جعفریہ پریس – شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے سعودی عرب کے علاقہ دمام میں اہل تشیع کی مسجد کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند ماہ میں دہشت گردی کا تیسرا بڑاواقعہ سعودی حکومت کے لئے لمحہ فکریہ ہے ہم سعودی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے ۔ انہوں نے کہا کہ چند ماہ میں سفاکانہ دہشت گردی کے تین سانحات میں امام بارگاہ کے باہر حملہ میں سات افراد کو شہید کیا گیا،22، مئی کو نما ز جمعہ میں قطیف کی جامع مسجد امیرالمئومنین علی علیہ السلام میں خود کش حملہ میں 21 شہید،جبکہ اب ایک بار پھر جمعتہ المبارک کودمام میں مسجد امام حسین علیہ السلام کے باہر بم دھماکہ میں نمازیوں کو شہید کردیا گیا ہے اس طرح سعودی عرب میں پہ در پہ واقعات سے سعودی عوام میں عدم تحفظ پیدا ہو رہا ہے۔
علامہ عارف حسین واحدی نے مزید کہا کہ یہود و نصاریٰ مسلمان ممالک میں فرقہ واریت کی آگ کو بڑھا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کر نا چاہتے ہیں اس موقع پرہمیں اتحاد و حدت سے ان کے عزائم کو خاک میں ملانا ہو گا۔ فرقہ وارنہ دہشتگردی پھیلانے والے عناصر اسلام کے دشمن ہیں، اتحاد میں ہی اُمہ کی سربلندی ہے۔ اسلام میں انتہاء پسندی اور دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں اور نہ ہی ا ن دہشت گردوں کا امن و آشتی کے مذہب اسلام سے کوئی تعلق ہے انہوںنے کہاکہ اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے ۔ علامہ عارف حسین واحدی نے کہاکہ قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے ہمیشہ اتحاد و وحدت کا درس دیا اور ہم اسی سلسلے کو آگے بڑھا رہے ہیں کیونکہ دنیا میں استحکام اور اسلام کی سربلندی کیلئے اتحاد اُمت ضروری ہے اور فرقہ واریت پھیلانے والے اسلام کے دشمن ہیں ۔