جعفریہ پریس – ملی یکجہتی کونسل پاکستان کا اہم اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا – ملی یکجہتی کونسل اجلاس میں شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی، ثاقب اکبر، پیر عبد الشکور نقشبندی، مولانا عبد الجلیل نقشبندی، قاضی ظفر الحق، سید شفقت شیرازی، زبیر فاروق، علامہ حیدر علوی، ڈاکٹر عابد رؤف اورکزئی، سید ذاولفقار علی شاہ، ڈاکٹر امتیاز، ابو شریف، عامر صدیق اور دیگر رکن جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی۔اجلاس میں سانحہ شکار پور، حیات آباد پشاور اور راولپنڈی مساجد و امام بارگاہوں پر ہونے والے حملوں نیز ملک کے مختلف علاقوں میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات اور جید علماء کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب میں کونسل کے نائب صدر آصف لقمان قاضی نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل پاکستان جو ملک کی تمام مذہبی جماعتوں اور اداروں کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے ابتداء سے کہتا آیا ہے کہ ملک میں کوئی فرقہ وارانہ جنگ نہیں ہے۔ یہ ادارہ ملک میں مذہبی و مسلکی ہم آہنگی کا سمبل ہے اور ملک میں ہونے والے پے در پے دہشت گردی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے جس میں ملک کے کسی مسلک کا کوئی کردار نہیں بلکہ ملی یکجہتی کونسل پاکستان میں شامل تمام جماعتیں ان واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہیں کہ ان واقعات کے مجرموں کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچائے۔
پریس کانفرنس سے خطاب میں آصف لقمان کا کہنا تھا کہ آج کے اجلاس کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ ہم حکومت اور عوام کو بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے تمام مسلک ان دہشتگردانہ واقعات کے خلاف ہیں اور ان کو کسی طرح بھی اسلام سے ہم آہنگ نہیں سمجھتے۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دہشت گردوں کو نہ صرف پکڑے بلکہ ان کو عوام کے سامنے لایا جائے۔ ہم حکومتی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک پر بھرپور کارروائی کریں اور انھیں بلاامتیاز سزائیں دلوائیں۔ ہم نے اکیسویں ترمیم اور فوجی عدالتوں کی تحفظات کے باوجود حمایت کی تاکہ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو۔ وہ افراد جو شدت پسندی کے مقدمات میں ملوث ہیں کو سزا دے تاکہ عوام کو سکھ کا سانس ملے۔ اس حوالے سے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اپریل کے پہلے ہفتے ہیں تمام مکاتب فکر کے جید علماء پر مشتمل ایک قومی کانفرنس کا انعقاد کریں گے۔ اس کانفرنس میں تکفیر کے خاتمے نیز مسالک کے مابین مکالمے کی بنیاد رکھی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہم سب مسلمان ہیں اور قران و حدیث کی روشنی میں ہم سب آپس میں بھائی ہیں-