نائیجیریابراعظم افریقہ کے 55ممالک میں سے سب سے بڑا 18کروڑآبادی والاملک ہے۔36ریاستوں پرمشتمل یہ ملک یکم اکتوبر1960ء کوبرطانیہ سے آزادہوا۔مغربی افریقہ کاسب سے بڑادریانائیجراِسی ملک سے ہوکرگزرتاہے اوراِسی دریاکے نام پراِس ملک کانام نائیجیریا پڑا۔براعظم افریقہ کے پہلے اوردُنیاکے آٹھویں گنجان آبادملک میں پچاس فیصد مسلمان ، چالیس فیصدعیسائی اورباقی مقامی عقائد رکھنے والے لوگ آبادہیں۔پچاس فیصدمسلمانوں میں دس فیصد شیعہ کمیونیٹی ہے جوپونے دوکروڑکے لگ بھگ بنتی ہے۔تیل پیداکرنے کے حوالے سے دنیاکاآٹھواں بڑا ملک ہونے کے باوجود 64فیصدآبادی غربت کی زندگی گزارنے پرمجبورہے ۔وجہ صرف سامراجی نظام اورتسلط ہے جوتیل تونکال دیتاہے لیکن صاف کرنے کی مشینری مہیانہیں کرتابلکہ اُسی خام تیل کوخودخریدلیتاہے ۔ظلم اور نا انصافی کی حدیہاں تک ہے کہ اِس ملک کے تیل کاپانچواں حصہ صرف ایک ملک امریکہ کو جاتاہے۔انگریزوں کوملک چھوڑے 55 سال ہوگئے پھربھی انگریزی ابھی تک سرکاری زبان ہے ویسے ملک میں حوثا، یوروبا اور اِگبوکے علاوہ پانچ سومقامی زبانیں بولی جاتی ہیں ۔ دنیاکی عظیم دیوارچین جو21ہزارکلومیٹرلمبی ہے کے بعد 16ہزارکلومیٹرلمبی اور18میٹربلند “بَینن دیوار”نائیجیریا میں ہی واقع ہے۔اِس افریقی ملک میں 250نسلی گروہ رہتے ہیں جن کے دلوں میں اِس سے بھی لمبی اوربلند دیواریں باہمی تعلق اوربرادرانہ رشتوں میں حائل ہیں۔یہاں ایک تہائی ریاستوں یعنی بارہ ریاستوں پر شرعی قوانین لاگوہیں پھربھی ایڈزجیسے موذی وائرس کے شکاردنیاکے ممالک میں یہ اسلامی ملک دوسرے نمبرپرآتاہے اورایڈزسے ہونے والی اموات کی شرح میں یہ دنیاکانمبرایک ملک ہے۔صرف پچھلے سال پونے دولاکھ لوگ ایڈزسے ہلاک ہوئے ۔64فیصدغریب ہونے کے باوجود 78فیصدلوگ موبائل فون استعمال کرتے ہیں۔فی کس آمدنی کے حساب سے یہ دنیامیں 158 ویں نمبر پرہے لیکن موبائل اورانٹرنیٹ استعمال کرنے میں یہ دنیا میں 9 ویں نمبرپرہے۔دنیامیں سب سے زیادہ سالانہ فلمیں بنانے کاسہرابولی وڈانڈیاکے بعدنالی وڈنائیجیریاکے ماتھے پرسجاہوا ہے جہاں ایک ہفتے میں مختلف زبانوں میں دوسوفلمیں بنتی اورریلیزہوتی ہیں۔یورپی ممالک، مشرقی ایشیا اورامریکی مارکیٹوں میں ہیروئن اورکوکین کی سمگلنگ کاٹرانزٹ پوائنٹ اورمنی لانڈرنگ کامرکز، کرپشن کاگڑھ اورجرائم کی آماجگاہ بھی یہی ملک ہے۔سولہ سال تک اِس غریب اور پسماندہ ملک پرفوجی آمریت کاقبضہ رہا۔چندماہ پہلے فوجی باقیات سے ریٹائرڈ میجرجنرل محمدو بوحاری جمہوری صدربنے ہیں جن پرامریکی واسرائیلی کاسہ لیسی اورنام نہادخادم حرمین شریفین کے درباری ہونے کاالزام ہے۔
