• علامہ شبیر حسن میثمی کی اسپیکر قومی اسمبلی
    راجہ پرویز اشرف سے اسپیکر چیمبر میں ملاقات
  •  متنازعہ فوجداری ترمیمی بل کو یکسر مستردکرتے ہیں ، شیعہ علماءکونسل پاکستان
  • متنازعہ ترمیمی بل: علماء و ذاکرین مشاورتی اجلاس کل کراچی میں منعقد ہوگا
  • مقدس کتاب قرآن مجید کی بے حرمتی ی شدید مذمت کرتے ہیں سید راشد حسین نقوی
  • بزرگ علمائے تشیع نے متنازعہ ترمیمی ایکٹ کو مسترد کردیا اعلامیہ جاری
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان ضلع ملتان کا ورکر کنونشن منعقد ہوا جس میں مولانا اعجاز حسین بھشتی ضلی صدر ملتان منتخب ہوئے
  • شیعہ علماء کونسل کی زیر نگرانی متنازعہ بل کے سلسلے میں مختلف جماعتوں کا اجلاس
  • علامہ اسد اقبال زیدی کا ضلع دادو کادورہ اسلامی تحریک کے کارکنان سے ملاقات
  • توہین کے متنازعہ بل کو مسترد کرتے ہیں علامہ رمضان توقیر
  • قومی اسمبلی میں متنازعہ قانون سازی کو مسترد کرتے ہیں جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان

تازه خبریں

مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے عملی اقدامات کی جانب بڑھنا ہوگا، قائد ملت جعفریہ پاکستان

مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے عملی اقدامات کی جانب بڑھنا ہوگا، قائد ملت جعفریہ پاکستان

مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے عملی اقدامات کی جانب بڑھنا ہوگا، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد نقوی
پلاننگ کے تحت فلسطینیوں کو اپنی سرزمین سے بے دخل کرکے غاصب ریاست کو توسیع دی جارہی ہے ، قائد ملت جعفریہ
مذمتی قراردادیں وبیانات خوش آئند، عملی اقدامات کے بغیر مظلوموں کو حق ملنا ممکن نہیں ،فسلطین سے اظہار یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر پیغام
  راولپنڈی /اسلام آباد29نومبر 2022ء (   جعفریہ پریس پاکستان  )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 29نومبر فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر کہاکہ مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے عملی اقدامات کی جانب بڑھنا ہوگا، پلاننگ کے تحت فلسطینیوں کو اپنی سرزمین سے بے دخل کرکے غاصب ریاست کو توسیع دی جارہی ہے ،مذمتی قراردادیں وبیانات خوش آئند، عملی اقدامات کے بغیر مظلوموں کو حق ملنا ممکن نہیں ،منظم و مضبوط پالیسی بنائے بغیر اسرائیل کے مظالم نہیں رُکیں گے اسرائیل فلسطین میں ظلم کی تمام حدیں پار کرچکاہے ۔ قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے 23 مارچ 1940ءکو قرارداد پاکستان کے ساتھ قرارداد فلسطین کی منظوری اور اس کے علاوہ بانی پاکستان کے 27اگست 1948ءکے بیان ”ہم یکساں طورپر خطرناک اور کٹھن دور سے گز رہے ہیں ہم اپنے اسلامی اتحاد کے ذریعے ہیں دنیا کے مشورہ خانوں میں اپنی آواز کی قوت محسوس کر اسکتے ہیں “کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان کوعملی میدان میں مسئلہ فلسطین کےلئے اقدامات کو مزید تیز کرنا ہوگا ۔انہوں نے مزید کہاکہ کہ سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزر گیا ، سب کچھ بدل گیا، مگر آج بھی فلسطینی ظلم وستم کی چکی میں پس رہے ہیں اور نام نہاد عالمی منصفوں کی دوغلی پالیسیوں کی بھینٹ چڑھ رہے ہیںمگر عالمی ادارے انسانی حقوق کے نام پر اپنے مفادات کی خاطر اقدامات کرتے ہیں مگر جن مظلوم خطوں کو زیادہ توجہ کی ضرورت ہے وہاں ظالموں ، آمروں اور جابروں کی پشت پناہی کرتے ہیں ۔ ہم عالمی سامراج کی سرپرستی میں صیہونی فوج کی جانب سے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیںاور مشرق وسطیٰ کے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے عالمی قوتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مسئلہ فسلطین فلسطینیوں کی اُمنگوں کے مطابق حل کیا جائے ۔مسلسل فلسطینی عوام پر ظلم و ستم کا سلسلہ تاحال جاری ہے ان کی بستیوں کو مسمار کرکے کھنڈرات میں تبدیل کردیاگیاہے، خواتین ، بچوں اور بزرگ شہریوں پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں یہ سب ایک پلاننگ کے تحت، ناجائز اسرائیلی ریاست کو دوام بخشنے کےلئے ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں جب تک عالمی سطح پر منظم اور مضبوط موقف کےساتھ فلسطینی ریاست کی اصل حالت میں بحالی کےلئے مضبوط پالیسی مرتب نہیں کی جاتی اس وقت تک اسرائیل مزید خونخوار، ظالم اور فلسطینیوں پر اپنی ہی زمین تنگ کرکے ان پر مظالم کی سیاہ رات کو مزید طول دے گا اور درندگی کا مظاہرہ کر تا رہے گا۔