تازه خبریں

ڈیرہ اسماعیل خان میں یاسرشاہ اور ناصر شاہ کی شہادت کے بعد مظہر شاہ کی شہادت افسوسناک ہے قائد ملت جعفریہ پاکستان

ڈیرہ اسماعیل خان میں یاسرشاہ اور ناصر شاہ کی شہادت کے بعد مظہر شاہ کی شہادت افسوسناک اور امن و امان کے ذمہ داروں کی کاکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ گذشتہ عید الفطر پر شاہد شاہ ایڈووکیٹ کی شہادت اور اس سال یوم آزادی سے ایک روز قبل ان کے چچا مظہر شاہ کی شہادت کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے۔ ترجمان قائد ملت جعفریہ پاکستان

راولپنڈی/ اسلام آباد۔ 13 اگست2017 ء ( دفتر قائد )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کے مرکزی ترجمان نے گذشتہ دنوں کوئٹہ میں سیکورٹی فورسز پربم حملے اور ڈیرہ اسماعیل خان میں مدرسہ کوٹلی امام حسین کے دو محافظین کی دہشت گردوں کے ہاتھوں شہادت کے بعد اگلے ہی روز اتوار کو گذشتہ سال عید الفطر کے روز شہید ہونے والے ممتاز قانون دان شاہد شاہ کے چچا مظہر شاہ کوعین اس وقت دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بنادیا جبکہ اگلے روز قوم اپنا 70 واں یوم آزادی منانے کی تیاریوں میں پورے جوش و خروش سے مصروف دکھائی دیتی ہے۔ترجمان نے مزید کہاکہ عارضی وقفے کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان جیسے حساس علاقے میں دہشت گردوں کا پھر سے سراٹھانا لمحہ فکریہ ہے۔ دہشت گردی سے متاثرہ عوام شدید احساس عدم تحفظ میں اب بھی آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد کے حوالے سے یہ توقع کررہے ہیں کہ ان سفاک دہشت گردوں اور قاتلوں کو کب قانون کے آہنی شکنجے میں جکڑ کر تختہ دار پر لٹکایا جائے گا تاکہ عوام میں بے چینی اور اضطراب کا خاتمہ ہو اور ان کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایاجاسکے۔قائد ملت جعفریہ کے مرکزی ترجمان نے شہید مظہر شاہ کے لواحقین اور پسماندگان سے دلی دکھ اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اس سانحہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور دہشت گردوں اور قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