ملک میں اتحاد و وحدت کیلئے ہماری جدوجہد جاری ہےشہید ترابی کی برسی پر پیغام

ملک میں اتحاد و وحدت کیلئے ہماری جدوجہد جاری ہے،ساجد نقوی
شہید علامہ حسن ترابی نے صوبہ سندھ میں بے پناہ خدمات کے ساتھ وحدت و اخوت کے پیغام کو پھیلانے میں شب و روز جدوجہد کی، انہی پاکیزہ اہداف کے حصول کی راہ میں درجہ شہادت پر فائز ہوئے، برسی پر پیغام
مسئلہ کشمیر کا پرامن اور کشمیری عوام کی امنگوںکے مطابق حل ضروری، کوئی سمجھوتہ قبول نہیں، قائد ملت جعفریہ پاکستان

راولپنڈی /اسلام آباد13جولائی 2021ء( جعفریہ پریس پاکستان )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ ملک میں اتحاد و وحدت کی بنیاد، اخوت و یگانگت کے فروغ اور داخلی سلامتی و استحکام کیلئے ہماری جدوجہد تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور اس راستے میں قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کئے جاتے رہے ہیں۔ اسی تناظر میں علامہ حسن ترابی نے متواتر اور مسلسل جدوجہد جاری رکھی اور ا اہداف کے حصول اور مشن کی تکمیل کی خاطر اس راہ میں درجہ شہادت پر فائز ہوگئے۔ شہید علامہ حسن ترابی کی 15ویں برسی کی مناسبت سے اپنے پیغام میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ قرآنی و نبوی تصور کے مطابق امت مسلمہ در حقیقت امت واحدہ ہے۔ اس تصور کو اجاگر کرتے ہوئے ہم نے امت مسلمہ کی وحدت کو ایک تنظیم اور نظم کی صورت دے کر اس ملک میں بلکہ برصغیر کی تاریخ میں منفرد اور معتبر فورمز کی تاسیس میں بنیادی کردار ادا کیا۔ جس کے اثرات ملک کے گلی کوچوں تک پہنچے جس کے نتیجے میں نہ صرف اسلامیان پاکستان بلکہ عالم اسلام کسی نہ کسی حوالے سے استفادہ کررہا ہے۔ ان فورمزکے ذریعہ خاص طور پر صوبہ سندھ میں شہید علامہ حسن ترابی نے بے پناہ خدمات سرانجام دیں اور وحدت و اخوت کے پیغام کو پھیلانے میں شب و روز جدوجہد کی ۔انہوں نے مزید کہا کہ شہید کی ملی خدمات، ان کے مشن ،ہدف اور مقصد کو آگے بڑھانے ،ان کی یاد منانے اور حقیقی معنوں میں خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے لازم و ناگزیر ہے ان کے مثبت کردار کو مشعل راہ بنایا جائے ۔ برسی کے اس موقع پر قائد ملت جعفریہ پاکستان نے شہید علامہ حسن ترابی کے خانوادے کی دلجوئی کرتے ہوئے شہید حسن ترابی اور شہدائے ملت کے درجات کی بلندی اور وطن عزیز کے استحکام و سلامتی کی خصوصی دعا کی۔ دوسری جانب 13 جولائی کے واقعہ کے تناظر میں مظلوم کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہاکہ طاقت و جبر کے زور پر کسی قوم کو نہیں دبایا جاسکتا، ڈوگرا راج کے بعد بھارتی نام نہاد جمہوری اور قابض ریاست بھی مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے، مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے، بابائے قوم کے فرمان کے مطابق کشمیر ہماری شہ رگ ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ۔ واضح رہے کہ 13 جولائی 1931کو ڈوگرہ فوج کے ہاتھوں سری نگر میں 22 بے قصور کشمیریوںکو سری نگر جیل کے باہر اس وقت شہید کیا گیا تھا جب یہ عبدالقدیرخان غازی کے خلاف مقدمے پر احتجاج کےلئے جمع ہوئے تھے اور ڈوگرہ فوج نے سری نگر جیل کے باہر موجودکشمیریوں پر اذان دینے پرفائرنگ کردی تھی ۔ بھارتی جارحیت تاحال جاری ہیں کو روکنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