بوکوحرام جیساانسان دشمن ،اسلام دشمن اور داعش کا بیعت شدہ دہشت گردگروہ بھی اِسی ملک کی پہچان ہے جس نے بورنو ریاست کے اکثرعلاقوں پرقبضہ کرکے نام نہاد اسلامی خلافت قائم کررکھی ہے۔مقامی زبان میں بوکوحرام کامطلب “مغربی تعلیم حرام ” ہے۔ابوبکرشیخ اِس کاسربراہ ہے۔جس طرح سے القاعدہ، طالبان ،لشکرجھنگوی اورداعش جیسے مسلح لشکروں نے یہودوہنودوسعودکے آلہ کاربن کر، مسلم اورغیرمسلم کاقتلِ عام کرکے ،حقیقی محمدیؐ اسلام کودنیابھرمیں بدنام اوردُشنام کیاہواہے بالکل اُسی خط اورنہج پر اِس لشکرنے بھی نائیجیریا میں غیر اسلامی اورغیرانسانی کام کاٹھیکہ لے رکھا ہے ۔ جہاں حملہ آورہوتے ہیں ؛گاؤں کے گاؤں اُجاڑ دیتے ہیں۔مردوں کا قتل عام کرتے ہیں اور عورتوں کوکنیزیں بناکراپنے پاس رکھ لیتے ہیں۔ یہ بات حیران کن ہے کہ ایسے لشکراورگروہ اپنے دشمن مردوں کوکافر،نجس اورپلیدسمجھ کر اُن کوتوقتل کردیتے ہیں لیکن عورتوں کوکافر،نجس اورپلیدسمجھ کرقتل نہیں کرتے بلکہ اُن کے حرام زندہ گوشت کونوچنے کیلئے مال غنیمت سمجھ کرآپس میں بانٹ لیتے ہیں۔یہی بوکوحرام گروہ بھی اپنے لئے اورملک میں مغربی عیسائی تعلیم کوتوحرام سمجھتا ہے لیکن عیسائی لڑکیوں کواپنے لئے اورملک کیلئے حرام نہیں سمجھتا۔ پچھلے سال عیسائی سکول کے ہاسٹل پردھاوابول کر280 نوجوان لڑکیوں کواغواکرلیااورعالمی دباؤ کے باوجودآج تک واپس نہیں کیابلکہ مزید68لڑکیوں کوایک اورعلاقے سے اغواکیاگیا۔ حالانکہ ابوبکرشیخ کوایڈز، فحاشی،عریانی،فلمیں،غربت ،کرپشن ، منشیات اورجہالت کے خلاف جہادکرناچاہیے تھامگر اِس پیٹ مردودکاکیاکریں اِسے بھی توبھرناہے چاہے وہ دوزخ کی آگ ہی کیوں نہ ہو۔مغرب استعمارکی بھی ہمیشہ یہی کوشش اورپالیسی رہی ہے کہ جہاں تیل ہویامفادوابستہ ہوں؛وہاں اسلام کے لبادے میں کرائے کے مزدورہائر کرکے یابھیج کراسلام اورمسلمانوں کاامیج خراب کیاجاتاہے،مذہبی نفرت پیداکی جاتی ہے، عوام کاقتل عام کرا کر حالات خراب کئے جاتے ہیں اورپھروہاں پہنچ کریادوربیٹھ کرملکی اور عوامی وسائل اورذخائر پرہاتھ صاف کئے جاتے ہیں۔
چند عشرے پہلے حضرت بلا لؓ حبشی اورحضرت جونؓ حبشی کے سچے حُب داروں اور بی بی فضہؓ کی باپردہ کنیزوں نے نمائندہ ولی فقیہ علامہ شیخ ابراہیم یعقوب زکزکی کی مدبرانہ قیادت میں گیس ،تیل اورمعدنیات سے مالامال ملک سے پسماندگی ،غربت، کرپشن، دہشت گردی،فحاشی اوریہودوسعودکی غلامی سے نجات حاصل کرنے کامصمم ارادہ کیا۔مدینۃ العلم اورباب العلم کے پیروکاروں کویہ علم تھاکہ تمام تربرائیوں سے نجات حاصل کرنے کاواحدذریعہ علم ہے۔پس اُنہوں نے شیخ زکزکی کی سرپرستی میں نائیجیریاکے شمالی علاقوں میں فدئیہ پرائمری اورسیکنڈری سکولزکی بنیادرکھی ۔فدیومقامی زبان میں عالم فاضل کوکہتے ہیں جو تین سوسال پہلے سکوٹوکی سلطنت نے اُن کے ایک بزرگ شیخ محمدکوقانونی واسلامی علم کاماہرہونے پریہ لقب عطاکیاتھا۔