• علامہ شبیر حسن میثمی کی اسپیکر قومی اسمبلی
    راجہ پرویز اشرف سے اسپیکر چیمبر میں ملاقات
  •  متنازعہ فوجداری ترمیمی بل کو یکسر مستردکرتے ہیں ، شیعہ علماءکونسل پاکستان
  • متنازعہ ترمیمی بل: علماء و ذاکرین مشاورتی اجلاس کل کراچی میں منعقد ہوگا
  • مقدس کتاب قرآن مجید کی بے حرمتی ی شدید مذمت کرتے ہیں سید راشد حسین نقوی
  • بزرگ علمائے تشیع نے متنازعہ ترمیمی ایکٹ کو مسترد کردیا اعلامیہ جاری
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان ضلع ملتان کا ورکر کنونشن منعقد ہوا جس میں مولانا اعجاز حسین بھشتی ضلی صدر ملتان منتخب ہوئے
  • شیعہ علماء کونسل کی زیر نگرانی متنازعہ بل کے سلسلے میں مختلف جماعتوں کا اجلاس
  • علامہ اسد اقبال زیدی کا ضلع دادو کادورہ اسلامی تحریک کے کارکنان سے ملاقات
  • توہین کے متنازعہ بل کو مسترد کرتے ہیں علامہ رمضان توقیر
  • قومی اسمبلی میں متنازعہ قانون سازی کو مسترد کرتے ہیں جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان

تازه خبریں

نصابی مضامین کو مشترکات پر مرتب کرکے تعلیم کو اندرونی و بیرونی تنازعات سے بچایا جاسکتاہے

نصابی مضامین کو مشترکات پر مرتب کرکے تعلیم کو اندرونی و بیرونی تنازعات سے بچایا جاسکتاہے،قائد ملت جعفریہ پاکستان ساجد نقوی
تعلیم سب کےلئے عمدہ نعرہ مگر آج تک ایام منانے کے سوا کوئی عملی اقدام نہ اٹھایا جا سکا، قائد ملت جعفریہ پاکستان کاپیغام
راولپنڈی /اسلام آباد09 ستمبر 2022ء ( جعفریہ پریس پاکستان)قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں ”تعلیم سب کےلئے “ نعرہ بہت عمدہ مگر آج تک اس پر عملدرآمد نہیں ہوا،تعلیم یا طالب علموں کو تنازعات جیسے موضوعات سے عالمی ایام مختص کرنا احسن اقدام البتہ کچھ عملی اقدامات بھی ضروری ہیں، تعلیم پر حملہ صرف بیرونی سطح پر نہیں بلکہ نصاب تعلیم کی تدوین کے ذریعے بھی کئے جاتے ہیں، تعلیمی نصاب میں من مانی اور مرضی کا نصاب مسلط کرنا بھی حملوں کے مترادف ہے، عصری تقاضوں، علاقائی و ملی عوامل پر مشتمل نصاب تعلیم انتہائی اہمیت کا حامل ہے،عالمی و ملکی سطح پر تمام نصابی مضامین کو مشترکاة پر مبنی کرکے نظام تعلیم کو بہتر اور تنازعات سے بچایا جاسکتاہے، پاکستان میں تعلیم کےلئے مختص کردہ بجٹ انتہائی کم ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوںنے 2020ءسے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے متفقہ فیصلے کے تحت منائے جانیوالے عالمی دن ”تعلیم کو حملوں اور تنازعات سے بچانے کےلئے عالمی یوم “ پر اپنے پیغام میں کیا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ تعلیم سب کےلئے نعرہ بہت عمدہ مگر آج تک اس پر عملدرآمد نہیں ہوا، بشمول پاکستان دنیا میں کروڑوں بچے زیور تعلیم سے محروم ہیں جس سے مقامی حکومتوں کے ساتھ ساتھ عالمی اداروں کی عدم توجہی بھی شامل ہے، دن تو منایا جارہاہے مگر جنگ زدہ علاقوں شام، افغانستان، یمن، لیبیا ،افریقہ اور میانمار میں آج بھی کروڑوں بچے جہالت کے گھپ اندھیرو ں میں ڈوبے علم کی روشنی کے منتظر ہیں، حالیہ سیلاب نے پاکستان میں بھی جہاں دیگر کئی شعبوں کو متاثر کیا وہیں تعلیمی اداروںکی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے، تعلیم یا طالب علم پر صرف حملہ بیرونی نہیں نصاب کی شکل میں اندرونی سطح پر بھی ہوتے ہیں کہ جب اس کی تدوین کسی خاص زاویے یا نظریہ کے تحت کرکے اسے مسلط کیا جائے یہ بھی تعلیم پر حملوں کے زمرے میں آتاہے، عصری تقاضوں، علاقائی و ملی عوامل پر مشتمل نصاب تعلیم انتہائی اہمیت کا نہ صرف حامل ہے بلکہ آج دنیا اور خصوصاً پاکستان کو ایسے نصاب تعلیم کی ضرورت ہے جس سے نوجوان نسل کو تعلیم یافتہ کے ساتھ ساتھ ہنر مند اور بہترین شہری بنانے کےلئے بنیادی کردار ادا کیا جاسکے اور یہ تبھی ممکن ہے جب نصابی تعلیم میںمشترکاة پر مبنی نصاب تعلیم تدوین کیا جائےگا، تعصبات و تنازعات سے پاک نصاب تعلیم مرتب کیا جائےگا اسی کی ضرورت بین الاقوامی سطح پر بھی ہے تاکہ تہذیبوں کے ٹکراﺅ کو کم ترین سطح پر لایا جاسکے ۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ آج بھی پاکستان میں شرح خواندگی بمشکل 50فیصد سے کچھ بہتر ہے جوغیر تسلی بخش ہے اس کےلئے تعلیم کا سالانہ مختص کیا جانیوالا بجٹ ناکافی اور اس سلسلے میں مزید اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ زیور تعلیم سے محروم بچوں کو علم کی دولت سے آراستہ کرنے کےلئے اقدامات اٹھائے جاسکیں۔