• حساس نوعیت کے فیصلے پر سپریم کورٹ مزیدوضاحت جاری کرے ترجمان قائد ملت جعفریہ پاکستان
  • علامہ شبیر میثمی کی زیر صدارت یوم القد س کے انعقاد بارے مشاورتی اجلاس منعقد
  • برسی شہدائے سیہون شریف کا چھٹا اجتماع ہزاروں افراد شریک
  • اعلامیہ اسلامی تحریک پاکستان برائے عام انتخابات 2024
  • ھیئت آئمہ مساجد و علمائے امامیہ پاکستان کی جانب سے مجلس ترحیم
  • اسلامی تحریک پاکستان کے سیاسی سیل کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا
  • مولانا امداد گھلو شیعہ علماء کونسل پاکستان جنوبی پنجاب کے صدر منتخب
  • اسلامی تحریک پاکستان کے زیر اہتمام فلسطین و کشمیر کانفرنس
  • ملک کا امن شرپسندوں اور دہشتگردوں کے خاتمے میں مضمر ہے، علامہ شبیرمیثمی
  • اسلامی تحریک پاکستان کا ویڈیو لنک اجلاس اہم فیصلہ جات

تازه خبریں

مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے عملی اقدامات کی جانب بڑھنا ہوگا، قائد ملت جعفریہ پاکستان

مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے عملی اقدامات کی جانب بڑھنا ہوگا، قائد ملت جعفریہ پاکستان

مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے عملی اقدامات کی جانب بڑھنا ہوگا، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد نقوی
پلاننگ کے تحت فلسطینیوں کو اپنی سرزمین سے بے دخل کرکے غاصب ریاست کو توسیع دی جارہی ہے ، قائد ملت جعفریہ
مذمتی قراردادیں وبیانات خوش آئند، عملی اقدامات کے بغیر مظلوموں کو حق ملنا ممکن نہیں ،فسلطین سے اظہار یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر پیغام
  راولپنڈی /اسلام آباد29نومبر 2022ء (   جعفریہ پریس پاکستان  )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 29نومبر فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر کہاکہ مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے عملی اقدامات کی جانب بڑھنا ہوگا، پلاننگ کے تحت فلسطینیوں کو اپنی سرزمین سے بے دخل کرکے غاصب ریاست کو توسیع دی جارہی ہے ،مذمتی قراردادیں وبیانات خوش آئند، عملی اقدامات کے بغیر مظلوموں کو حق ملنا ممکن نہیں ،منظم و مضبوط پالیسی بنائے بغیر اسرائیل کے مظالم نہیں رُکیں گے اسرائیل فلسطین میں ظلم کی تمام حدیں پار کرچکاہے ۔ قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے 23 مارچ 1940ءکو قرارداد پاکستان کے ساتھ قرارداد فلسطین کی منظوری اور اس کے علاوہ بانی پاکستان کے 27اگست 1948ءکے بیان ”ہم یکساں طورپر خطرناک اور کٹھن دور سے گز رہے ہیں ہم اپنے اسلامی اتحاد کے ذریعے ہیں دنیا کے مشورہ خانوں میں اپنی آواز کی قوت محسوس کر اسکتے ہیں “کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان کوعملی میدان میں مسئلہ فلسطین کےلئے اقدامات کو مزید تیز کرنا ہوگا ۔انہوں نے مزید کہاکہ کہ سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزر گیا ، سب کچھ بدل گیا، مگر آج بھی فلسطینی ظلم وستم کی چکی میں پس رہے ہیں اور نام نہاد عالمی منصفوں کی دوغلی پالیسیوں کی بھینٹ چڑھ رہے ہیںمگر عالمی ادارے انسانی حقوق کے نام پر اپنے مفادات کی خاطر اقدامات کرتے ہیں مگر جن مظلوم خطوں کو زیادہ توجہ کی ضرورت ہے وہاں ظالموں ، آمروں اور جابروں کی پشت پناہی کرتے ہیں ۔ ہم عالمی سامراج کی سرپرستی میں صیہونی فوج کی جانب سے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیںاور مشرق وسطیٰ کے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے عالمی قوتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مسئلہ فسلطین فلسطینیوں کی اُمنگوں کے مطابق حل کیا جائے ۔مسلسل فلسطینی عوام پر ظلم و ستم کا سلسلہ تاحال جاری ہے ان کی بستیوں کو مسمار کرکے کھنڈرات میں تبدیل کردیاگیاہے، خواتین ، بچوں اور بزرگ شہریوں پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں یہ سب ایک پلاننگ کے تحت، ناجائز اسرائیلی ریاست کو دوام بخشنے کےلئے ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں جب تک عالمی سطح پر منظم اور مضبوط موقف کےساتھ فلسطینی ریاست کی اصل حالت میں بحالی کےلئے مضبوط پالیسی مرتب نہیں کی جاتی اس وقت تک اسرائیل مزید خونخوار، ظالم اور فلسطینیوں پر اپنی ہی زمین تنگ کرکے ان پر مظالم کی سیاہ رات کو مزید طول دے گا اور درندگی کا مظاہرہ کر تا رہے گا۔