ہم عزاداری کے تحفظ کیلئے اور زائرین کے راستوں کی حفاظت کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں،علامہ شبیر حسن میثمی
میں تو فخر سے یہ بات کہتا ہوں کہ میں اُس قبیلے سے ہوں جس قبیلے سے قائد اعظم محمد علی جناح ہیں،اے قائد اعظم ؒ ماد ر حسین ؑ
کی قسم کھا کر کہتے ہیں ہم عزاداری کے سلسلے میں ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے،تحفظ عزاداری کانفرنس سے خطاب
کراچی ( تحریک نیوز سے) شیعہ علما ء کونسل پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ شبیر حسن میثمی نے تحفظ عزاداری کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے کہاکہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کی برادر عزیز مولانا ناظر عباس تقوی نے قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی کے حکم پر ایک چھوٹی سے تحفظ عزاداری کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں آج ہزاروں مومنین شریک ہیں ۔میں اس کامیاب تحفظ عزاداری کانفرنس کے انعقاد پر ان کی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ علامہ شبیر حسین میثمی کا کہنا تھا کہ ارباب اقتدار تم سمجھتے ہو کہ تم عزاداری پر ایف آئی آرز کاٹو گے تو یہ ڈر جائیں گے غلط سوچتے ہو تم۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے کاموں میں توتھک جاتے ہیں لیکن حسین ؑ کے نام پر نہیں تھکتے۔ ہر مومن کے دل میں ایک دھڑکن ہے۔ کہ محرم کا چاند نظر آئے اور ہم عزاداری شروع کریں۔کچھ لوگ سمجھتے تھے کہ عزاداری محدود کر دیں گے۔ تاکہ لوگ آہستہ آہستہ عزاداری کو چار دیواری میں لے جائیں لیکن انہیں معلوم نہیں کہ عزاداری کو محدود کرنے کیلئے دھماکے کئے جاتے رہے اور ہمارے مومنین عزاداری اور زیادہ اور زیادہ کرتے جا رہے رہے ہیں۔عاشورہ کا دھماکہ ہوا مومنین شہید ہوئے۔ اربعین میں دھماکہ ہوگیا۔ میری بدقسمتی کہ دو چار منٹ سے بچ گیا۔ مومنین شہداء کی مجلس کرتے رہے۔مسجد حیدری، مسجد آل رضا۔گلگت بلتستان کہاں کہاں اور کن کن مقامات کے نام لوں۔ یہ پاکستان ہمارا ملک ہے۔ اے قائد اعظم محمد علی جناح ؒ آپ کی قبر کی طرف احترام سے اشارہ کر کے شکایت کرتا ہوں کہ یہ حکومت سمجھتی ہے کہ یہ ہمارے منہ کوبند کرسکتے ہیں عزاداری امام حسین علیہ السالام کو محدود کر سکتے ہیں ۔اے قائد اعظم ؒ ماد ر حسین ؑ کی قسم کھا کر کہتے ہیں ہم عزاداری کے سلسلے میں ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔’’لبیک یا حسین لبیک یا حسین ؑ کے نعروں سے فضا ء گونج اُٹھی ‘‘میں تو فخر سے یہ بات کہتا ہوں کہ میں اُس قبیلے سے ہوں جس قبیلے سے قائد اعظم محمد علی جناح ہیں۔اور قائد اعظم محمد علی جناح نے نے نہ صرف ہمیں بلکہ تمام عقیدوں والوں کو کہا کہ تم اپنے مسلکی عبادتوں کو آزادی سے سر انجام دے سکتے ہو مجھے حکومت بتائے کیوں انہوں نے پنجاب کے عزاداروں پر ایف آئی آرز کاٹیں ،ارے تم سجھتے ہو کہ تم ہمیں ڈرا لو گے ،میں ایک اور اہم بات کہنا جا رہاہوں اگر سمجھ آئے تو کھڑے وہو کر جواب دینا بیٹھ کر جواب نہ دینا ۔تمام علماء کرام ،علامہ شہنشاہ نقوی ،علامہ ناظر حسین تقوی میری بات کو غور سے سنو !اگر غلط کہہ رہاہوں تو فوراًمجھے ٹو کیے گا ۔نو کر جو ہو تا ہے و ہ آقا کی اطاعت کر تاہے اور اگر آقا کی اطاعت میں نو کر پر پرچہ کٹ جائے تو پرچہ نوکر پر نہیں آقا پر پرچہ کا ٹا ہے ۔ہم رسول اکرم ؐ،انکی بیٹی والدہ حسین ؑ جناب زہرہ اور اہلبیت کے بنائے ہوئے طریقے پر عزاداری کر تے ہیں اپنی طرف سے کچھ نہیں کر تے ،اگر تم نے ہم پر پر چے کاٹے ہیں تو یہ ہم پر نہیں کاٹے بلکہ رسول اکرم ؐ پر کاٹے گئے ہیں ۔یاد رکھیے باب اختیار تم سمجھتے ہوکہ ہماری عزاداریوں کو محدود کرو گے تو کیا تمہیں اس سے کوئی فائدہ ہو گا نہیں عزاداری حسین ؑ وہ چیز ہے جو ہر زمانہ کے ظالموں کو اس طرح روندتا ہے جس طرح بلڈوزر زمین کو روند دیتا ہے ۔بھو ل جاؤ تم عزاداری کو محدود کر سکو گے ۔