• ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی وقت کی ضرورت ھے۔علامہ عارف واحدی
  • اسلامی تحریک پاکستان کا صوبائی ا نتخابات میں بھرپور حصہ لینے کا اعلان
  • جامعہ جعفریہ جنڈ کے زیر اہتمام منعقدہ عظیم الشان نہج البلاغہ کانفرنـــــس
  • سانحہ پشاور مجرموں کی عدم گرفتاری حکومتوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے، ترجمان قائد ملت جعفریہ ہاکستان
  • سانحہ بسری کوہستان !عشرہ گزر گیا مگر قاتل پکڑے گئے نہ مظلومین کو انصاف ملا،
  • راہِ حسین(ع) پر چلنے کیلئے شہداء ملت جعفریہ نے ہمیں بے خوف بنا دیا ہے۔علامہ شبیر حسن میثمی
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان سندھ کے زیر اہتمام کل شہدائے سیہون کی برسی کا اجتماع ہوگا
  • شہدائے سیہون شریف کی برسی میں بھرپور شرکت کو یقینی بنائیں علامہ شبیر حسن میثمی
  • ثاقب اکبر کی وفات پر خانوادے سے اظہار تعزیت کرتے ہیں علامہ عارف حسین واحدی
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی ثاقب اکبر کے انتقال پر تعزیت

تازه خبریں

ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی ہے۔ قائدِ ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی

ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی ہے۔ قائدِ ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی

ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی ہے۔ قائدِ ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی

آئین کی بالادستی کو یقینی بنا کر کیے گئے فیصلوں سے عوام کا عدلیہ پر اعتماد بحال ہوتا ہے۔ علامہ ساجد نقوی

ماتحت عدالتوں کے لیے یہ فیصلہ مشعل راہ ہے وہ بھی زیر التوا کیسوں میں آئینی بالادستی کو یقینی بناتے ہوئے فیصلے صادر کریں۔ علامہ ساجد نقوی

روالپنڈی / اسلام آباد
7اپریل 2022قائدِ ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے اسپیکر رولنگ کیس میں سپریم کورٹ  کے فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس تاریخی فیصلہ سے ملک میں آئین و قانون کی بالادستی کو فروغ حاصل ہو گا اور ملکی نظام دوبارہ پٹڑی پر آ سکے گا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کی پانچ رکنی لارجر بینچ کی جانب سے قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو غیر آئینی قرار دئیے جانے اور اس کے نتیجے میں قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے جیسے اقدامات کو مسترد کرنے کے فیصلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ آئین کی روح سے کیے گئے فیصلوں سے عوام کا عدلیہ پر اعتماد بحال ہوتا ہے اور حالیہ فیصلہ آئین کی بہتر تشریح کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے ہی مطالبہ کر چکے تھے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے آئین کی بہتر اور واضح انداز میں تشریح ہونی چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ماتحت عدالتوں کے لیے یہ فیصلہ مشعل راہ ثابت ہوگا اور عدلیہ میں ایسے مقدمات جو واضح آئینی بالادستی کے متقاضی ہیں اور التواء کا شکار ہیں کے فیصلے بھی اسی طرح آئینی بالادستی کو یقینی بناتے ہوئے کیے جائیں گے۔ علامہ ساجد علی نقوی نے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو مشورہ دیا کہ وہ ملکی نظام کو آئین کی روح کے عین مطابق چلائیں اور مثبت و اخلاقی سیاسی کلچر کو فروغ دے کر اختلاف برائے اختلاف کے بجائے اختلاف برائے تعمیر کی سیاست کو فروغ دیں۔