پولنگ ایجنٹوں کو گنتی کے دوران باہر نکالنا الیکشن قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے ۔ متحدہ مجلس عمل
پولنگ ایجنٹوں کو گنتی کے دوران باہر نکالنا الیکشن قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے ۔ متحدہ مجلس عمل

پولنگ ایجنٹوں کو گنتی کے دوران باہر نکالنا الیکشن قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے ۔ متحدہ مجلس عمل

کراچی ؍25جولائی2018ء:صدر متحدہ مجلس عمل کراچی و جماعت اسلا می کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پریزائڈنگ آفیسرز کی جانب سے ووٹوں کی گنتی کے بعد فارم 45اور46کا نہ دیا جانا الیکشن کے پورے عمل کی شفافیت پر سوالیہ نشان اور بہت بڑا داغ ہے ، پولنگ ایجنٹوں کو گنتی کے دوران باہر نکالنا اور بیلٹ پیپر دکھائے بغیر گنتی میں شمار کرنا سادہ کاغذ پر نتائج دینے پر اصرار کر نا الیکشن قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور دھاندلی کے مترادف ہے ، انتخابات سے قبل پر ی پول ریگنگ کی بہت باتیں ہورہی تھیں لیکن آج یہاں پوسٹ پول ریگنگ شروع کردی گئی ہے ، کراچی میں 30سال بعد آزادنہ اور پُرامن ماحول میں انتخابی عمل مکمل ہوا جس پر عوام کے اندر خوشی اور مسرت پیدا ہوئی لیکن فارم 45اور 46کو فراہم نہ کر کے اس ساری خوشی کو خاک میں ملادیا گیا ہے اور الیکشن کے حوالے سے سنگین شکوک و شبہات پیدا ہوگئے ہیں ، ہمارا مطالبہ ہے کہ تمام پولنگ اسٹیشنوں پرفارم 45اور 46جاری کیے جائیں اور پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکالنے اور مذکورہ فارم فراہم نہ کرنے کے عمل کی تحقیقات کرائی جائے ، مجلس عمل مشاورت کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی اور احتجاج سمیت تمام آپشن استعمال کرے گی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے متحدہ مجلس عمل کے دیگر رہنماؤں اور قومی وصوبائی اسمبلی کے امیدواران کے ہمراہ ادارہ نورحق میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ پریس کانفرنس سے مجلس عمل کے رہنما شبیر حسین میثمی اور محمد اسلم غوری نے بھی خطاب کیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ووٹوں کی گنتی کے بعد فارم 45اور 46فراہم نہ کر کے ایک نیا بحران پیدا کردیا گیا ہے جو جمہوریت اور جمہوری عمل کے لیے کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ پولنگ ایجنٹوں کو اندر موبائل لے جانے کی اجازت نہ دینے کی باعث باہر سے رابطہ ممکن نہیں ہوپارہا ،اکثر پولنگ اسٹیشنوں پر خواتین پولنگ ایجنٹ سمیت مرد پولنگ ایجنٹ موجود ہیں اور نتیجہ نہ دینے کے باعث وہ باہر بھی نہیں آپارہے اور بعض پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ ایجنٹوں کو باہر جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ، اس صورتحال میں ہم کیا کریں اور کس سے شکایت کریں۔الیکشن کمیشن اس صورتحال کا ذمہ دار ہے ، وہ اپنی پوزیشن واضح کرے ۔انہوں نے کہاکہ بابر یعقوب کی جانب سے یہ وضاحت کرنا کہ فارم 45دیئے جارہے ہیں درست نہیں اس طرح کے بیانات سے صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ انتخابی عمل میں میڈیا کو کوریج کی اجازت نہ دیے جانا بھی سمجھ سے بالاتر ہے جبکہ دوسری طرف یہ عمل بھی معنی خیز اور ناقابل فہم ہے کہ جب فارم 45فراہم نہیں کیے جارہے تو میڈیا پر انتخابی نتائج کے حوالے سے خبر یں کہاں سے آرہی ہیں اور کون فراہم کررہا ہے ۔شبیر حسین میثمی نے کہاکہ اگر کوئی کسی کا لاڈلہ ہے تو رہے لیکن جن لوگوں نے انتخابات میں حصہ لیا ہے ان کو ان کے نتائج تو فراہم کیے جائیں ۔انہوں نے کہاکہ دن میں الیکشن کمیشن کی 8300کی سروس بھی بند کردی گئی تھی جبکہ 2پارٹیوں کو خصوصی Applicationsکے ذریعے مطلوبہ تفصیلات حاصل کرنے کی سہولت دی جاتی رہی ۔انہوں نے کہاکہ ووٹنگ کے اختتام کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے ماضی کی دھاندلیوں کے ریکارڈ توڑدیے ہیں۔محمد اسلم غوری نے کہاکہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ خدارا کراچی کو دوبارہ آگ میں نہ دھکیلا جائے ، جمہوری عمل اور انتخابات کی شفافیت کو یقینی بنایا جائے ،ہمیں احتجاج کرنے یاسڑکوں پر نکلنے پر مجبور نہ کیا جائے ۔اس موقع پرمجلس عمل کے قومی و صوبائی اسمبلی کے نامزد امیدواران سیف الدین ایڈوکیٹ ، سرور علی اور دیگر بھی موجود تھے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here