حضرت ابوذرغفاریؓ کا شمار عظیم المرتبت صحابہ میں ہوتا ہے، قائد ملت جعفریہ پاکستان ساجدنقوی

مسئلہ فلسطین و کشمیر کے عملی اقدامات کی جانب بڑھنا ہوگا،قائد ملت جعفریہ ساجد نقوی

 

اسرائیل،بھارت اور انکے پشت پناہوں سے تعلقات منقطع کر نے پر غور کیا جائے ،قائد ملت جعفریہ پاکستان

 

مذمتی قراردادیں وبیانات خوش آئند، عملی اقدامات کے بغیر مظلوموں کو حق ملنا ممکن نہیں ، موجودہ صورتحال پر تبصرہ

 

 راولپنڈی /اسلام آباد31 مئی 2021ء ( جعفریہ پریس پاکستان   )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں اسرائیل و بھارت کشمیر و فلسطین میں ظلم کی تمام حدیں پار کرچکے، بیانات، قرارادادوں، مذمتی اجلاسوں اور ڈوزیئرز کے ساتھ ساتھ جدوجہدِ پاکستان کے اساسی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مسئلہ فلسطین و کشمیر کے عملی اقدامات کی جانب بڑھنا ہوگا، اسرائیل، بھارت اور ان کے پشت پناہوں سے سیاسی، سفارتی، پارلیمانی ، تجارتی ا ور سوشل تعلقات منقطع کر نے جیسے عملی اقدامات کے بغیر مظلوموں کو حق نہیں مل سکتا۔ان خیالات کااظہار قائد ملت جعفریہ پاکستان نے مقبو ضہ کشمیر، مقبوضہ بیت المقدس کی حالیہ صورتحال اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں اسرائیلی جنگی جرائم کے حوالے سے پاکستانی قرارداد منظور ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں کثرت رائے سے قرارداد منظور ہونا خوش آئند ہے البتہ صرف بیانات، قراردادوں ، مذمتی اجلاسوں اور ڈوزیئرز سے مسائل حل نہیں ہونگے بلکہ اس حوالے سے مزید بھی اقدامات ضروری ہیں۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 23 مارچ 1940ءکو قرارداد پاکستان کے ساتھ قرارداد فلسطین کی منظوری اور اس کے علاوہ بانی پاکستان کے 27اگست 1948ءکے بیان ”ہم یکساں طورپر خطرناک اور کٹھن دور سے گز رہے ہیں ہم اپنے اسلامی اتحاد کے ذریعے ہیں دنیا کے مشورہ خانوں میں اپنی آواز کی قوت محسوس کر اسکتے ہیں “کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان کوعملی میدان میں مسئلہ فلسطین کےلئے اقدامات کو مزید تیز کرنا ہوگا ۔قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے زور دیتے ہوئے کہاکہ اسلامی تعاون تنظیم سمیت انسانیت دوست ریاستوں کو ساتھ ملا کر سیاسی، سفارتی، پارلیمانی کوششوں کے ذریعے بھارت و اسرائیل اور ان کے پشت پناہی کرنیوالے ممالک پر دباﺅ بڑھایا جائے اگر یہ جارح ریاستیں بازنہ آئیں تو پھر اس اتحاد کے ذریعے سیاسی، سفارتی، پارلیمانی اور تجارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ کیا جائے جب تک اس طرح کے عملی اقدامات نہیں اٹھائے جاتے اس وقت تک غاصب و ظالم ریاست اور اس کے پشت پناہوں سے مظلوموں کو حقیقی معنوں میں ریلیف مل سکتاہے نہ ان خطو ں کے عوام کو آزادی کی صبح نصیب ہوسکتی ہے۔