے تا کہ آئندہ اس طرح کے دل سوز دہشت گردانہ کاروائیوں سے بچا جا سکے۔