• مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس
  • اپنے تنظیمی نظام اور سسٹم کو مضبوط سے مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ورکر کنونشن
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات علمی حلقوں میں خلا مشکل سے پُر ہوگا علامہ شبیر میثمی

تازه خبریں

پہاڑ گنج دھماکے خوف و ہراس کی فضا پیدا کرنے کے لئے کئے گئے ہیں، ہم بم دھماکوں سے گھبرا کر عزاداری امام حسین علیہ السلام کو نظر اندارنہیں کرسکتے،علامہ ناظر عباس تقوی

جعفریہ پریس- کراچی میں دو امام بارگاہوں کے باہر یکے بعد دیگرے ہونے والے تین دھماکوں میں نجی ٹی وی کے دو رپورٹرز اور کیمرہ مین سمیت 12 افراد زخمی ہوئے ہیں ۔  میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ کراچی کے علاقے پہاڑ گنج میں امام بارگاہ کے نزدیک وقفے وقفے سے تین دھماکے ہوئے جس میں نجی ٹی وی کے دو رپورٹرز اور کیمرہ مین سمیت 12 افراد زخمی ہوئے ہیں ۔  پہلا دھماکا کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد پہاڑ گنج میں واقع امام بارگاہ ابوالفضل  کے قریب رات 9 بج کر 45 منٹ پر ہوا، بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق دھماکا بلاک بم کے ذریعے کیا گیا جس میں ایک بچے سمیت 2 افراد زخمی ہو گئےاورایک گاڑی کو نقصان پہنچا ہے۔ ،ایس ایس پی پولیس کے مطابق دھماکا شدید نوعیت کا تھا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی، دھماکے کے بعد پولیس کی بھاری نفری اور  میڈیا کے نمائندے موقع پر پہنچ گئے جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بھی طلب کرلیا گیا جس نے تلاشی کے بعد علاقے کو کلیئر کردیا۔  بی ڈی ایس کی جانب سے کلیئرنس کے بعد پولیس اورمیڈیا اہلکار معمول کی کارروائی میں مصروف تھے کہ تقریباً گیارہ بجے نالے کے قریب ایک اور دھماکا ہوگیا ۔ دوسرے دھماکے میں 2 پولیس اہلکار اور نجی ٹی وی کے رپورٹر خضر اور رضا عابدی، کیمرا مین دانش اور نزاکت حسین سمیت 8 افراد زخمی ہوئے۔ جنہیں فوری طور پر عباسی شہید اسپتال منتقل کردیا گیا۔ دونوں دھماکے کنٹرول ڈیوائس سے کئے گئے تھے پہلے دھماکے میں آدھا کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا ۔ جبکہ تیسرا دھماکا نارتھ کراچی سیکٹر الیون بی میں امام بارگاہ کے باہر دستی بم پھینک کر کیا گیا جس کے پھٹنے سے 2 پولیس اہل کار زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا۔  واقعہ کی اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ریسکیو کی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور ایمبیولینسوں کے ذریعے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ دھماکوں کے بعد شہر بھر میں ریڈ الرٹ جاری اورسیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔ گورنر سندھ نے پہاڑ گنج دھاکوں کا نوٹس لے لیا ہے اور آئی جی سندھ سی سی پی او سے رپورٹ طلب کرلی ہے،  گورنر سندھ نے ہدایات جاری کی ہیں کہ مجالس اور جلوس عزا کی سیکورٹی میں کسی قسم کی غفلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ شیعہ علماء کونسل پاکستان نے ان واقعات کی شدید مذمت الفاظ میں مذمت کی ہے، اس موقع پرشیعہ علماء کونسل پاکستان سندھ کے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ ناظر عباس تقوی نے کہا  کہ محرم الحرام کے دوران کراچی کے واقعات جہاں ملک کی بدتر صورت حال کی عکاسی کرتے ہیں وہاں آمدہ  جلوس ھائے عاشور کے حوالے سے خطرات کے الارم کا کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا  کہ میں پہلے بھی واضح کر چکا کہ اگر سیکیورٹی ادارے عزاداری سید الشهداء (ع) کو تحفظ دے سکتے ہیں توصحیح  ہے ورنہ  میدان سے ہٹ جائیں پھر ہم جانیں اور وه دہشت گرد جانیں، جہاں ہم حسین (ع) کے نام پر جان دینا جانتے ہیں وہاں حسین (ع) کے نام پر جان لینا بھی جانتے ہیں- اس حساسیت کے پیش نظر ہماری ذمہ داریوں میں بہت اضافہ ہو جاتا ہے اورعزاداران امام حسین (ع) کو آمادہ و تیار رہنا ہو گا۔ علامہ ناظر عباس تقوی نے کہا  کہ پہاڑ گنج دھماکے  خوف و ہراس کی فضا پیدا  کرنے کے لئے کئے گئے ہیں تاکہ لوگ جلوس ھائے عاشور میں شرکت نہ کرسکیں، مگرہم ہماری قوم کی تو تمنا ہی یہی ہے کہ یاحسین کہتے موت آئے- ہمیں بم دھماکوں سے ہراساں نہیں کیا جاسکتا ہم بم دھماکوں سے گھبرا کر عزاداری امام حسین علیہ السلام کو نظر اندارنہیں کرسکتے بلکہ اس سال جلوس ھائے عزا میں گذشتہ سالوں بڑھ کر مشارکت ہوگی-