جعفریہ پریس –  گلگت، جامعہ قراقرم میں یوم حسین (ع) کے آفاقی پروگرام پر پابندی عائد کرنے کے خلاف یونیورسٹی طلباء کی جانب سے وائس چانسلر آفس کے سامنے ایک پرامن علامتی احتجاجی کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں طلباء نے شرکت کی۔ احتجاج کے دوران طلباء نے گذشتہ 9سالوں سے منعقد ہونے والے آفاقی پروگرام ’’ یوم حسین (ع) ‘‘ پر پابندی عائد کرنے پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر طلباء کے نمائندہ وفد نے وی سی اور یونیورسٹی انتظامیہ سے مذکرات کئے۔ مذکرات کے بعد وفد کے اراکین نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وی سی اور یونیورسٹی انتظامیہ کی ہٹ دھرمی کے باعث یونیورسٹی کو ایک مرتبہ پھر سیاسی اکھاڑا بنایا جا رہا ہے جو کہ قابل مذمت ہے۔
کمیٹی کے اراکین نے مزید کہا کہ گذشتہ دو ماہ سے یونیورسٹی انتظامیہ سے مذکرات کئے جا رہے تھے اور تمام مکاتب فکر کے طلباء نے اتحاد کا عملی ثبوت دیا تاکہ پرامن طریقے سے یونیورسٹی کے اندر گذشتہ سالوں کی طرح ’’ یوم حسین (ع) ‘‘ کا پروگرام منعقد کیا جا سکے اور علاقے میں اتحاد بین المسلمین کو فروغ دیا جا سکے مگر بدقسمتی سے سازشی عناصر اور شرپسند افراد پروگرام کو متنازعہ بنانے کے درپے ہیں اور یونیورسٹی میں بےجا مداخلت کی کوشش کی جا رہی ہے جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں سال بھر عریانی، فحاشی اور ڈھول ڈھمّکے کے پروگرامات کا انعقاد کیا جاتا ہے جس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا مگر نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پروگرام پر اعتراض کرنا اور یوم حسین (ع) کے پروگرام پر پابندی عائد کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ کمیٹی کے اراکین نے شہر کے معززین، مساجد بورڈ اور علاقے کے مخلص افراد سے اپیل کی کہ وہ یوم حسین (ع) کے انعقاد کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here