تم نے زایرین کا راستوں کو اتنا تکلیف دہ بنا یا کہ گرمی کی شدت کے باوجود جارہے ہیں ۔میں واضح طور پر کہ رہا ہوں کہ یہ تمام مطالبات قائدملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی احکامات کی روشنی پر کر رہاہوں کہ اگر زائرین کے راستے کو مسئلہ حل نہیں کیا گیا تو ہم ایسے اقدامات کریں گے جس کو تم تصور بھی نہیں کر سکو گے ،یاد رکھیئے ایک چھوٹی مثال بتاتا چلوں کہ جب کوئٹہ کے مومنین ،کراچی کے مومنین شہید ہو رہے تھے تواُس وقت شیعہ علماء کونسل نے ایک آواز دی تھی لاکھوں کا مجمعہ دھرنوں میں موجود تھا ۔تم سمجھتے ہو کہ میرا قائد قانون کی پابندی کرتاہے اس لئے تم چاہو تو ہماری آواز کو دبا دو نہیں تم ہماری آواز کو نہیں دبا سکتے ہو ۔اس لئے کہ یہ آواز نیابت میں نکل رہی ہے ۔اس لئے کہ یہ آواز غیبت کے زمانے میں امام زمانہ علیہ السلام کی خدمت بھیجی جا رہی ہے ۔اور مومنین عزاداروں آپ سے پو چھ رہا ہوں۔اگ قائد ملت جعفریہ نے دیکھا نمبر 1عدالت کے حکم پر عمل نہیں ہو رہا میرا یہ مظلوم قائد صبر و برداشت کے ساتھ حکومت کو یہ کہہ رہا ہے سمجھ لو سمجھ لو جب سپریم کورٹ نے تمہارے ریفرینس کو خارج کر دیا جس میں تم نے ہمیں کالعدم قرار دیا تھا تو ابھی تک تم نوٹیفکیشن کر نے کیلئے تیار نہیں ہو نمبر 1فوری طور پر چوہدری نثار نوٹیفکیشن جا ری کرئے میں واضح طور پر عرض کروں نوٹیفکیشن فوری طور پر جا ری ہو نا چاہیے نمبر 2اگر عزاداروں کو سلسلے میں امسال بھی ایف آئی آر کاٹی تو پھر کیا ہو گا اس بارے میں مولانا ناظر حسین خود اعلان کریں گے ۔میں نہیں بولنا چاہتا نمبر 3مراد علی شاہ صاحب مُراد علی ہو تم اگر مُراد علی ہو تو پھر مجھے بتاؤ تم عزاداری کی حمایت کرو گے یا یزیدیوں کی حمایت کرو گے ،ہاں سندھ سے آئے ہوئے مومنین یا د رکھیے لاؤڈ سپیکر ایکٹ سے مجلس عزاء کو پچھلے سال مولانا ظر حسین کی محنت اور کاوشو ں سے استثنا ء قرار دیا گیا تھا آج کا یہ مجمعہ بھی یہی ڈیمانڈ کر رہاہے کہ مراد علی شاہ صاحب فوری طور پر عزاداری کی تمام رسومات کو لاؤڈ سپیکر ایکٹ سے مستثنا ء قرا ر دیں ،آپ کو منظور ہے تو فضاء لبیک یا حسین ؑ لبیک یا حسین ؑ کے نعروں سے گونج اُٹھی ۔اب آتے ہیں عزاداری کے تحفظ کے سلسلہ میں ،عزادار ی کے تحفظ دو طریقے سے ہیں ۔یہ نقطہ ضروری ہے ورنہ بات ضائع ہو جائیگی ۔عزاداروں عزادرای کو باہر سے بھی نقصان پہنچایا جا رہاہے اور اندر سے بھی نقصان پہنچایا جا رہاہے ۔اند ر سے کو ن پہنچارہا ہے جو ممبر پر بیٹھ کر وہ باتیں کر تاہے جو باتیں اللہ نے کہ نہ رسول اکرم ؐ نے کی ہیں نہ اہلبیت ؑ نے کی ہیں نہ معصو مین نے کی ہیں نہ علماء نے کی ہیں نہیں معلوم کہ وہ کہاں سے آتے ہیں کون ان کو بلاتا ہے لیکن ہمیں معلوم ہیں ہم نے ان کی لسٹ بنائی ہوئی ہے ،خبر دار ایسے لوگوں کو ایسے غالیوں کو ممبر حسین ؑ پر بیٹھ کر غلط تعلیمات دیتے ہیں یا دوسرے مسلک کے لوگوں کی دل آزاری کرتے ہیں ۔ہم ان کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے ۔آخر میں کہتاہوں کہ اے عزاداروں میرے قائد نے یہ جملہ کہا تھا کہ اس جملہ پر میں آپ سے ایک عہد لیتا ہوں ہوں اور ممبر چھوڑ تا ہوں ۔اور وہ جملہ یہ تھا کہ آپ بہت سے لوگوں نے یہ سنا ہو گا لیکن ہمیں یہ بار بار یا د کر ناہے ۔عزادری کی حفاظت کیلئے ،عزاداری کو برپا کر نے کیلئے پوری عزاداری نہیں بلکہ ایک مجلس کو بارگذار او ر برپا کر نے کیلئے اگر ایک لاکھ قربانیاں دینی پڑیں تو ہم قربانیاں دینے کیلئے حاضر ہیں کے الفاظ پر نشتر پارک کی فضاء لبیک یا حسین ؑ لبیک یا حسین ؑ کے نعروں سے گونج اُٹھی ۔علامہ شبیر حسن میثمی نے کہاکہ قائد محترم آپ جب بھی ہمیں جس جگہ پر آپ بلائیں گے ہم عزاداری کے تحفظ کیلئے اور زائرین کے راستوں کی حفاظت کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں ہماری جان ،مال،اولاد سب آپ کے ایک اشارے کے منتظر ہیں اور کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