عالمی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق کشمیر میں سنی اور شیعہ دونوں حساس ہیں۔ دونوں فرقوں کے علمائے دین آج کل مسلکی اتحاد کو مزید مضبوط کرنے میں مصروف ہیں۔ ضلع بڈگام کے ماگام علاقے کے لوگوں نے عبادات کے لیے ایک ہی مسجد کو مخصوص کرکے اس اتحاد کا ایک نادر مظاہرہ کیا۔

ماگام میں شیعہ اور سنی فرقوں سے تعلق رکھنے والے سبھی شہریوں نے ایک ہی مسجد میں نمازوں کا اہتمام کیا ہے۔ یہاں کے لوگ کہتے ہیں کہ یہ اقدام انھوں نے دنیا میں شیعہ اور سنی فرقوں کے درمیان بڑھ رہی کشیدگی کے بعد اس لیے اُٹھایا ہے کہ کشمیر کی شیعہ اور سنی آبادی مسلکی منافرت کا شکار نہ ہوجائے۔

ماگام کی عالیشان تین منزلہ جامع مسجد میں شیعہ، سنی اور دوسرے فرقوں سے وابستہ سبھی مسلمان نہ صرف ایک ساتھ نماز پڑھتے ہیں بلکہ آج کل ایک ساتھ افطار بھی مشترکہ ہوتا ہے۔

مردم شماری کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق کشمیر اور جموں کے بعض علاقوں میں شیعہ آبادی کا تناسب کل ملا کر دس فی صد ہے، تاہم ماہرین کہتے ہیں شیعہ علما اور مبلغین کا کشمیر کی سیاسی، مذہبی اور ثقافتی تارِیخ میں اہم کردار رہا ہے۔ لداخ، کرگل اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر گلگت بلتستان خطوں میں شیعہ اکثریت میں ہیں۔

شعیہ رہنما مولانا عباس انصاری اور آغاحسن بڈگامی علیحدگی پسند تحریک کے اہم رہنماوں میں سے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ گذشتہ ستائیس سال سے کشمیر میں محرم کے دوران عاشورہ کے جلوس پر پابندی ہے، اور جب بھی شیعہ عزادار جلوس نکالنے کی کوشش کرتے ہیں تو پولیس ان کا لاٹھی چارج کرتی ہے۔ سُنی رہنما یاسین ملک عزاداری کی محفلوں میں ہر سال شریک ہوتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here