یہ کاوش رنگ لائی اور شمالی نائیجیریامیں اب تین سوسے زیادہ تعلیمی ادارے علم کی روشنی پھیلا رہے ہیں اوراِنہیں اداروں کی برکت سے نائیجیریامیں اہل تشیع کوتعلیم یافتہ اورمہذب تصورکیاجاتاہے۔شیخ زکزکی 1980ء کے عشرے میں 9سال تک فوجی حکمرانی میں سول نافرمانی کے الزام میں سیاسی قیدی رہے ۔مختلف اسلامی کانفرنسز اور سیمینارز میں شرکت کیلئے امریکہ،روس،برطانیہ،سعودی،لبنان،ایران اوربہت سے افریقی ممالک کاسفرکرچکے ۔اب اُن کی عمر63سال ہے اوراُن کی نگرانی میں ڈیلی المیزان اخبار، اکیڈمک فورم،سسٹرزفورم،وسائل فورم،شہداء فائڈیشن،اِسمامیڈیکل کیئر سنٹرز ، اسلامی تحریک پروڈکشن ، اسلامی تحریک پبلیکیشن ، مدرسہ،شعراء ،گارڈزجیسے ادارے قوم کی شب وروزخدمت میں مصروف بہ عمل ہیں۔
سانحہ زاریاجو13,12اور14دسمبرکوپیش آیا؛امام بارگاہ بقیتہ اللہ میں امام رضا علیہ السلام کی مناسبت سے پروگرام جاری تھا۔ فوج نے راستہ بلاک کرنے ، آرمی چیف کے کانوائے کونہ گزرنے دینے اورآرمی چیف کوہلاک کرنے کابہانہ کرکے نہتے اورپرامن عزاداروں پرفائرکھول دیا ۔پھردس کلومیٹردورنمائندہ ولی فقیہ شیخ یعقوب ابراہیم زکزکی کے گھرکامحاصرہ کیا،گھرکوآگ لگائی اورفائرنگ کر کے اُن کے تین جواں سال بیٹے حماد (17سال) ، علی(15سال)اورحُمید(13سال) اور بڑی بہن حاجیہ فاطمہ یعقوب کوشہید کردیا ۔شیخ یعقوب ابراہیم زکزکی کے سات بیٹے تھے جن میں سے چھ شہیدہوچکے۔پچھلے سال یوم القدس کے جلوس پرفوج کی فائرنگ سے 23 مظاہرین شہیدہوئے تھے جن میں شیخ زکزکی کے تین جوان سال بیٹے احمد (22سال) طالب علم کیمیکل انجینئر فائنل ائر، حمید (20سال)طالب علم ایروناٹیکل انجینئر اورمحمد(18سال)طالب علم المصطفی یونیورسٹی بیروت لبنان بھی شامل تھے۔اب صرف ایک بیٹامحمدابراہیم دوبیٹیاں نُصیبہ اورسُہیلہ زندہ ہیں لیکن محمد ابراہیم اورسہیلہ اپنے والدین سمیت فوج کے ہاتھوں گرفتارہیں۔اِس سانحہ میں ایک ہزارسے زیادہ افرادکی شہادت کی اطلاع ہے جن میں شیخ ابراہیم یعقوب زکزکی کے نائب محمد طوری بھی شہداء میں شامل ہیں ۔اِس فوجی یلغارمیں زخمی حالت میں گرفتاری کے وقت شیخ زکزکی نے وہیں موجودلوگوں کوبتایاتھاکہ اُن کی دونوں آنکھوں اورکاندھے میں گولیاں لگی ہوئی ہیں۔ فوج کی سفاکیت ،بربریت اورنفرت کااندازہ اِسی بات سے لگایاجاسکتاہے کہ شیخ زکزکی جیسی محترم ،معتبراورمعززشخصیت کو شدید زخمی حالت میں ہاتھ والی ریڑھی پرڈال کرفوجی بیرک میں منتقل کیاگیا۔بعدمیں امام بارگاہ ،فدئیہ اسلامک سنٹر،دارالرحمہ قبرستان اورشیخ زکزکی کے گھر کومسمارکرکے اُس پرفوجی باڑلگادی گئی ۔شیخ زکزکی کی والدہ کے مزارکوبھی زمین بوس کردیاگیا۔