قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی نے تنظیمی کارکنان اور عہدیداران کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم بین الاقوامی سطح پر ایک سوچ رکھتے ہیں ہمارا اپنا ایک طرز اور وژن ہے ہم کسی کے پیچھے نہیں چلتے ان کا مزید کہنا تھا کہ بین الاقوامی سطح پر افغانستان کشیر ،فلسطین،برما،عراق اور پوری دنیا میں کسی جگہ بھی مظلوموں محروموں کے حق میں آواز اٹھاتے ہیں اور یہ ہماری ذمہ داری ہے اسی طرح ملک میں بھی کہیں کوئی سانحہ پیش آتا ہے ہمارا اک انداز ہے اور میں کہتا ہوں تنظیم کو کارکنان کو اس حوالے سے وہ ہی انداز ہونا چاہئے جو ہمارا ہے ہم رابطوں کے زریعہ مسائل کو حل کرتے ہیں احتجاج کرتے ہیں اورضرورت پڑے تو عدالتوں کا دروازہ بھی کھٹکتاتے ہیں جیساکہ آپ کو معلوم ہے کہ اس وقت تحریک جعفریہ کی بحالی کا کیس عدالت میں موجود ہے قائد ملت جعفریہ پاکستان نے موجودہ ملکی سیاسی صورتحال کے حوالے سے کہا کہ جیسا کہ اس وقت ملکی سیاست محاذ آرائی بن چکی ہے سیاست بے ہودگی اور گالم گلوچ کا نام بن چکی ہے تو اس صورت حال میں آپکا انداز کیا ہونا چاہئے آپ کس کے ساتھ کھڑے ہونگے اور ہم کوئی مجبور نہیں ہیں ہمارا اپنا ایک نظریہ ہے اور ابھی ملک میں ڈائیلاگ کی بات ہورہی ہے جس طرح چیئرمین سینٹ نے فریق بتائے ہیں اور ایک ہی صف میں بہت سے نام لے لئے میں سمجھتا ہوں کہ فریق تین ہیں مقننہ،انتظامیہ اور عدلیہ دستور کے اندر جو فریق بتائے گئے ہیں وہ یہ تین ہیں اگر کوئٰ اور فریق شامل ہوگا تو وہ ان تینوں میں سے کسی ایک کا حصہ ہوگا آئین کی روشنی میں ڈائیلاگ کو آگے بڑھائیں تاکہ نتیجہ خیز ہو ان کا مزید کہنا تھاکہ  کہ بعض جماعتوں اور پارٹیوں کی طرف سے باتیں ہورہی ہیں کہ جمہوریت و ملک کو کوئی خطرہ نہیں ہے میں کہونگا کہ جمہوریت ہے کہاں ملک میں جس کو خطرہ ہو ؟قائد ملت جعفریہ پاکستان کا کہنا تھا کہ یہ امتیاز ہمیں حاصل ہے کہ ہم کسی کی بولی نہیں بولتے میں امت مسلمہ کی بولی بولتا ہوں تشیع کی بولی بولتا ہوں میں پاکستان کی زبان بولتا ہوں اس کے علاوہ پاکستان میں زائرین کے حوالے سے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here