• تعلیم یافتہ نسل ، ملک و قوم کی ترقی کی ضمانت ہے، علامہ ڈاکٹر شبیرحسن میثمی
  • کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت

تازه خبریں

ملک کسی انتشار کا متحمل نہیں ہوسکتا، بارشوں سے ہونیوالی اموات پر دلی دکھ، حکومت فی الفور ہنگامی اقدامات اٹھائے، قائد ملت جعفریہ

جعفریہ پریس – قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی کا حالیہ بارشوں کے دوران درجنوں افراد کی اموات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ داران دکھی ہم وطنوں کی مدد کیلئے آگے آئیں جبکہ مخیر حضرات بھی دل کھول کراپنا حصہ ڈالیں، ملکی صورتحال میں صبر و تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کیا جائے، ملک کسی نئے بحران، انتشار کا شکار نہیں ہوسکتا ۔
جمعہ کے روز دو روز ہ شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث درجنوں افراد کے جاں بحق ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کوچاہیے فی الفور ہنگامی اقدامات اٹھائے جائیں اور ایسے اقدامات بھی کئے جائیں تاکہ مستقل طور پر سیلابی صورتحال کا مقابلہ کیا جاسکے اور انسانی جانوں کا ضیاع ہونے سے بچا جاسکے۔ انہوں نے اس موقع پر تمام امدادی تنظیموں، انسانی حقوق کے نمائندوں اور مخیر حضرات سے بھی اپیل کی کہ وہ دل کھول کر اپنا حصہ ڈالیں اور اپنے دکھی ہم وطنوں کی امداد کریں تاکہ مصیبت کی اس گھڑی میں ان کی داد رسی ممکن ہوسکے۔ اس موقع پر انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے بھی دلی افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ پوری قوم آپ کے غم میں برابر کی شریک ہے۔
حالیہ ملکی سیاسی صورتحال پر قائد ملت جعفریہ کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی و جمہوری قوتوں کو چاہیے کہ وہ صبر وتحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں، اشتعال انگیز بیانات سے حالات مزید گھمبیر اور خراب ہونگے اور اب پاکستان ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں وہ کسی نئے بحران یا انتشار کامتحمل نہیں ہوسکتا۔ ایسے حالات میں تمام ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ اتحاد و صبر کا مظاہرہ کریں اور مسائل کو مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جائے اور بے جا بیان بازی سے گریز کیا جائے۔