مقامی شاہدین کے مطابق فوجیوں میں سفید فام فوجی بھی شامل تھے جویہودی تھے یاسعودی تھے ۔ شیخ زکزکی کچھ عرصہ پہلے اس بارے میں مطلع کرچکے تھے ہماری فوج سعودی امدادپر یہودیوں سے تربیت لے رہی ہے۔اِس عظیم سانحے پرملک کے مختلف شہروں اورگاؤں میں مظاہرے کئے گئے لیکن کادوناشہرمیں مظاہرین پرپولیس نے فائرنگ کردی ۔جس سے موقع پرتین مظاہرین شہیداوردرجنوں زخمی ہوگئے۔سینکڑوں مظاہرین اور زخمیوں کو گرفتار کر لیا گیا ۔ گورنرناصرالرفائی کی طرف سے کادوناریاست میں جلسے جلوس اوراحتجاج پر پابندی لگاکرجیلوں میں تشددہوا ۔جیل میں طبی امداد مہیا نہ کرکے اورمزیدتشددکرکے 10مظاہرین کوجیل میں شہیدکیاجاچکاہے۔
اِس انسانی ظلم اورتوہین پرنائیجیریاسمیت پوری دنیامیں احتجاج اورمظاہرے ہوئے اورہورہے ہیں ۔ایرانی صدرڈاکٹرحسن روحانی نے ہم منصب نائیجیرین صدرمحمدو بوہاری کوفون کرکے جلدازجلدشیخ زکزکی کوغیرمشروط طورپررہاکرنے اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کامطالبہ کیا۔ایرانی پارلیمنٹ کے تمام 214 معزز اراکین نے نائیجیریامیں ہونے والی فوجی دہشت گردی پرتشویش کا اظہار اور بھر پور مذمت کی ۔ عراق میں اسلامی سپریم کونسل کے صدرعمارالحکیم، شیعہ ملیشیاکے سربراہ سیدمقتدی الصدر، ایران کے آیت اللہ جعفرسبحانی،آیت اللہ مکارم شیرازی،علی اکبرولایتی نے بھی اپنے غم وغصہ اور تحفظات کااظہارکیا۔پاکستان سے قائدملت جعفریہ،نمائندہ ولی فقیہ ا ور اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ علامہ سیدساجدعلی نقوی نے اِس قتلِ عام کوغیراسلامی، غیرانسانی اوربربریت قراردیااورشیخ زکزکی کوتعزیت وتسلیت پیش کی۔ملکی صدر، وزیراعظم ،اقوام متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل،اوآئی سی،انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کمیشن ، ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان اورنائیجیرین سفارت خانے کوشیخ زکزکی کی جلدرہائی اورسانحہ زاریاپر آوازبلندکرنے کے خطوط ارسال کئے۔
اِس فوجی بربریت اورسفاکیت پر نائیجیرین ریاست سکوٹوکے سلطان اورنائیجیرین سپریم کونسل فاراسلامک افیرزکے سربراہ محمدسعدابوبکرنے سانحہ زاریاپر 2سومذہبی سکالرز، سابق آرمی چیفس، آئی جیز اورسیکورٹی افسران کومدعوکیا۔اِس اعلی سطحی اجلاس نے فوجی بربریت کی شدیدمذمت کی اورسات رکنی کمیٹی بنائی جس نے آرمی چیف توقربراطائی ، شیخ یعقوب ابراہیم زکزکی اوردوسرے رہنماؤں سے مل کراس مسئلے کی تہہ تک پہنچ کراصل ذمہ داروں کوانصاف کے کٹہرے میں لاناہے۔نائیجیرین سینٹ نے اِس انسانی قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے چیرمین احمد لوآن کی سربراہی میں 16 رکنی ایڈہاک کمیٹی بنائی ، جوآرمی چیف توقربراتائی، شیخ ابراہیم یعقوب زکزکی اوراسلامی تحریک نائجیریا کے رہنماؤں سے ملاقات کرے گی اور4ہفتوں میں سینٹ کورپورٹ پیش کرے گی۔نائیجیرین قومی اسمبلی نے بھی اِس قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے آرمی چیف ، انٹیلی جنس اورسیکورٹی افسران کو جواب دہی اوراسلامی تحریک کے سربراہان سے اُن کاموقف جاننے کیلئے قومی اسمبلی میں بلایاہے ۔سوشلسٹ پارٹی آف نائیجیریانے آرمی چیف کے استعفی کامطالبہ کیاہے۔ اُنہوں نے کہاکہ فوج کے ہاتھوں پرامن شہریوں کاقتل عام ایک غیرجمہوری اورجابرانہ عمل ہے۔ اُنہوں نے کادوناریاست کے گورنرکی طرف سے احتجاج اورجلسے جلوسوں پر پابندی کی بھی مذمت کی اورکہاکہ وہ اسلامی تحریک نائیجیریا کے پرامن پروگرام کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ یہ اُن کاانسانی اوربنیادی حق ہے۔نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن نائیجیریاکے ایگزیکٹوسیکرٹری پروفیسر بیم انگو نے دعوی کیاہے کہ ان کی کوششوں سے اسلامی تحریک کے 51 رہنماء اورکارکنان کو رہائی ملی ہے۔
دیکھنایہ ہے کہ یہودوسعودکوخوش کرنے کی خاطر جوانتہائی قدم اٹھایاگیا،اُس پرسکوٹوسلطان کی قائمہ کمیٹی اورسینٹ کی قائمہ کمیٹی کہاں تک انصاف دِلاپاتی ہیں؟ملک کے کونے کونے میں جاری پرامن مظاہرے اورشہداکاخون کیارنگ لاتاہے؟عالمی باضمیررہنماؤں کی آوازِحق ملکی سیاست پرکیانتائج مرتب کرتی ہے؟انسانی حقوق کی مقامی ، اسلامی اوربین الاقوامی تنظیمیں شیخ زکزکی ، اُن کے اہل خانہ ،رہنماؤں اورکارکنان کوکب زندان سلاسل سے رہائی دلاتی ہیں؟دیکھنایہ بھی ہے کہ قومی اسمبلی کتنی طاقتورہے کہ وہ حاضر آرمی چیف سے جواب طلبی کرسکے ؟ مختلف سیاسی جماعتوں کے اتحادسے بنی حکومت کے صدراِس سانحہ کی کب مذمت کرتے ہیں جنہوں نے ابھی تک فوجی ظلم کی تو مذمت نہیں کی لیکن عیسائیوں کوکرسمس کی مبارکباددے دی ہے کیونکہ ایک تووہ خودریٹائرڈمیجرجنرل ہیں اوردوسراآلِ یہودوسعودکے دوست بھی ہیں۔سانحہ زاریاپر سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیزنے نائیجیرین صدرکو دہشت گردوں(شیعہ مسلم)کے خلاف ہرقسمی مدداور حمایت کاتویقین دلایالیکن غربت ،ایڈزاوربوکوحرام جیسی کئی لعنتوں کے خلاف کسی قسم کی یقین دہانی نہیں کرائی جوایک ناسورکی طرح اِس قدرتی گیس اورتیل کی دولت سے مالامال ملک کے مستقبل اورقسمت کوبرسوں سے مفلوج کررہے ہیں۔یادرہے کہ سعودی عرب کی طرف سے دہشت گردی (شیعہ مسلم ) کے خلاف بنائے گئے نام نہاد34ملکی اسلامی فوجی اتحادمیں پاکستان کی طرح نائیجیریابھی ثواب دارین حاصل کرنے کیلئے شامل ہے اورشیعہ مسلمانوں پرپہلاوار سانحہ زاریاکی صورت میں کردیاگیاہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here